tv screen

افواہیں معاشرے میں بے یقینی پیدا کرتی ہیں

EjazNews

ہمارے ہاں بہت سی افواہیں سچ بھی ہوتی ہیں اور اکثر جھوٹ کا پلندہ نکلتی ہیں۔ روز نت نئی خبریں سننے کو ملتی ہیں جن کی صداقت سوالیہ نشان بنی ہوتی ہے ۔ خاص کر ایک میڈیا ہائوس جب خبر نشر کرتا ہے تو اس کی دیکھا دیکھی تمام میڈیا ہائوسز اسی خبر کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔لیکن آج کے دور میں سوشل میڈیا کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس ذریعۂ ابلاغ نے عام افراد کو بھی اظہار کی قوت بخشی ہے اور اب وہ تمام باتیں کہ جنہیں اخبارات اور نیوز چینلز میں جگہ نہیں ملتی، بڑی سہولت سے سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آ جاتی ہیں۔ اب اظہار رائے کو نہیں روکا جا سکتا، کیونکہ ابلاغ کے نت نئے ذرائع دریافت ہو چکے ہیں۔ اگر ایک راستہ بند ہوتا ہے، تو اس اثنا میں کئی دوسرے راستے کھل جاتے ہیں۔ ان حالات میں صحافی اور کالم نگار اس لیے مشکل میں ہیں کہ اگر وہ کسی ایک سیاسی جماعت کے حق میں کوئی دلیل دیتے ہیں تو دوسری پارٹی کے حامی فوراً اُن پر بہتان لگا دیتے ہیں۔ دیگر کالم نگاروں کی طرح میرے ساتھ بھی اکثر ایسا ہوتا ہے، لیکن میں اشتعال میں آنے کی بجائے اس صورتحال سے خوب لطف اندوز ہوتا ہوں۔
انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کی وجہ سے نیوز چینلز کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ ہمارے ہاں خواہش کو خبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور جھوٹی خبریں تواتر اور وثوق سے نشر کی جاتی ہیں، تاکہ وہ سچّی لگنے لگیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے۔ یہ نیوز چینلز کی انتظامیہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور جب تک وہ یہ ذمّے داری قبول نہیں کریں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پھر چینلز کی انتظامیہ کو اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ افواہوں کو خبر بنا کر ایک مرتبہ ریٹنگ تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر اس کے نتیجے میں چینل کی ساکھ بھی متاثر ہو جاتی ہے۔
آج بہت سے میڈیا ہائوسز میں یہ خبر چلی کہ کئی وزراء کی وزارتیں تبدیل ہو رہی ہیں ۔ جس کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے ٹویٹر پر تردیدی بیان بھی جاری کیا ۔
’’حکومتی وزراء کے قلمدان تبدیل کئے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وزراء کی تبدیلی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے ،میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔‘‘
اب آزادی رائے دیکھیں وزیراطلاعات کے ٹویٹ کے بعد مسلسل مختلف لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں ان کو رائے کے اظہار کے لیے اب میڈیا ہائوسز کی ضرورت کم ہوتی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان بذات خود اکثر و بیشتر ٹویٹر پر اپنے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں ۔ وزیراطلاعات نے جب وزیروں کی تبدیلی کے متعلق ٹویٹ کیا تو اس ٹویٹ کے جواب میں بہت سے ٹویٹ کیا

طارق عزیزلکھتے ہیں اگر وزراء تبدیلی کی خبر جھوٹ ہے تو پھر آپ کس چیز کے منسٹر ہیں جس سے میڈیا کنٹرول ہی نہیں ہو رہا۔
مریم اورنگ زیب لکھتی ہیں فوادی چودھری صاحب ملکی مفاد میں تو پوری حکومت کو جانا چاہیے۔
ڈاکٹر سائرہ کہتی ہیں شکریہ سر۔ اسد ع مر خان کا بہترین انتخاب ہے جو مخالفین کی ناک پہ لڑ گیا ہے جب کچھ نیں کر پاتے تو سازشیں کرنے لگتے ہیں۔
ثانیہ خان کہتی ہیں بنا تصدیق کے نیوز دینے والوں کیخلاف کب ایکشن لیا جائے گا جناب؟؟؟
رانا تنویر لکھتے ہیں پاکستان کون سے اہم مرحلے سے گزر رہا ہے ؟ وزیر اعظم کیا نیا ایٹم بم بنا رہا ہے ؟ یہ کہو کہ ملک پر آپ کا لیڈر تجربے کر رہا ہے اور ان تجربوں کی آڑ میں ملک کو دیوالیہ کر رہا ہے۔


اریشہ کہتی ہیں سر آپ کب ایکشن لو گے ان چینلز کیخلاف فیک نیوز دیتے رہتے ہیں ریٹنگ کے چکروں میں
بہت سے اور لوگوں نے اظہار رائے کی آزادی کا بھرپور فائدہ اٹھایا ۔ لیکن سب چیزیں اپنی جگہ خبرکو فوراً نشر کر دینا بغیر تصدیق کے یہ ہمارے ہاں بڑھتا جارہا ہے اس کا ممکنہ تدارک ہونا چاہیے اور اس کے لیے ہمارے میڈیا ہائوسز کو ضرور کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہیے ۔
کچھ لوگ یہ رائے بھی دے رہے ہیں کہ اگر خبر سچ نکلی تو پھر اعتبار کس پر ختم ہو گا۔ اب اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنے پیسے کی حفاظت خود کرنا پڑتی ہے