petrol pump

کیسے کیسے میرے ملک کو لوٹا جارہا ہے

EjazNews

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں سی ڈی اے کے ایک پلاٹ کی قیمت لکھ کر تمام پاکستانیوں کو متوجہ کیا کہ کس طرح ماضی میں ملک کو لوٹا جاتا رہا ہے۔اور ایسا ہی کچھ لاہور میں ہونے والی 22پٹرول پمپموں کی نیلامی میں بھی نظر آیا ۔ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ روز 22پٹرول پمپس کو نیلام کیا۔ پٹرول پمپس پانچ سال کی لیز پر دئیے گئے ہیں جبکہ کامیاب بولی دہند ہ کو تین سال کی پیشگی رقم ادا کرنا ہوگی۔ یہ 22پٹرول پمپس گزشتہ ادوار میں کس قیمت پر لیز پر دئیے گئے تھے یہ پڑھ کر آپ کے پائوں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے کہ کس کس طرح میرے ملک کو لوٹا جارہاہے۔ قلعہ گجر سنگھ میں واقع ایک پٹرول پمپ کا سالانہ کرایہ 19666روپے تھا اور اسے 2023ء تک لیز پر دیا گیا تھا جبکہ اس کو موجودہ دور میں جب نیلام کیا گیا تو اس کے کرائے کی سالانہ بولی 1کروڑ72لاکھ50ہزار روپے تھی ۔ اب سالانہ رقم میں فرق کا اندازہ کرنا کسی بھی شخص کے لیے مشکل نہیں ہے ۔ اور ان پمپس کو کسی عام پاکستانی شہری نے نہ تو لیز پر دیا اور نہ ہی لیا۔
آپ اس بولی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری جڑوں تک کرپشن کس طرح سرائیت کر چکی ہے۔ پٹرولم پمپ کس نے دئیے اور کس نے دلوائے یہ تو شاید کبھی ثابت نہ ہو سکے لیکن اس بولی کے بعد اگر ایسی اور بہت سی املاک کی طرف بھی توجہ کی جائے جو کوڑیوں کے داموں پر نوازی گئی ہیں تو کیا ہی اچھا ہوگا ۔
کسی بھی ملک میں کرپشن نہ کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ وہاں کرپشن کو روکنا بھی ایک اہم کام ہوتا ہے۔ افریقہ کے جن ممالک سے ہیرے نکالے جاتے ہیں وہ ہیروں کی کانوں کے مالک ہونے کے باوجود غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ کرپشن کے ناسور نے وہاں پوری طرح سرائیت کیا ہوا ہے۔
لاہور میں نیلام ہونے والے 20پٹرول پمپس سپریم کورٹ کے آرڈر پر نیلام کیے گئے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے لاہور میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق 22پٹرول پمپوں کی شفاف انداز میں نیلامی کو یقینی بنایا ہے۔
کچھ لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنے ہاں آنے والے مقدمات کی طرف توجہ دے یا پھر ایسی نوازشات کو ڈھونڈ کر شفاف نیلامیوں کو یقینی بنانے کی طرف توجہ دے۔ یہ کام ویسے تو حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں اور حکومتیں ہی ایسے کاموں کو سرانجام دینے کی پابند ہوتی ہیں کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے ادارے کیا کرر ہے ہیں انہیں دیکھا جائے ۔ مگر ا فسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب تک سپریم کورٹ آرڈر جاری نہیں کرتی اس وقت تک شفاف نیلامی یقینی نہیں بنائی جاتی ۔

یہ بھی پڑھیں:  چاند کے مطابق پاکستان میں عید اتوار کی ہوگی، وزیر سائنس۔ عید کا فیصلہ رویت ہلال کمیٹی کرے گی: وزیر مذہبی امور