Breast-Cancer-Cancer

بریسٹ کینسر:آپ نے خود اپنی حفاظت کرنی ہے

EjazNews

چھاتی کے سرطان کا خوف زیادہ تر نوجوان خواتین کو دامن گیر ہے تاہم مختلف جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جن خواتین میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی ہے ان میں ہر چار میں سے تین کی عمر56سال سے زائد تھی۔ فی الحقیقت زیادہ عمر ہی اس بیماری کا سب سے بڑا عامل ہے باقی عوامل میں حیض کا شروع ہونا بچے پیدا نہ کرنا یا پہلے بچے کی پیدائش 30سال سے زائد عمر میں ہونا یا دیر سے شروع ہونا شامل ہیں لیکن یہ عوامل عمر رسیدگی کے مقابلے میں بہت کم اہمیت کے ح امل ہیں۔
چھاتی کے سرطان کے بارے میں بہت سی الجھنیں جنم لیتی ہیں کہ یہ بیماری مختلف شکلیں اختیار کر سکتی ہے مثال کے طورپ ر چند ایک موذی رسولیاں اس قدر خطرناک ہیں کہ وہ اپنے شکار کو اس وقت بھی ہلاک کر سکتی ہیں جب ان کا سائز اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ انہیں ایکسرے میں بمشکل شناخت کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس قسم کی رسولیاں شاذونادر ہی پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری قسم کی رسولیاں آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں۔ اگران کی کئی سال تک تشخیص نہ ہو تب بھی مہلک ثابت نہیں ہوتیں۔ سرطان کی بعض اقسام ایسی رسولیوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں جن علاج ممکن ہے لیکن اگر وہ بڑھ جائیں تو بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں اور ان کا علاج بھی خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایشیائی ممالک میںسے پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے بُلند ہے۔ خواتین کے مخصوص اعضاء( جیسے اووری، بچّہ دانی وغیرہ) کے سرطان میںبھی تقریباً40فیصد کیسز،بریسٹ کینسر ہی کے ہوتےہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی 10سے 15فیصد خواتین زندگی کے کسی بھی حصے میں بریسٹ کینسر کا شکار ہوجاتی ہیں،جبکہ سالانہ تقریباً 40ہزار خواتین زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ نیزان میں 50فیصد وہ خواتین بھی شامل ہیں، جنہیں علاج معالجے کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ تقریباً ایک لاکھ خواتین میں یہ مرض تشخیص ہوپاتا ہے،جن میں سے دو تہائی میں بیماری خاصی بڑھ چُکی ہوتی ہے۔ اگرچہ بریسٹ کینسر کی اصل وجوہ کا تاحال علم نہیں ہو سکا،لیکن فیملی ہسٹری مثلاً والدہ، بہن، نانی، دادی وغیرہ کو یہ مرض لاحق ہوا ہو، تو مرض کے امکانات عام خواتین کی نسبت بڑھ جاتے ہیں۔نیز، دیگر وجوہ میںماہانہ ایام کا کم عُمری میں آغاز(یعنی11برس کی عمر میں ماہواری شروع ہو اورطویل عمر تک ہوتی رہے)،اولاد کا نہ ہونا یا 30سال یا اس سے زائد عُمر میں پہلا حمل ٹھہرنا، نومولود کو اپنا دودھ نہ پلانا، ہارمون ری پلیسمینٹ تھراپی، موٹاپا، تمباکو نوشی، مانع حمل ادویہ اور الکوحل کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔بریسٹ کینسر میں گلٹی بننا ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔علاوہ ازیں ،دیگر علامات میںبریسٹ کی سوجن، جلد سُرخ ہونا، نپل سےخون کا اخراج، بریسٹ کی جلد یا نپل کا اندر کی جانب دھنس جانا، ساخت میں تبدیلی اور بغل میں گلٹی بن جاناوغیرہ شامل ہیں۔اگر مرض کی بروقت تشخیص ہوجائے، توجان بچنے کے امکانات 90فیصدہوتے ہیں،مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں بروقت تشخیص کی شرح انتہائی کم ہے۔ آج سے دس سال قبل محض2.3فی صد خواتین مرض کی بروقت تشخیص کروا تی تھیں اور اب بھی یہ شرح 10 فیصد سے کم ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچے کیلئے ماں کا دودھ سب سے بہتر کیوں ہے؟