food

غذا سے متعلق اسلامی تعلیمات

EjazNews

اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کا انحصار ہوا او رروشنی کے علاوہ غذا پر بھی رکھا ہے۔ اس کی پاکیزگی یا پلیدی سے انسانی صحت بنتی یا بگڑتی ہے اسلام نے انسانی زندگی کے اس پہلو کو بڑی اہمیت دی ہے اور اس کی نسبت بڑی تفصیلی ہدایات دی ہیں۔
اسلامی اور موسوی شریعتوں کے سوا کسی دوسری شریعت میں انسانی خورونوش سے متعلق کوئی خاص احکام نہیں پائے جاتے۔ اسلام نے انسان کےلیے کھانے پینے کی چیزوں کی حلال اور حرام میں تقسیم کر کے ان کے استعمال کرنے یا نہ کرنے کے اصول و حکمت بیان کر کے حفظان صحت کے اصول میں بہت بڑا اضافہ کیا ہے اور بالکل نئے نظرئیے پیش کیے ہیں۔
یہ بات مسلمہ ہے اور علم طب اس کی تائید کرتا ہے کہ اشیاء خورونوش اپنی خاصیات و تاثیرات کے لحاظ سے نہ صرف صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ انسان کے اخلاق بھی ان کے کھانے پینے سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ اثر ان کے فائدہ یا ضرر کی کمی بیشی کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے بعض چیزیں کھائی یا پی جائیں تو وہ زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں اور فائدہ کم۔ بعض اس کے برعکس ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ مضر اشیاء اگر بالکل تھوڑی مقدار میں کھائی جائیں تو بعض حالات میں بڑی مفید ثابت ہوتی ہیں اوربعض مفید اشیاء اگر مناسب مقدار سے زیادہ استعمال کرلی جائیں تو بجائے فائدہ کے نقصان پہنچاتی ہیں۔
مثلاً زہر ایک خاص مقدار میں بطوردوا کسی مرض میں کھلائی جائیں تو بڑی مفید ہوتی ہیں اور مقررہ مقدار سے بڑھ جائیں تو مہلک ثابت ہوتی ہیں۔ شراب طاقت دیتا ہے، شدید سردی میں بدن میں قوت پیدا کر کے شدت موسم کا مقابلہ کر نے کی قوت پیدا کرتا ہے لیکن دل و دماغ اور اخلاق بگاڑ دیتا ہے ،معمولی کھانا پینا قیام صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے لیکن مناسب مقدار سے زیادہ کھا پی لیا جائے تو صحت بگاڑ دیتا ہے۔
اشیاء خورونوش کے ان مفادات و مضرات کے پیش نظر اسلام نے ان کی حلال و حرام میں تقسیم کی ہے مگر اس تقسیم سے متعلق احکام کی شدت کے باوجود قیام صحت و حفاظت جان کے لیے ان میں ایک لچک بھی رکھی گئی ہے اور ان کی حلت و حرمت یا جواز وغیرہ جواز میں ایسے پر حکمت اصول کار فرما ہیں جن کی کسی دوسری تعلیم میں نظیر نہیں ملتی۔
جس طرح ایک سمجھ دار طبیب بوقت ضرورت خطرناک زہروں سے کام لے کر ایک مریض کو فائدہ پہنچاتا اور اس کی جان بچاتا ہے اسی طرح اسلام حرام اشیاء کے نقصانات بتا کر بحالت مجبوری و اضطرار ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت بھی دیتا ہے، اگر اسلام میں حرام اشیاء کی نسبت احکام میں لچک نہ رکھی جاتی اور حلال اشیاء کے استعمال پر پابندی عائد نہ کی جاتیں تو حلال و حرام کی تقسیم بالکل بے معنی ثابت ہوتی۔
شراب اور جوئے کے عدم جواز اور حرام ہونے کا حکم دیتے ہوئے قرآن کریم میں نہایت پُر حکمت طریق سے انسانی عقل کو ان سے مجتنب رہنے کی اپیل کی ہے۔ فرمایا ’’جوئے اور شراب میں نقصانات بہت ہیں اور لوگوں کے لیے فائدے بھی ہیں اور ان کے نقصانات ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہیں۔ ‘‘ ایک عقل مند ہمیشہ ایسی چیز یا فعل سے بچتا ہے جس میں فائدہ کی نسبت نقصان پہنچنے کا زیادہ احتمال ہو۔
اسلام میں سور کا گوشت کھانا سخت منع ہے اور اس سے مسلمانوں کی شدید نفرت مسلمہ ہے لیکن اس کے باوجود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، انتہائی بھوک کے باعث جان پر بنی ہو اور اس کے کھانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو اتنی مقدار میں اس کا کھالینا جائز ہے جس سے جان بچ جائے۔ اسی طرح کسی مریض کے لیے بجز شراب یا کسی اور منشیات والی چیز کے اور دوا تجویز کی جاسکے تو معالج کے مشورہ کے ماتحت اس کا استعمال جائز ہوگا۔پھر یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے حلال اشیاء کے استعمال کی نسبت کھلی چھٹی نہیں دی گئی بلکہ ان کی نوعیت اور ان کے کھانے کی مقدار پر کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
کسی کھانے پینے والی چیز کا محض حلال ہونا کافی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ اس کا طیب یا پاکیزہ اور صاف ہونا ضروری اور لازمی ہے یہی وجہ ہے قرآن کریم میں جہاں کہیں حلال چیزوں کا ذکر آتا ہے وہاں طیبات پاکیزہ اشیاء کا لفظ بھی آتا ہے ایک چیز حلال ہوتے ہوئے بھی طیب یا پاکیزہ اور کھانے پینے کے قابل نہیں ہوسکتی۔ مثلاً حلال جانور کا گوشت، پھل ، میوے، کھانا پانی وغیرہ بھی سڑ جائیں تو وہ طیب ہرگز نہیں رہتے اور ان کا استعمال یقینا مضر صحت ہوتا ہے۔
اسی طرح حلال جانور کا گوشت طیب ہونے کی صورت میں کھایا جاسکتا ہے لیکن اس کا خون حرام ہوتا ہے خواہ اسے پیا جائے یا اس کی شکل تبدیل کر کے کھایا جائے۔ اسی لیے حلال جانوروں کے ذبح کرنے کا ایسا طریقہ اسلامی شریعت میں تجویز کیا گیا ہے جس سے ان کے جسم سے ذبح کرتے ہوئے سارا خون خارج ہو جاتا ہے۔ اگر اس کے بدن میں خون رہ جائے تو گوشت جلد ہی سڑنا شروع ہو جاتا ہے اور خون نکلے ہوئے اور بغیر خون نکلے ہوئے پکائے ہوئے گوشت کے ذائقہ میں بین فرق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کسی بیماری سے یا گر کر لاٹھی پتھر وغیرہ کی ضرب سے مرنے والے یا درندے کے پھاڑنے سے ہلاک ہونے والے حلال جانور کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے۔
سوائے یہودیوں کے کوئی اور قوم مسلمانوں کی طرح جانور ذبح نہیں کرتی ۔طبی لحاظ خون میں کئی زہریلے مواد ہوتے ہیں جو صحت کےلیے مضر ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں فرمایا ’’ اے ایمان والو۔ ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دی ہیں حرام قرار نہ دو اور حد سے تجاوز نہ کرو اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا اور جو کچھ تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے حلال اورطیب چیزیں کھائو۔ عام طور پر حلال کو حرام قرار دینے سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ جو چیزیں مثلاً بعض گوشت ، پھل میوے اللہ تعالیٰ کہتا ہے حلال ہیں انہیں خود فیصلہ کر کے حرا م قرار نہ دو۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو ان الفاظ کے یہ معانی بھی ہو سکتے ہیں کہ حلال اور طیب چیز کی ہیبئت بدل کر اسے حرام اور ناپاک کر کے نہ کھائو۔ مثلاً انگور ، میورے، اناج حلال و طیب ہیں لیکن انہیں سڑا کر اور ان کا خمیرا ٹھا کر ان کی شراب بنا لینا ۔ حلال جانور کا گوشت سڑا کر یا اسے مناسب طریقہ سے ذبح نہ کر کے کھانا حلال چیز کو حرام اور ناپاک کر کے کھانے اور حد سے تجاویز کرنے کے متراف ہے۔
یہاں یہ بتا دینا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ٹھوس غذائوں میں سب سے زیادہ صحت اور انسانی بدن میں طاقت و قوت پیدا کرنے والی غذا انسانی تجربہ میں گوشت ہے جو اقوام اسے ترک کر کے صرف سبزیوں ، دالوں وغیرہ پر گزارہ کرتی ہیں ان میں بہت حد تک بزدلی پائی جاتی ہے۔ ایسی غذا کھانے والوں کے جسم تو پھول جاتے ہیں لیکن طاقت بالعموم کم ہوتی ہے۔
گوشت کی مختلف اقسام میں سے پرندوں کا گوشت اور مچھلی سب سے زیادہ مفید ہوتے ہیں ۔قرآن کریم میں سمندر اور دوسرے پانیوں سے پکڑے جانے والے شکار اور عام گوشت کو نہایت پسندیدہ غذا قرار دیا گیا ہے اور بہشت کی نعمتوں میں سے پرندوں کے گوشت کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ نیز قرآن کریم احادیث اور کتب فقہ میں حلال و حرام کے مسائل زیادہ تر گوشت سے متعلق ہیں جس سے ظاہر ہے کہ اسلام میں انسانی خوراک کا اہم اور بہترین جزو گوشت تسلیم کیا گیا ہے۔
اسلام نے کھانے پینے والی حلال چیزوں کے طیب ہونے کی شرط کے ساتھ ان کے کھانے کی مقدار پر بھی بعض پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔ان سے متعلق قرآن کریم میں بیان کر دہ عام اصول تو یہ ہیں کھائو پیئو مگر اسراف نہ کرو ۔اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا اور فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں لیکن ان کی تفصیل کا رسول کریم ﷺ کی عملی زندگی سے پتہ چلتا ہے۔حضورﷺ خوردو نوش کے معاملہ میں ساری عمر سادگی اور کم خوری پر عمل فرماتے رہے اور اسی پر زور دیتے رہے عمر بھر حضورﷺ نے متواتر تین روز کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا تھا ۔حکومت حاصل ہونے پربھی حضورﷺ کا یہی معمول رہا۔ اپنے اہل بیت اور صحابہ کو بھی اس کا خوگر بنا دیا ،فرمایا کرتے ’’بہت کھانے سے اللہ کی پناہ مانگو‘‘۔ بھوک سے زیادہ کھانے والے کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ اناپ شناب کھانا بری بات ہے۔
حضورﷺ کا ایک اور ارشاد مبارک ہے فرمایا ’’ کھانا اتنا کھایا جائے کہ ایک دو نوالوں کی بھوک رہ جائے ‘‘ یہ طریقہ اختیار کرنے سے خوراک خوب ہضم ہو کر بدن میں خون اور قوت پیدا کرتی ہے۔ معدہ زیادہ بھر لیا جائے تو اس کی رطوبت کھانے کے ہضم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔ نتیجہ سو بدہضمی ہوتا ہے اور غذا بجائے قوت پیدا کرنے کے بدن میں کمزوری پیدا کرتی ہے۔
ایک مرتبہ ایک شخص حضورﷺ کے سامنے ڈکار لیا جو بالعموم زیادہ کھانا کھانے کے باعث پیدا ہوتا ہے فرمایا ’’پیٹ میں ایک حصہ کھانا، ایک حصہ پانی ہونا چاہیے اور ایک حصہ سانس لینے کے لیے چھوڑنا چاہیے‘‘۔ کتنا سیدھا سادہ نہایت سہل طریقہ حضور ﷺ نے تجویز فرمایا ہے ۔طبی نقطہ نگاہ سے یہ نہایت مفید مختلف امراض کےلیے بطور حفظ ماتقدم کام دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تجارت کے فوائد اور سود کی تباہی کاریاں

حضورﷺ نے فرمایا معدہ بدن کا حوض ہے اور رگیں اس کی نالیاں ہیں۔ اگر معدہ صحیح ہو تو رگیں صحت پر رہتی ہیں۔ معدہ فاسد ہو جائے تو رگیں بھی بیمار ہو جاتی ہیں۔

آپ ایک معمولی سا تجربہ کر کے دیکھیں ایک بوتل عام کھانے کی مختلف چیزوں سے ٹھونس کر بھر دیں اور اوپر اس کے جتنا پانی آسکے ڈال دیں اور خوب کس کر کارک لگا دیں کچھ عرصہ بعد خمیر اٹھنا شروع ہوگا ۔ بخارات کے زور سے یا تو کارک پھٹ سے اڑ جائے یا بوتل ٹراخ سے پھٹ جائے گی۔
یہی حال معدے میں کھانا ٹھونسنے کا ہوتا ہے بوتل میں تو پہلے سے کوئی حدت یا رطوبت موجود نہیں ہوتی لیکن معدے میں قدرتی گرمی اور مختلف قسم کی رطوبتیں موجود ہوتیں ہیں جن سے مل کر غذا میں فوراً ہی عمل تخمیر شروع ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں کھٹے ڈکار آنے اور اخراج ریح ہونے لگی ہے جس سے آس پاس کی فضا متعفن ہوجاتی ہے ۔ بعض دفعہ ایسے بسیار خور کو قے، اسہال، ہیضہ یا کوئی اور مرض لاحق ہو جاتا ہے۔
دوائوں سے بھری جانے والی بوتلوں میں حسب ضرورت منہ سے نیچے خلا چھوڑا جاتا ہے تاکہ اگر دوا سے بخارات اٹھیں تو نقصان نہ پہنچائیں اسی طرح فم معدہ اورکھانے اور پانی کے درمیان سانس کےلیے خلا ہونا چاہیے۔ پیٹ ٹھونس کر بھرا ہوا ہو تو سانس بھی رک کر آتا ہے۔ کیونکہ پھیپھڑے پر معدے کے بھرے ہونے کے باعث دبائو پڑتا ہے۔
دنیا کی قوموں میں الگ الگ رواج ہیں یورپین اقوام کی مجالس میں ڈکار لینا معیوب خیال کیا جاتا ہے مگر اخراج ریح میں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔ بعض ایشیائی اقوام ڈکار لینا برا نہیں سمجھتیں مگر اخراج ریح ناپسند کرتی ہیں ،حالانکہ دونوں بسیار خوری کا نتیجہ ہوتے اور تعفن پیدا کرتے ہیں اورصحت و صفائی کے خلاف ہیں اسلام میں دونوں معیوب اور ناپسندیدہ فعل ہیں۔
رومیوں میں دعوتوں پر بسیار خوری کا بہت رواج تھا لوگ کھا کھا کر قے کر دیتے پھر کھاتے پھر قے کرتے پھر کھاتے اور اسی طرح زبان کے چسکے کے لیے بار بار یہ حرکت کا کرتے ۔اسلام میں بسیار خوری اگر منع ہے تو اعلیٰ سے اعلیٰ حلال اورطیب غذا کے مناسب مقدار میں کھانے سے جس کی انسان استطاعت رکھتا ہو اسلام نہیں روکتا۔ اسلام نفس کشی اور رہبانیت کی تعلیم نہیں دیتا۔ حضور اکرم ﷺ بہترین سے بہترین حلال و طیب غذا جب بھی آپﷺ کو میسر آتی بطیب خاطر کھایا پیا کرتے لیکن بسیار خوری سے ہمیشہ پرہیز فرماتے۔ اور جس طرح آپﷺ لباس میں سادگی تھی اسی طرح خوراک بالعموم بہت سادہ ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں حضورﷺ کسی خوراک کے پابند نہ تھے جو بھی حلال وطیب غذا دودھ ، پھل، روٹی ، ستو وغیرہ وقت پر میسر آتا بطیب خاطر کھاتے یا نوش فرماتے ۔ مگر ہمیشہ سادہ زندگی بسر کرنے کی تاکید فرماتے۔
حضورﷺ نے فرمایا معدہ بدن کا حوض ہے اور رگیں اس کی نالیاں ہیں۔ اگر معدہ صحیح ہو تو رگیں صحت پر رہتی ہیں۔ معدہ فاسد ہو جائے تو رگیں بھی بیمار ہو جاتی ہیں۔ نیز فرمایا کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے (یعنی بہت کھاتا ہے)اورمومن ایک آنت سے یعنی کم خور ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر حضور ﷺ نے مسلمان کے لیے کم خوری، جزو ایمان قرار دیا ہے۔
زیادہ کھانے سے ریح پیدا ہوتی ہے۔ ہر ملک میں ماحول کے مطابق ایک خاص غذا تجویز کی جاتی ہے اس کی سختی سے پابندی بھی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے خاص قسم کی غذا بعض دفعہ دستیاب نہیں ہوسکتی اور اس کے عادی کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔
حضور رسول کریمﷺ کا طریق خوردونوش کے سلسلہ میں اختیار کیا جائے تو صحت کو کسی قسم کا ضرر یا نقصان پہنچائے بغیر زندگی بڑے آرا م سے گزرتی ہے ۔ میں نے یہ طریق اختیار کر کے مشکلات کے وقت بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔
(تحریر:فضل کریم فارانی)

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ جب ملبے کا ڈھیر بنا تھا