کھچاؤ :غیر متوان غذا کی وجہ سے ہوسکتا ہے

EjazNews

پیٹ میں عجیب سا کھچاؤ، تناؤ محسوس ہونے کی شکایت، جسے حساس آنت کی تکلیف بھی کہتے ہیں، اری ٹیبل باؤل سینڈروم کہلاتی ہے۔ اس مرض میں قبض، پیٹ میں اینٹھن وغیرہ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ درحقیقت یہ مرض ایسی تکالیف کا مجموعہ ہے، جو کبھی ظاہر ہوتی ہیں اور کبھی مریض کو لگتا ہے کہ اُسے کبھی کوئی مرض لاحق ہی نہیں ہوا تھا۔مردوں کی نسبت خواتین میں یہ عارضہ زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔مرض کی دیگر علامات میں اسہال، بار بار اجابت، ہر اجابت کے بعد تھوڑا سا آرام محسوس کرنا اور پھر دوبارہ اسی کیفیت کا ظاہر ہونا، پاخانے کے ساتھ لیس دار مواد کا اخراج، بار بار پیشاب کی حاجت، تھوڑا سا کھانا کھانے کے بعد ہی معدے کے بھرے ہونے کا احساس، بدہضمی اور سر درد وغیرہ شامل ہیں۔ نیز، درد اپنی کیفیات اور جگہیں بھی بدلتا رہتا ہے، جبکہ بعض کیسز میں مریض کے پاخانے کی رنگت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ان تکالیف کے علاوہ عموماً کھٹی ڈکاریں آنے، سینے میں جلن، نقاہت، خواتین میں ماہواری کی بے قاعدگی، ٹینشن اور ڈیپریشن جیسی علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔زیادہ تر مریضوں میں پاخانہ خارج ہونے کے بعد علامات کی شدت کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مریض کوکمر درد اور تھکاوٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔عموماً یہ کیفیت اُس وقت پیدا ہوتی ہے، جب بڑی آنت میں وقفے وقفے سے اینٹھن اور مروڑ اٹھیں۔ اور جب اینٹھن ختم ہوجاتی ہے، تو کبھی دست اور کبھی قبض کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اس کیفیت میں مریض کا پیٹ پھول جاتا ہے اور صرف اُسی وقت آرام ملتا ہے، جب ریاح خارج ہوجا تی ہے۔
مرض کی وجوہ کی بات کی جائے، توغیرمتوازن غذا کا متواتر استعمال کرنے والے افراد اس مرض کا تر نوالہ ہیں۔علاوہ ازیں، ذہنی دباؤ و تناؤ، سُستی، کاہلی، ورزش نہ کرنا اور ایسی غذاؤں کا مسلسل استعمال، جن میں فائبر کی مقدار سرے سے نہ پائی جاتی ہو، مرض لاحق ہونے کی وجہ بن سکتے ہیں۔ بچاؤ کے لیے سب سے پہلے تو اپنی غذاپر توجہ دی جائے۔ لہٰذا روزمرہ کے غذائی شیڈول میں ایسی غذائیں شامل کی جائیں، جن میں فائبر یعنی ریشے کی مقدار زائد پائی جاتی ہو، جب کہ چٹ پٹی اشیاء جیسے نہاری، سری پائے اور سیخ کباب وغیرہ سے مکمل طور پر اجتناب برتیں۔ معدے کے پٹھوں کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے معالج ہی کی ہدایت پر کوئی دوا استعمال کریں۔خود کو ذہنی دباؤ سے آزاد رکھیں، معدے کی معمولی سی بھی تکلیف کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ ورزش چاہے ہلکی پھلکی ہی کیوں نہ ہو، روزانہ کریں۔
عموماً جب مریض کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پیٹ کے اعصابی تناؤ کا شکار ہے، تو لامحالہ وہ اس خوف کا شکار ہوجاتا ہے کہ کہیں یہ معدے کے سرطان یا السر کی طرح کا خطرناک مرض تو نہیں۔ تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ ایک قابلِ علاج مرض ہے اور معالج کی ہدایت پرمکمل طور پر عمل کرکے مرض پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ چونکہ یہ مرض کئی تکالیف کا مجموعہ ہے، اس لیے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے۔دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر مریض فوری افاقہ نہ ہونے کی صورت میں ایک ڈاکٹر سے دوسرے اور پھر نہ ختم ہونے والی تکلیف کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بچے کو دودھ پلانے کے عرصے میں ماں کی غذا