umer al bashir

سوڈان میں 30سال بعد صدرعمر البشیراقتدار سے الگ ہوگئے

EjazNews

عمر بشیر کا پورا نام عمر حسن احمد البشیر ہے جو 1989ء میں سوڈانی فوج کے کرنل تھے اور وزیر اعظم صادق المہدی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے تھے۔
سوڈان میںمسلسل 30سال سے برسراقتدار رہنے والے صدر عمر البشیر کو آخر عوامی احتجاج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑ گئے ۔سوڈان میں کئی ہفتوں سے جاری حکومت کیخلاف احتجاج کے بعد فوج نے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹتے ہوئے ان سے استعفی لے لیا ہے ۔فوج نے ملکی امور چلانے کے لیے عمر البشیر کے نائب اور وزیر دفاع جنرل عوض بن عوف کی سربراہی میں عبوری کونسل تشکیل دے دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملک کے کئی موجودہ اور سابق سرکاری حکام کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں سابق وزیر دفاع عبد الرحیم محمد حسین، نیشنل کانگریس پارٹی کے نامزد سربراہ احمد ہارون اور عمر البشیر کے سابق نائب علی عثمان محمد اور ذاتی محافظین بھی شامل ہیں۔
صدر نے فوج کو مظاہرین کے منتشر کرنے کا حکم دیا تھا ۔لیکن فوج نے یہ حکم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے آئین اور انسانی حقوق کے منشور کے تحت عوام کو پر امن مظاہروں کا حق حاصل ہے۔ملک کے بعض علاقوں میں عوام کی جانب سے جشن منانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فوج کے افسران کا ایک گروپ سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی عمارت میں داخل ہو گیا ہے، دارالحکومت خرطوم کے ہوائی اڈے کو پروازوں کی آمد و ورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
فوجیوں کی بڑی تعداد اور بکتر بند گاڑیاں صدارتی محل کے اطراف تعینات ہیں جبکہ محل میں آمد و ورفت کا سلسلہ روک دیا گیا ہے اور خرطوم کی مرکزی شاہراہوں پر فوجیوں کی بڑی تعداد پھیلی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا جس آزمائش سے گزر رہی ہے اس میں الزام تراشی کی بجائے اتحاد کی ضرورت ہے