MASAJID

اسلام میں مساجد کی صفائی کی اہمیت

EjazNews

اللہ تعالیٰ نے جس طرح دوسری ضروریات زندگی کے حصول کے لیے انسان کو عقل عطا کی ہے اسی طرح اسے اپنی رہائش و سکونت اور شدائد موسم سے پناہ لینے کے واسطے سامان فراہم کرنے کی سمجھ بخشی ہے۔ انسانی زندگی اورصحت و ثبات پر رہائش اور سکونت بھی گہرا اثرڈالتی ہے اور فی زمانہ انسان اپنی آرام گاہوں اور مسکنوں کی تعمیر میں ترقی کی جانب تیزی سے قدم بڑھاتا چلا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مساجد کی تعمیر ات میں ذوق و شوق مسلمانوں میں ہمیشہ سے نظر آیاہے ۔ ان کی خوبصورتی اور صفائی ستھرائی کی نسبت بھی اسلامی نقطہ نگاہ مختصراً بیان کر دیا جائے۔
قرآن کریم میں وسیع اور عریض بالا خانوں اور باغوں کے ذکر اور رسول پاک ﷺ کی مساجد کی صفائی و تقدیس کی نسبت تاکیدی ہدایات ہیں ،جن پر مسلمان ہمیشہ سختی سے عمل کرتے رہے ہیں ان کے فن تعمیر پر گہرا اثر ڈالا اور انہوں نے اس فن سے متعلق سابقہ تمام نظرئیے بدل دئیے۔
تقریباً تمام مذاہب میں تہواروں اور مذہبی تقاریب پر جب مخلوق کا بڑا اژدھام ہوا کرتا ہے ان مواقع سے متعلق رسوم و عبادات انہی عبادت خانوں میں ادا کی جاتی ہیں جہاں روزانہ یا ہفتہ وار عبادت ہوا کرتی ہے۔ عبادت گزاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی نسبت موقع و محل کے مناسب حال اور حفظان صحت کے اصول کے پیش نظر جن کا ایسے موقعوں پر اختیار کرنا از بس ضروری ہوتا ہے کوئی تدابیر و ہدایات ان مذاہب میں تجویز نہیں کی گئیں۔
لیکن اسلام اگر پنج وقتہ عبادت کھلی اور ہوا دار مساجد میں ادا کرنے کی ہدایت کرتا ہے تو ہفتہ وار جمعہ کی نماز جس میں شہر جمع ہوتا ہے، بڑی وسیع مسجد میں جسے جامع مسجد کہتے ہیں ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے اور عیدوںکی نماز جو سال میں صرف دو مرتبہ ہوا کرتی ہے اور جن میں سارے شہر اور ملحقہ آبادیوں کے لوگ شامل ہوا کرتے ہیں، شہر سے باہر کھلی ہوا اور میدان میں، اگر موسم کی خرابی اس میں مزاحم نہ ہو، پڑھنے کا حکم ہے اور عبادت فرش خاکی پر آسمان کی چھت کے نیچے کی جاتی ہے۔ پھر سب سے بڑا سلانہ اسلامی ا جتماع حج ہے جس میں لاکھوں مسلمان اطراف عالم سے آکر مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اس سے متعلق تقریباً تمام رسول و عبادت بالکل کھلے اور لق و دق میدان میں کی جاتی ہیں اور وہاں تنگی، بندش اور دم گھٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اسلامی عبادت گاہوں کو ایک اور امتیاز اور خصوصیت حاصل ہے جو دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں میں نہیں پائی جاتی۔ پاکیزگی، طہارت وضووغیرہ اسلامی عبادت کے ایسے لوازمات ہیں جن کے بغیر نماز ہو ہی نہیں سکتی۔ اس مقصد کے لیے عبادت سے متعلق حصہ سے الگ مگر اس سے ملحق ہر مسجد میں غسل خانے، پیشاب خانے وغیرہ طہارت وضواور غسل کے واسطے بنے ہوتے ہیں ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے ”جب تم کسی مسجد میں جاﺅ تو زینت اختیار کرو “ ۔ متعلقہ آیات کے لفظی معانی ہے ”اے نوع انسان ہر مقام عبادت پر اپنی زینت اختیار کرو او کھاﺅ اور پیﺅ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“
یہاں ایک ہی فقرہ میں قیام ، صحت اور لباس اور ہر قسم کی عبادت گاہ (مسجد، جامع مسجد، عید گاہ ، مقام حج) کی صفائی و پاکیزگی کے اصول بیان کر دئیے ہیں۔ لفظ زینت جو قرآن کریم میں آیا ہے اس میں ہر قسم کی صفائی و پاکیزگی خواہ جسم و لباسے تعلق رکھتی ہو یا عبادگ اہ سے شامل ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ کسی نے لباس پہن رکھا ہو مگر اس پر کہیں ذرا سی نجاست لگی ہو تو وہ پہننے والے کی زنیت میں شمار نہ ہوگا مگر پھٹے پرانے کپڑے جو نہایت صاف ستھرے اور اجلے ہوئے پہننے والے کی زینت کا باعث ہوں گے اسی طرح خوب رو خوش و ضع انسان غلاظت سے لتھڑا ہوا ہو تو وہ اس کی خوبی روئی برباد کر دے گی۔ عالیشان خوش نما عمارت بغیر مناسب صفائی کے اپنی شان اور خوبصورتی کھو دیتی ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ مساجد یا عبادت گزاروں کی زینت سے کھانے پینے اور اس میں اسراف کا آپس میں کیا تعلق ہے یہاں ان کا ایک جائی ذکر کچھ بے جوڑ اور عجیب سا معلوم ہوتا ہے لیکن ذرا غور کرنے سے یہ شبہ دور ہو جاتا ہے کھانے پینے میں اسراف کاذکر کر کے نہایت لطیف پیرائے میں مساجد کی حقیقی اور مکمل صفائی و پاکیزگی کے قیام کی تاکید کی گئی ہے۔
اسلام میں حلال اور پاکیزہ غذائیں کھانے کی سخت تاکید ہے ۔ لیکن عمدہ اور لذیذ غذا اگر ٹھونس کر کھائی جائے اور بسیار خوری کا ارتکاب کیا جائے جو اسلام میںنہایت ناپسندیدہ فعل ہے تو سوءہضمی کا احتمام ہوتا ہے۔ ہوا کا غیر معمولی اخراج شروع ہو جاتا ہے اور کھٹے ڈکار آنے لگتے ہیں کہنے کو تو یہ معمولی سی بات ہے لیکن جیسا کہ وضو پر بحث کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے یہ معمولی سی حرکت سارے مجمع میں سخت تعفن پھیلا کر عبادت خانے اور عبادت گزاروں کی ساری زینت خاک میں ملا دیتی ہے۔ قرآن کریم اگر ایک جانب مساجد کی صفائی اور ان میں داخل ہونے والوںکی زینت پر زور دیتا ہے تو دوسری جانب اس صفائی اور زینت کے برباد کرنے والے افعات کے ارتکاب سے بھی سختی سے روکتا ہے حدیث میں حدث اصغر یعنی اخراج ریح کا مسجد میں واقعہ ونا دوسروں کے لیے موجب اذیت قرار دیا گیا ہے۔
مساجد کی صفائی کی رسول کریم ﷺ بڑی تاکید فرمایا کرتے تھے ایک مرتبہ حضورﷺ نے مسجد کی دیوارپر تھوک دیکھا تو سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ لکڑی یا ٹھیکری لے کر اسے اپنے دست مبارک سے کھرچ دیا۔ پھر ایک کپڑے کو کونہ لے کر فرمایا ”اس طرح تھوکنا چاہئے “ اس کپڑے میں اس طرح تھوکا جس طرح آج کل رومال میںتھوکا کرتے ہیں۔ پھر کسی نے اس صاف کیے ہوئے مقام پر خوشبو لگا دی تو حضور ﷺبہت خوش ہوئے۔ ایک صحابی جو نماز میں امام تھے عین نماز میں تھوک دیا فرمایا ”یہ شخص اب نماز نہ پڑھایا کرے۔ “ بالعموم فرمایا کرتے ” مسجدکی دیواروں، فرشوں ، سیڑھیوں وغیرہ پر تھوکنا نہیں چاہیے۔
جمعہ کے دن مسجد میں انگیٹھیاں جلانے کا حضور ﷺ حکم دیا کرتے جن میں اگر کبھی کافور بھی جلایا جاتا۔“
ایک بڑھیا حبشی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ وہ فوت ہو گئی لوگوں نے دفن کر دیا۔ حضور ﷺ کو بعد میں علم ہوا تو فرمایا”ہمیں بتا دیا ہوتا اس کا جنازہ پڑھتے“ پھر حضور ﷺ اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کی قبر پر جنازہ پڑھا۔ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ مسجد کی صفائی کرنے والوں کی حضور ﷺ کی نگاہ میں کتنی قدر تھی۔
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے مسجد میں اخراج ریح دوسروں کے لیے موجب اذیت قرار دی گئی ہے اس کے ساتھ حدیث اصغر وضو کے قیام کی حد مقرر کرکے اسلام نے عبادت گاہوں کی فضا پاک و صاف رکھنے کا عجیب نرالا اور نہایت کاگر طریق تجویز کیا ہے۔
پھر حضورﷺ نے بڑی تاکید فرمائی کہ کوئی نمازی لہسن یا کچا پیاز کھا کر مسجد میں نہ آیا کرے اور نہ ہی لباس اور جسم پر کوئی ایسی بدبو دار چیز لگا کر آئے جس کے تعفن سےدوسروں کو تکلیف پہنچے۔
ان واقعات سے قرآن کریم اور رسول کریمﷺ کے ارشادات سے عیادت ہے کہ صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے اورصرف محمد ﷺ ہی ایسے مذہبی مقتدا ہیں جنہوں نے اجتماعی عبادات اور مذہبی تقاریب کے مناسب حال ، نہایت موزوں ، مفید اور کارآمد حفظان صحت کے اصول کے عین مطابق تاکیدی ہدایات دی ہیں جن کا عبادت گاہوں اور مکانوں کی تعمیر پر بین اثر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تجارت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ حسنہ