islamic rights about health

ہمارے جسمانی مسائل سے متعلق اسلامی رہنمائی

EjazNews

جمائی لینا:
جمائی آئے تو فوراً منہ پر ہاتھ رکھنا چاہیے۔ بعض دفعہ جمائی سے جبڑے کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں اور سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہاتھ منہ پر رکھ جائے تو اس کا زور گھٹ جاتا ہے اور کسی نقصان کا احتمال کم ہوجاتا ہے اس لیے زور سے جمائی لینا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔
چھینکنا
بعض دفعہ لوگ جب انہیں چھینک آئے تو خوب زور لگا کر ایک مہیب سی آواز نکالتے ہیں۔ اس سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ۔ خود ایسے موقع پر حضور ﷺ منہ پر کپڑا یا ہاتھ رکھ لیا کرتے ۔ اس سے خون کی بعض نالیوں پر دباﺅ پڑتا ہے اوران کے پھٹنے کا احتمال ہوتا ہے اور ناک سے خون جاری ہو جاتا ہے ۔
قہقہے لگا کر ہنسنا
بہت ہنسنے اور قہقہے لگانے سے آپﷺ نے منع فرمایا۔ حضورﷺ خود بھی ہنسا کرتے لیکن ہنستے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ۔ اس عمل سے منہ زیادہ کھلنے نہیں پاتا۔ بعض دفعہ ہنستے ہوئے یا قہقہہ لگاتے ہوئے جبڑے زیادہ کھل جائیں تو مضر صحت ثابت ہوتے ہیں جیسے جمائی میں ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا ”بہت ہنسنا دل مار دیتا ہے اور افلاس پیدا کرتا ہے۔“ بہت ہنسی مذاق اور قہقہوں کا رد عمل غمگینی اور پژمردگی ہوتا ہے اور اس میں تضیعاوقات کے باعث بیکاری اور افلاس پیدا ہو تا ہے۔
بخار
حضور ﷺ نے فرمایا ”کسی کو تیز بخار ہو تو اس کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالا جائے اور جب ایسی حالت کس کی ہوتی تو آپﷺ مشکیزے کے منہ سے ٹھنڈے پانی کی دھار اس مریض پر ڈلواتے۔
آج کل ایسی حالت میں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی جاتی ہے اور یہ ہر قسم کے بخاروں میں نہایت سہل اوربڑا موثر علاج ثابت ہوتا ہے اور مریض کا دماغ ٹھنڈا ہونے سے اسے بڑی تسکین حاصل ہوتی ہے اور بخار کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔
جلد جلدی چلنا
حضور ﷺ نے فرمایا ”جلدی جلدی چلنا چہرے کی رونق مار دیتا ہے“۔ بعض لوگ عادتاً تیز چلتے ہیں اور بعض آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہیں یہ ہدایت ہر انسان کی عادت کی نسبت سے ہے۔ اپنی عادت کے خلاف جب کوئی تیز چلے تو اس کے چہرے سے شگفتگی اور تازگی جاتی رہتی ہے اورگھبراہٹ اور پریشانی ٹپکتی ہے۔ جس سے صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔
منہ سے کاٹنا
حضور ﷺ نے فرمایا ”تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو منہ سے نہ کاٹے“ اس ہدایت کی وجہ عیاں ہے۔ ایک انسان کا دوسرے انسان کو منہ سے یعنی دانتوں سے کاٹنا وحشت اور درندگی کے علاوہ سخت مضر صحت ہے۔ دانتوں کی بس بسا اوقات مہلک ثابت ہوتی ہے۔ بچوں کوبالعموم اس کی عادت ہوتی ہے۔ اس سے انہیں روکناچاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  نماز نبویﷺ