acne-pimple

کیل مہاسوں سےپریشان نہ ہوں

EjazNews

سکو ل کے زمانے ہی سے لڑکیوں میں اپنا خیال رکھنے کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے سے زیادہ خوبصورت نظر آئے۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کے کیل مہاسوں اور داغ دھبے نہ ہوں۔لیکن عموماً لڑکیوں کی اکثریت کو اس خواہش کے برعکس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوعمری کے اس دور میں بہت کم لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جو کیل مہاسے نام کی خوفناک بلا سے مکمل طور پر بچی رہتی ہیں۔ ایک آدھ کیل یا دانہ تو قابل برداشت ہوتا ہے لیکن اگر پورا چہرہ ہی ان سے بھر جائے تو مستقل قسم کی پریشانی لڑکیوں کو گھیر لیتی ہے۔ کیل مہاسے عام طور پر 12سے 25سال کے درمیان جسم کے مختلف حصوں پر نمودار ہوتے رہتے ہیں جبکہ چہرہ خاص طور پر ان کی زد میں آتا ہے۔ عام تصور بھی ہے کہ جلد کی خرابی کیل مہاسوں کا سبب بنتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 85فیصد لڑکیاں کیل مہاسوں کا ہر صورت شکار ہوتی ہیں جبکہ 15فیصدلڑکیاں اس سے محفوظ رہتی ہیں یا کبھی کبھار انہیں ایک آدھ دانے سے واسطہ پڑ جاتا ہے جو اتنا پریشان کن ثابت نہیں ہوتا۔
گندے اور پیپ دار دانے عموماً 16سے18سال کے درمیان زیادہ شدت سے نکلتے ہیں جو شخصیت کو متاثر کرن ے کے علاوہ تکلیف کا سبب بھی ہوتے ہیں۔ کیل مہاسے یا دانوں کی علامتیں بعض بچوں میں 9سے10سال کے درمیان ہی ظاہر ہونے لگتی ہیں اور یہ سلسلہ بلوغت تک جاری رہتا ہے۔
بیتر نو عمر لڑکیاں اسے ایک معمول کی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں کیونکہ انہیں بتاتا جاتا ہے کہ اس عمر میں ہر کوئی اس کا شکار ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خود بخود کم ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ چہرہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ تاہم چہرہ صاف ہونے کا دورانیہ مختلف لڑکیوں میں مخلف ہوتا ہے بعض جلدی ٹھیک ہو جاتی ہیں جبکہ بعض کو سالہا سال اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کیل مہاسوں کے علا ج کے سسلے میں اب تک ہونیوالی تحقیق کے بعض پہلو ابھی تک تحقیق طلب ہیں۔ سائنسدان یا ماہر امراض جلد بھی اس معاملے میں اپنی کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکے۔ دنیا کے معروف ترین ڈرما لوجسٹ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ابھی تک ایسی کوئی دوا تیار نہیں ہوئی جو انہیں جادوئی طریقے سے راتوں رات ہی ختم کر دے اور جلد ہر قسم کے داغ دھبوں اور کیل مہاسوں سے صاف ہو جائے لیکن ایسی دوائیں ضرور تیار کرلی گئی ہیں جن کے استعمال سے ان کی شدت میں آہستہ آہستہ کمی آنے لگتی ہیں اور جلد معمول سے پہلے ٹھیک ہو جاتی ہے۔
بعض لڑکیوں کو انتہائی ضدی قسم کے کیل مہاسوں سے واسطہ پڑتا جاتا ہے ۔ ماہرین جلد کے مطابق اگر ان کا علاج نہ کرایا جائے تو اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ چہرہ مستقل خراب ہو جائے اس کے ساتھ ساتھ ان کے نفسیاتی اثرات بھی بڑے شدید نوعیت کے ہوتے ہیں خصوصاً ان لڑکیوں میں جو جلد کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں اس قسم کی صورتحال انتہائی پریشان اور تشویشناکی کا باعث بن جاتی ہے لڑکیوں کا اپنی شخصیت پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے اور احساس کمتری بڑھ جاتی ہے۔ بعض تو معاشرے سے بالکل کٹ کر رہ جاتی ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت ان کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔
اس بارے میں جلد کے بیشتر ماہرین کا موقف ہے کہ بلا شبہ کیل مہاسوں کا حتمی علاج ابھی دریافت نہیں ہوا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ک ے چند طبی مشوروں پر عمل کیا جائے تو کیل مہاسوں سے مکمل طور پر نہ سہی لیکن کسی حد تک نجات ضرور حاصل کی جاسکتی ہے۔
غیر معیاری مصنوعات سے گریز کریں
ادویات کی طرف مائل ہونے سے قبل اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آپ جلد کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہیں؟ یعنی آپ ایسی کاسمیٹکس مصنوعات تو استعمال نہیں کر رہیں جو کیل مہاسوں یا جلد کی خرابی میں بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔کیونکہ ایسی بیشتر مصنوعات موجود ہیں جو غیر معیاری ہونے کے باعث جلد کو بہتر بنانے کی بجائے اس میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔
دانوں کو مت دبائیں
اس چیز کا خیال رکھیں کہ ہر وقت آپ کا ہاتھ چہرے پر موجود دانوں سے چھیڑ چھاڑ یا انہیں دبانے اور پچکانے میں تو لگا نہیں رہتا۔ اگر ایسا ہے تو آپ اپنی جلد کی خود دشمن بنی ہوئی ہیں اور کیل مہاسوں کو خود ڈکوت دیتی ہیں کہ وہ آپ کی جلد کو خراب کرتے ہیں۔ کوشش کریں کہ حتیٰ الامکان آپ کا ہاتھ متاثرہ جگہ پر نہ جائے یا بہت ضروری ہو تو جلد کو چھونے سے پہلے ہاتھوں کو کسی اچھے صابن سے دھولیں۔ دانوں کو دباتے رہنے سے چہرے پر مستقل قسم کے نشانات بھی پڑ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان سے نکلنے والے جراثیم صاف جلد پر بھی اپنی جگہ بنالیتے ہیں یوں انہیں جلد کو خراب کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
کیل مہاسے کیوں ہوتے ہیں۔
یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی کیل مہاسوں سے واسطہ کیوں پڑ جاتا ہے ؟ سائنسی نقطہ نگاہ سے اس کا جو جواب دیایا جاتا ہے اس کے مطابق یہ وہ دور ہوتا ہے جس میں جنسی ہارمونز کی کارکردگی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور انہی ہارمونز اور غدود کا کمال ہے کہ اس سے اعضا ء کی نمو ہوتی ہے۔ ہارمونز انسانی غدود کو تحریک دیتے ہیں اس سارے عمل کے دوران جلد میں تیل پیدا ہوتا ہے یہ تیل مساموں کے ذریعے باہر نکلتا ہے لیکن بعض اوقات اس کا بہائو سست ہو جاتا ہے اورتیل مساموں میں ہی جم جاتا ہے۔ چنانچہ تیل کا جمنا ہی بیکٹریا کو اپنا کام دکھانے کی دعوت دیتا ہے یوں بیکٹریا مساموں میں اپنی جگہ بنالیتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ یہاں مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔
غذاکا کیل مہاسوں سے تعلق
غذااور کیل مہاسوں سے متعلق ایک عام خیال یہ ہے کہ کیل مہاسوں کا خوراک سے بھی بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ چاکلیٹ، چکنائی اور تیز مرچ مصالحوں کو بھی عموماً جلد کی اس خرابی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے لیکن سائنسی اور تحقیقی نتائج کے مطابق ابھی تک اس خیال کو قطعی طور پر درست ثابت نہیں کیا جاسکاکیونکہ اس معاملے میں خوراک سب پر یکساں انداز میں اثر انداز نہیں ہوتی۔ بہت کم افراد ہیں جو خوراک کے باعث خراب جلد یا کیل مہاسوں کا شکار ہوتے ہیں اس لئے قطعی طور پر خوراک کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بہت اچھی اور متوازن غذا کھانے والوں کو بھی کیل مہاسوں کا شکار دیکھا گیا ہے جبکہ معمولی اور عام غذا استعمال کرنے والی متعدد لڑکیاں اس سے محفوظ نہیں رہتی۔ اس لئے اس معاملے میں بھی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے تاہم اچھی غذا کو بہتر اورصحت مند جلد سے قطعی طورپر الگ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  چہرے کی جھریوں سے نجات ممکن ہے