martan

مارٹن ہم آپ کو بھولے نہیں

EjazNews

مارٹن نے 10اگست 2017ءکو اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بطور سفیر وہ اپنی فیلڈ کے ماہر تھے۔ ویسے تو پاکستان میں بہت سے ملکوں کے بہت سے سفیر کب آئے اورکب گئے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ لیکن مارٹن کوبلر کی بات ہی کچھ اور تھی ایسی ہر دلعزیزی بہت کم۔لوگوں کے نصیب میں آتی ہے۔ میرے خیال میں ان کو عام لوگ اس وقت سب سے زیادہ جاننے لگے جب انہوں نے کے پی کے کی ایک سڑک پر تنقید کی جس کو اخبارات اور نیوز چینلز نے جگہ دی۔ اس معاملہ میں وہ سیاست دانوں کی تنقید کی زد میں بھی آئے۔یہ ان کی پہلی اور آخری تنقید تھی پھر وہ پاکستان کی سیاحت اور کلچر میں ایسے گم ہوِِِِِئے کہ اہل وطن کو بتایا کہ کتنا خوبصورت ملک ہے تمہارا۔مارٹن کوبلر جیسی شخصیت پاکستان میں بطور سفیر بن کراکا دکا ہی آئی ہوں گی لیکن اتنی پاکستانیوں کی ان سے محبت اور ان کی پاکستانیوں سے محبت کم ہی کسی سفیر کے نصیب میں آئی ہے۔ پاکستان سے الوداع لیتے ہوئے انہوں نے پاکستانی شیروانی پہن کر اپناپیغام بھی ٹویٹر پر نشر کیے اور صدر پاکستان سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔ صدرپاکستان نے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ مارٹن صرف پاکستان کا روشن چہرے دنیا کو دکھا کر نہیں جارہے بلکہ وہ یہ بھی بتا کر جارہے ہیں کہ ان کا ملک کتنا عظیم ہے اور وہاں کے لوگ کتنے اچھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تصاویر بولتی ہیں
صدر پاکستان نے مارٹن سے الوداعی ملاقات بھی کی
اس دروازے کے متعلق ان کا خیال تھا کہ اسے وہ اپنے ساتھ لے کر جائیں گے
ایک دفعہ گڑ بنانے کا خیال آیا تو خود ہی کوشش شروع کر دی لوگوں نے اس تصویر کو بہت پسند کیا
عام سواریوں میں عام لوگوں کے ساتھ سفر کرنا ان کو اچھا لگتا تھا
پاکستان میں مختلف مقامات سے لی گئی ان کی تصاویر کا مجموعہ
ایک دفعہ چنگ چی چلانے کا شوق بھی پیدا ہوا

تصاویر رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر سے لی گئی ہیں