agriculture

زراعت صرف توجہ کی طلبگار ہے

EjazNews
alif saleem

دنیا بھر میں خوراک کا مسئلہ انتہائی گھمبیر صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس وقت پاکستان کی 60فیصد آبادی براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ ملک کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ 26فیصد ہے۔ لیکن بدقسمتی دیکھئےہمارے ہاں گندم کی پیداوار میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے۔اس کی ایک وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور دوسری موسمیاتی تبدیلیوں کو بھی گردانا جارہا ہے جو فصلات کی کٹائی اور بوائی پر اثر انداز ہو تی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بیشتر کاشتکار ایسے ہیں جن کے پاس قطعات اراضی بہت کم ہے ،سرمایہ سے ان کا دامن ہمیشہ خالی رہا ہے ۔
اگر ہم اپنے ملک کا کل جغرافیائی رقبہ دیکھیں تو یہ رقبہ 79.16ملین ہیکٹر ہے۔ جس میں سے زیر کاشت صر21.54ملین ہیکٹر ہے جبکہ 8.92ملین ہیکٹر رقبہ ایسا ہے جسے قابل کاشت بنایا جاسکتا ہے۔اگر آپ دنیا کی کاشتکاری کی طرف دیکھیں تو آج دنیا بھر میں فصلوں کی کاشت سائنسی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے گزشتہ ادوار میں ہمارے ہاں ایک عرب ملک بنجر رقبہ کو لیز پر لینا چارہا تھا اس کے لیے وہ جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کر کے بنجر زمین کو آباد کر کے اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ لیکن ہمارے ہا ں اس پر بہت لے دے ہوئی اور 10-12سال بعد بھی وہ زمین بنجر کی بنجر پڑی ہے۔ دنیا میں جدید ٹیکنالوجی موجود ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟۔فرانس اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ فی ہیکٹر پیداوار 6.5ٹن حاصل کر رہا ہے، مصر میں فی ہیکٹر پیداوار5ٹن ہے جبکہ لیبیا اور سعودی عرب میں4ٹن،میکسیکو میں یہ پیداوار4.5ٹن فی ہیکٹر ہے۔ ہمارے ہمسائے میں دو بڑے ممالک چین اور بھارت ہیں چین کی فی ہیکٹر پیداوار3.5 اور بھارت کی 2.4ٹن فی ہیکٹر ہے ۔
عباسی دور کے مشہور ماہر تعلیم وزیر نظام الملک طوسی نے کہا تھا: ’’کسی قوم کی بقا قلعہ بندیوں میں نہیں بلکہ اس کے افراد کی تعلیم پر منحصر ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل عطا کر رکھے ہیں اس کی افرادی قوت گونہ گوں صلاحیتوں کی مالک ہے لیکن ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے جس قسم کی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے اس کی طرف آج تک توجہ نہیں دی گئی۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں کوئی شعبہ ہوگا جو ہماری قومی اور ملی ضروریات کے مطابق ہو ۔ ہماری آبادی کا سب زیادہ حصہ آج بھی دیہات میں مقیم ہے لیکن اگر وہاں آپ نظام تعلیم دیکھ لیں اور اس کی حالت زار تو اندازہ کرنا مشکل نہیں ہم کس سمت میں گامزن ہیں۔ جن ممالک نے ترقی کی ہے انہوں نے سب سے پہلے تعلیم کی بے مقصدیت کو ختم کیا ہے۔ دنیا میں بہت سے ایسے سکول بھی بنے ہوئے ہیں جہاں پر پھلوں اور سبزیوں کی سائنسی طریقے پر کاشت کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔جہاں استاد شاگردوں کو ان فصلوں کی کاشت کی عملی تربیت دیتے ہیں ۔چین ہماراہمسایہ ملک ہے اس نے زرعی تعلیم ، تحقیق ، توسیع کو یکجا کر دیا ہے ان کے سامنے سب سے بڑا مقصد گائوں کی آبادی کو ان کے حالات کے مطابق مختلف زرعی کام کرنے کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے ہمارے ہاں ایسی پیش بندی کرنے کا شاید ابھی سوچ بچار بھی شروع نہ ہوا ہو۔ ہمارے تقریباً 72فیصد کاشتکار ایسے ہیں جن کے پاس زرعی زمین بہت کم ہے اور وہ چھوٹے کاشتکار کہلاتے ہیں۔ اگر چین کے ماڈل کے طورپر ان کاشتکاروں کی تربیت کی جائے وہاں پر باقاعدہ سکول قائم کیے جائیں تو ایک نسل کے بعد دوسری نسل ضروراس قابل ہو جائے گی کہ وہ سائنسی بنیادوں پر فصلوں کو کاشت کرنا شروع کر دے گی ،جب آمدن میں اضافہ ہو تا ہے تو سب اس سمت میں چل پڑتے ہیں کیونکہ زندگی میں آسانیاں سب کو اچھی لگتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مقامی حکومتیں ۔۔۔دنیا کے بہت سے ممالک میں کلیدی حیثیت کی حامل