imran khan + shabaz sharif

اپوزیشن لیڈر کاوزیراعظم کو جوابی خط

EjazNews

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر خط کا جواب بھجوادیا ہے۔خط میں اپوزیشن لیڈر نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے مطابق سنجیدگی، اخلاص اور سچی کوشش سے اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ خط میں روایتی وضع داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مضبوط قانونی دلیلوں سے وزیراعظم کو جواب دیا ہے۔
خط میں میاں شہباز شریف نے 3-3نام تجویز کیے ہیں۔قائد حزب اختلاف کے خط کے ساتھ متعلقہ افراد کی سی ویز بھی بھجوائی گئی ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ہمیں معزز عدالت عظمی کے فیصلوں کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے۔
اس سے پہلے بھی خط لکھا گیا جس پر اپوزیشن لیڈر نے اعتراض اٹھائے۔
اس سے پہلے لکھئے گئے خط میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ خط وزیر خارجہ کی طرف سے نہیں بلکہ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کی طرف سے بھجوایا گیا ہے۔ یہ خط آئین کی خلاف ورزی ہے ، اسے مشاورت نہیں کہا جاسکتا۔ وزارت خارجہ کی طرف سے بھجوائے گئے خط میں آئینی شقوں کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔ خط میں وزیراعظم کے تجویز کر دہ ناموں کا بھی ذکر نہیں اور خط میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ یا وزارت خارجہ کو اختیار تفویض کیا ہے۔خط میں کہا گیا دستور کے تقاضے کے تحت مشاورت کسی اور ذریعے سے نہیں کی جاسکتی۔ اس عمل سے نظریں چرانا آئینی شقوں کا احترام نہ کرنے اور انہیں نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ کے خط میں جو چھ نام ہیں وہ آپ کے سیکرٹری کے خط میں دئیے گئے ناموں سے مختلف ہیں۔ خط میں کہاگیا کہ مطلوبہ تیاری، غور اور اشتراک عمل کا نہ ہونا اس امر کاب ین ثبوت ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپ کے سیکرٹری کے خط میں تحریر ہے کہ وزیراعظم نے اپنی فہرست پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی ہے ، یہ خط آئین کے آرٹیکل 213-2Aکی خلاف ورزی ہے۔ یہ نام صرف اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کے بعد ہی بھجوائے جاسکتے ہیں۔دونوں خطوط واپس لینے سے محسوس ہوتا ہے کہ درست قانونی پوزیشن تسلیم کر لی گئی۔انہوں نے کہا ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ 213/2-Aکے مطابق زبانی یا تحریری رابطہ کے ذریعے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ذاتی شمولیت لازمی ہے اور عدالت عظمی کے فیصلوں سے بھی یہی رہنمائی ملتی ہے۔
تاہم وزیراعظم نے خود خط لکھا جس کے جواب میں اپوزیشن لیڈر نے نام تجویز کیے۔

یہ بھی پڑھیں:  قومی اسمبلی میں اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020ء منظور