born baby

نومولودکے بارے میں اسلامی تعلیمات

EjazNews

گو انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن بوقت پیدائش دوسری مخلوقات کی نسبت وہ سب سے زیادہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ اگراس وقت بعض امور میں احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو اس کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے جو عمر بھر قائم رہتا ہے اس کے علاوہ بچے ہی بڑے ہو کر قوم کی باگ ڈور سنبھالا کرتے ہیں۔ ان کی صحت و تندرستی اہم قومی مسئلہ ہوتا ہے اس لیے حفظان صحت کے ان اصول بیان کرنا ضروری ہے جو اسلام نے بچے کی پیدائش کی نسبت دئیے ہیں۔
ختنہ
بچہ وزچہ کے قیام صحت کےلئے ہر ملک اور قوم میںماحول کے مطابق اور حسب ضرورت مختلف اصول و طریق اختیار کیے جاتے ہیں اور ہمیشہ سے ان پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے۔ ناف کے کاٹنے کے بعد بچے کو غسل دینا، گھٹی پلانا وغیرہ ایسے طریق ہیں جو ساری دنیا میں رائج ہیں مگر ختنہ کا رواج صرف ابراہیمی نسلوں میں پایا جاتا ہے اور وہ اسے اہم مذہبی شعار قرار دیتے ہیں۔ گو عیسائیوں نے اسے ترک کر دیا ہے مسلمان اور یہودی اب تک اس پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔
بعض مغربی عیسائیوں کا خیال ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے بھی یہ رسم دنیا میں موجود تھی۔ ممکن ہے ایسا ہو مگر توریت سے ظاہر ہے پہلے پہل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارشاد خداوندی کے ماتحت اس پر اسی برس کی عمر میں خود بھی عمل کیا اور خاندان کے تمام مردوں حتیٰ کہ غلاموں سے بھی اس حکم پر عمل کرایا۔ اور اللہ تعالیٰ سے آپ کے دائمی عہد کی یہ ایک اہم شرط تھی جس کو آپ نے اپنی آنے والی نسلوں میں بھی رواج دینا تھا۔ اس عہد کے مطاق حضرت مسیح ناصری کی ولادت کے آٹھویں دن ان کے ختنے کیے گئے ۔ جسے اب ان کے ماننے والے عیسائیوں نے پولوس کے قول کے بعد اس مفید رسم کو بالکل ہی ترک کر دیا ہے۔
جن اقوام میں ختنے کا رواج نہیں ہے ان میں ماﺅں کوبڑی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ بچے کی اگر یہ کھال نہ کٹی ہوئی ہو تو اس کی اندرونی جانب پیشاب پسینے سے میل کچیل جم کر بعض دفعہ سوزش بلکہ انڈے بچے پیدا کر دیتی ہے۔ اس کا بچے کے دماغ پر اور بڑی عمر میں قوت رجولیت پر بھی اثر پڑتا ہے۔
اطباءاور بعض ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ بچے کے ختنے نہ کیے ہوئے ہوں اور وہ بچہ بعض اوقات بے ہوشی کے خطرناک دوروں کا شکار ہوتا ہے جس کے ختنے کرا دینے سے جلد شفا یاب ہو جاتا ہے اور اس سے بہتر اور کوئی علاج غیر مختون مریض بچے کا نہیں ہے۔
اس کھال کی موجودگی میں یہ حصہ بدن نہایت حساس ہوتا ہے جس کا اثر بلوغت کے وقت محسوس ہوتا ہے اس کے کٹ جانے سے نرمی اور حس میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ بعض غیر مختون مردوں کی اولاد نہیںہوتی یا کم عمر میں ہی فوت ہو جاتی ہے اطباءاس کا علاج ختنہ تجویز کرتے ہیں بے اولادی کا یہ بڑا کامیاب علاج ہے۔
پیدائش کے سات آٹھ روز کے اندر اندر ختنہ کرادینا مفید ثابت ہوتا ہے یہی اصول شریعت موسوی اور اسلامی کا ہے اس عمر میں زخم بہت جلد مند مل ہو جاتا ہے بچہ کچھ بڑا ہو جائے تو وہ زور سے ہاتھ پاﺅں مارنا شروع کر دیتا ہے ایسی صوتر میں وہ اپنا زخم جلد ٹھیک نہیں ہونے دیتا۔ ذرا ہوشیار ہو جائے اور چلنے پھرنے لگے تو پھر اس کے کٹنے سے اسے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ زیادہ تاخیر ہو جائے تو بعض امراض کے لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جو بعض دفعہ مزمن صورت اختیار کرلیتے ہیں۔
بچے کے بال کاٹنا
دنیا کے تقریباً تمام اقوام نومولود، لڑکا ہو یا لڑکی کے سر کے بال منڈوا دیا کرتی ہیں لیکن ایک قوم ایسی بھی ہے جو پیدائش سے لے کر موت تک جسم کے کسی حصہ کے بال لینا مذہب کے سخت خلاف سمجھتی ہے۔ ہندوﺅں میں بچے کے بال اتروانے کی رسم جسے مونڈن کہتے ہیں بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ بچے کے پہلے بال چونکہ نرم اور کمزور ہوتے ہیں بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی نے ایسے بچے کے بال پکڑ کر کھینچے یا جھٹکا دیا تو سارے ہی اکھڑ آتے ہیں۔
اسلام میں پیدائش کے آٹھویں دن تک ختنے کے ساتھ بال اتروانے کی ہدایت ہے۔ اس طرح بچے کے سر پر سے گندے رحمی مواد صاف ہو جاتے ہیں۔ نئے بال مضبوط پیدا ہو تے ہیں سر کے مسام کھل جانے سے بخارات خارج ہو جاتے ہیں۔ بچے کی گردن بہت کمزور ہوتی ہے کئی ماہ تک سہارے کی محتاج ہوتی ہے سر کے بال منڈوانے سے گردن مضبوط ہو جاتی ہے پہلوانوں کی گردن مضبوط ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بالعموم سرم کے بال گھٹواتے رہتے ہیں۔
بچے کے ناخن کاٹنا
اسلام میں صحت و صفائی کے ناخنوں کا تراشنا ہر مرد وعورت کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ گاہے گاہے بچے کے ہاتھ پاﺅں کے ناخن کاٹنا ضروری ہوتا ہے جس طرح اس کے دوسرے اعضا جلد جلد بڑھتے ہیں اسی طرح اس کے ناخن بڑھا کرتے ہیں ان میں میل کچیل جم جاتی ہے اوربچہ چونکہ ہر وقت ہاتھ پاﺅں مارتا رہتا ہے اس لیے وہ ناخنوں سے اگر تراشے ہوئے نہ ہوں اپنے چہرے اور جسم کو زخیم کرلیا کرتا ہے بعض دفعہ اس کی آنکھ ان سے چبھ جاتی ہے ماں بھی ان ننھے ہتھیاروں سے محفوظ نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھیں:  رشتے داروں کے حقوق