twins

قبل از وقت اور جڑواں بچوں کی پیدائش

EjazNews

ایسا بچہ جو حمل کے 37ہفتے پورے ہونے سے پہلے پیدا ہو جائے قبل از وقت پیدا ہونے والا بچہ ہو تا ہے۔ ہمارے ہاں اسے ”ست ماہا“ بھی کہا جاتا ہے۔ ایسے بچے کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عام طور پر بچہ جتنا چھوٹا ہوگا مسائل اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ بڑا مسئلہ سانس کی تکلیف کا ہوتا ہے پیدا ہونے کے بعد جب بچہ روتا ہے اور پہلی سانس لیتا ہے تو اسے کے پھیپھڑے پھولتے یا کھلتے ہیں۔ پورے دنوں کے بچے میں ایک مادہ پھیپھڑوں کو بعد ازاں پھیلاﺅ کی حالت میں رکھتا ہے اور دوبارہ سکڑ جانے یا بند ہو جانے سے بچاتا ہے۔ اگر یہ مادہ موجود نہ ہو تو ہر بار جب وہ سانس باہر نکالے گا تو پھیپھڑے مکمل سکڑ جائیں گے اور بچے کو سانس اندر کھینچنے میں شدید کوشش کرناپڑے گی اور یہاں تک کہ وہ سانس کا عمل جاری رکھنے میںناکام ہو جائے گا اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ یہ مادہ حمل کے چونتیسویں ہفتے میں پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چونتیسواں ہفتہ انتہائی اہم ہوتا ہے اور اس کے بعد پیداہونے والے بچوں کے زندہ رہنے کے امکان اس سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کیلئے جو مشکلات قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے کوپیش آسکتی ہیں وہ ہیں کھانے کی مشکلات، جسم کا درجہ حرارت قائم رکھنے کی مشکلات اور دماغی امراض۔
بہت سارے محققین نے ایسے مریضوں کو جن میں قبل از وقت پیدائش کے امکانات پائے جاتے ہیں ڈھونڈ نکالنے اور قبل از وقت پیدائش سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ جس کیلئے مکمل آرام، کوکھ کو سکون میں رکھنے والی حفاظتی دوائیںاور کوکھ کو ٹانکے لگانے جیسے طریقے استعمال کیے جاچکے ہیں۔ یہ ساری تراکیب ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتیں۔ قبل از وقت پیدائش کو روکنے کا سب سے قابل اعتماد طریقہ قبل از وقت زچکی کو روکنا ہے۔
اگر کسی عورت میں وقت سے پہلے زچگی کا عمل شروع ہو جائے تو آج کل ایسی بہت سی دوائیں دستیاب ہیں جن سے اس عمل کو روکنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ بچے کو قبل از وقت پیدائش سے بچانا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اگر زچگی کا عمل بہت آگے بڑھ چکا ہو تو اسے روکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر ماں کو کوئی ایسی بیماری ہو جس میں دوا دینا محفوظ عمل نہ ہو تو قبل از وقت زچگی کو روکنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
جڑواں بچے
جڑواں بچے دو تین چار یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر دو بچوں کی پیدائش کے امکانات 80فیصد میں سے ایک اور تین بچوں کی پیدائش کے امکانات 6400 میں ایک ہوتے ہیں ان میں اہم ترین وجہ ایک وقت میں ایک کی بجائے دو بیضوں کا اخراج ہوتی ہے۔ ایسی عورت جو پہلے جڑواں بچوں کو جنم دے چکی ہے یا اس کے خون کے رشتہ داروں میں ایسا ہی ہو چکا ہے تو اس میں جڑواں بچے جننے کے امکان زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ دونوں بچوں کی جنس ایک ہی ہو اگر چہ ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ دوسری قسم میں ایک ہی بیضہ خارج ہوتا ہے جو مردانہ تخم سے ملاپ کے بعد دو میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایسے بچوں کی جنس ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے اورایسے بچوں میں یہ امکان بھی پایا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے جڑے ہوئے ہوں لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔
عام طور پااس کا شک ابتدائے حمل میں پیٹ کے بہت زیادہ بڑھ جانے سے پڑ تا ہے حمل کے چوبیسویں ہفتے کے بعد بہت زیادہ اعضاءمحسوس کئے جاسکتے ہیں اور جب ڈاکٹر بچے کے دل کی دھڑکن سننا چاہتا ہے تو دو دلوں کے دھڑکنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ بعض خواتین جڑواں بچوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے بہت زیادہ مقدار میں ہارمونز کے سبب حمل کی تکلیف یعنی متلی اور قے کی بہت زیادہ شکایت کرتی ہیں۔آج کل الٹرا ساﺅنڈ کی مدد سے جڑواں بچوں کی تشخیص حمل ٹھہرنے کے چند ہی ہفتے بعد کی جاسکتی ہے۔
ابتدائے حمل میں اسقاط حمل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسی طرح چونکہ ایک سے زیادہ بچوں کی وجہ سے غذا، فولاد اور فولک ایسڈ وغیرہ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اس لئے ماں میں خون کی کمی کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، قبل از وقت پیدائش، کوکھ میں پانی کی زیادتی ناکارہ آنول یا آنول کی قبل از وقت اکھڑ جانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ پیدائش کے بعد بہت زیادہ پھیل ہوئی کوکھ پوری طرح سکڑ نہیں سکتی اس لئے خون زیادہ ضائع ہو نے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بچے کو درپیش خطرات کا انحصار ماں کو اوپر والی بیماریوں میں سے کسی ایک کے ہونے پر ہے۔ آج کل زیادہ احتیاط اور ہسپتال میں زچگی کے انتظامات کی وجہ سے جڑواں بچوں کی پیدائش میں در حقیقت ایک بچے کی پیدائش کے سلسلے میں پائے جانے والے خطرات سے بہت زیادہ بڑھ کر خطرہ نہیں پایا جاتا ۔
چونکہ جڑواں بچوں سے حاملہ خاتون پر ایک بچے سے حاملہ خاتون کی نسبت دباﺅ زیادہ ہوتاہے اس لئے اسے خوراک پر زیادہ تو جہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس کی خوراک میں پروٹین زیادہ ہونی چاہیے خون کی کمی سے بچنے اور دو بچوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے فولاد اور فولک ایسڈ کی اضافی مقدار کھانی چاہئے۔ آرام کی بھی اسے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور بچوں کی نگہداشت کیلئے بھی اسے کسی اور شخص کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
زچگی کا عمل کم و بیش ویسا ہی ہوتا ہے جیسا ایک بچے کے سلسلے میں۔ دوران زچگی اندرونی معائنہ، پانی کی تھیلی کو پھاڑنا اورپہلے بچے کی پیدائش ویسے ہی ہوگی جسے عام طور پر ایک بچے کی ہوتی ہے۔ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ماں کے پیٹ کے معائنے سے ڈاکٹر اندازہ لگائے گا کہ دوسرا بچہ کس پوزیشن میں لیٹاہوا ہے۔ اگر وہ لمبائی کے رخ پر ہے تو پھر کوئی ایسا مسئلہ نہیں اور اگر اس کی پوزیشن کوئی اور ہے تو ڈاکٹر اس کو لمبائی کے رخ پر کرنے کی کوشش کرے گا جس پر سر یا پیٹھ میں سے کچھ بھی نیچے آسکتا ہے۔اکثر اوقات Oxytoxic Dripاستعمال کی جاتی ہے تاکہ کوکھ کی اینٹھن میں قوت پیدا ہو سکے اور دوسرے بچے کی پیدائش میںزیادہ وقفہ نہ آئے۔

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں میں بچہ دانی گرنا