teeth

دانتوں کی حفاظت کیجئےبہتر صحت کیلئے

EjazNews

دانت ہمارے جسم کا ایک لازمی جزو ہیں ، مگر یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ہم ان پر سب سے کم توجہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی بیشتر آبادی اپنے منہ میں چھوٹے بڑے کئی قسم کے مرض پال رہی ہے جو صحت کے لئے نہایت مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اعداد و شمار کی زبان میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کا تقریباً ہر شہری دانتوں کے کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہے۔ 95فیصد بچو ں کے دانت اور مسوڑھے خراب ہیں اور کم از کم 40فیصد بچوں کے دانت ٹیڑھے ہیں اور 10فیصد بچوں کے دانت کو کیڑا یعنی کھوڈ(Avity) پائی جاتی ہے۔اور اس کے بعد جوانی اور ادھیڑ عمر میں دانتوں سے محروم ہونے والوں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خصوصاً خواتین اس تکلیف کا بڑی تیزی سے شکار ہو رہی ہیں۔
ہمارے ہاں باقاعدگی سے دانت صاف کرنے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ اس کے پیچھے روایتی سستی کے ساتھ ساتھ والدین کا خود اس طرف کم متوجہ ہونا بھی اہم جزو ہے۔ خواتین کی اکثریت اس حقیقت سے بے خبر نہیں بلکہ بعض پڑھے لکھے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ برش کرنے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں ہم اس لئے برش ہی نہیں کرتے۔
دانت اور مسوڑھو ں کے معمولی امراض ہی جسم کے دیگر مہلک امراض کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ لا شعوری طور پر بچے نوجوان اور بوڑھے اور خواتین سبھی دانتوں کے امراض کے لپیٹ میں آرہے ہیں حالانکہ اگر معمولی احتیاط سے کام لیا جائے تو ہمارے قدرتی دانت ایک طویل عرصے تک ہمارا سا تھ دے سکتے ہیں۔
دانتوں کی صحت اور صفائی کے بارے میں بعض غلط قسم کی عادات ہماری روایت بن چکی ہیں۔ بہت سے لوگ یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ کئی برس سے باقاعدگی کے ساتھ دانت صاف کرتے ہیں پھر ان کے دانتوں میں تکلیف کیوں ہوتی ہے؟۔ اس کی دو وجوہ ہیں ایک تو یہ کہ دانتوں کی صفائی کے اصول ہی سے ناواقف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے دانت نہ تو صحیح طور پر صاف ہوتے ہیں بلکہ دانتوں کی سائیڈوں پر برش ہی کی وجہ سے سوراخ ہو جاتے ہیں اور ٹھنڈا گرم لگنا شروع ہو جاتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کی حفاظت کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ اب یہ فنا کی طرف کبھی نہ جائے حفاظت اور ا حتیاط کا مقصد تو صرف یہ ہونا چاہئے کہ ہمارا اور اس کا ساتھ بہتر طور پر رہے۔
ہمارے شہروں اور دیہات کے وہ عوام جو روایتاً دانت صاف کرنے کے عادی ہیں وہ صبح سویرے ناشتے سے پہلے دانت صاف کرتے ہیں۔ یہ طریقہ ان کی روایت اور عادت بن چکا ہے اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے کہ جو کہ بیڈ ٹی کا عادی ہے مگر دانت برش نہیں کرتا پھر چائے کے بعد ناشتے سے پہلے برش کر کے اپنی ذات پر احسان کر دے گا۔ دانتوں کی صفائی کا مرحلہ دراصل ناشتہ اور کھانے کے بعد آتا ہے۔ دانتوں کی صفائی کا مقصد یہ ہے کہ خوراک کے جو ذرات دانتوں کے درمیان والی جگہوں میں رہ جاتے ہیں انہیں نکال دیا جائے۔ اس لئے رات کے کھانے کے بعد خاص طور پر دانتوں کو برش یا مسواک سے اچھی طرح صاف کرنا چاہئے تاکہ خوراک کے ذرات نکل جائیں اور رات کو زہریلے مادے نہ بننے پائیں۔ اگر رات کو دانت اچھی طرح صاف کر کے سوئیں توپھر بیڈ ٹی کچھ فائدہ دے گی کیونکہ صبح نہار منہ جو رطوبتیں پیدا ہوتی ہیں ہماری صحت کے لئے بہت بہتر ہوتی ہیں اگر دانت رات کو سونے سے پہلے صاف کئے گئے ہوں ورنہ نہیں اور ناشتے سے پہلے صرف کلی کر لینا ہی کافی ہے البتہ ناشتے یا کھانے کے بعد دانتو ں کو برش سے اچھی طرح صاف کرلینا چاہئے۔ تاکہ خوراک کے ذرات جراثیم کی پرورش کا باعث نہ بنیں۔ دانتوں کی صفائی کے لئے کوئلوں کا سفوف۔ بادام کے چھلکو ں کا منجن ، اینٹوں کا برادہ یا اور کسی قسم کا منجن استعمال کرنا فائدہ کے بجائے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ منجن وغیرہ کے ذرات پھنس کر تعفن اور بیماری کا با عث بنتے ہیں جس کی وجہ سے مسوڑھوں سے خون نکلنا عام معمول بن جاتا ہے۔
اسی طرح انگلی سے ٹوٹھ پیسٹ کا استعمال بھی غلط اور نقصان دہ ہے۔ کھانے کے بعد خلال کرنا اور دھاگے سے دانتوں میں پھنسے ہوئے خوراک کے ذرات نکالنا نہایت روری اور مفید ہے ٹوتھ پک استعمال کرنے سے دانتوں میں مزید سوراخ پیدا ہو جاتے ہیں۔
پرانے زمانے میں لوگ باقاعدگی سے خلال کرتے تھے اور خلال کا آلہ دھاگے سے باندھ کر گلے میں لٹکائے رکھتے تھے۔ ان کے دانتوں کی صحت کا راز ہی یہ تھا بہر حال دانتوں کی باقاعدہ صفائی کے لئے کوئی عام ٹوتھ پیسٹ اور سادہ برش استعمال کرنا مفید ہے۔
ہمارے دانت ایک مشین کی طر ح خوراک کو باریک پیسنے میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں یہ ہر قسم کے بیرونی حصے کے وہ ارکان ہیں جو نہ صرف چہرے کا حسن بھی نکھار تے ہیں بلکہ شخصی کشش پیدا کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
دانت دل اور جگر کی طرح کیمیائی رطوبتیں پیدا کرتے ہیں بلکہ یہ جسم کا وہ حصہ ہیں۔ جو تادم آخر انسان کا ساتھ دیتے ہیں۔ دانت ہزاروں سال زمین کے اندر دفن جسموں میں اسی طرح موجود ہوتے ہیں اور تاریخ کے خاص دور کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں ان دانتوں کا مالک زندہ تھا۔ گفتگو کے اندرونی اور شائستگی بھی اچھے اور صحت مند دانتوں ہی کی مرہون منت ہیں۔
آج کل دنیا میں دانتوں کی شکل و صورت کو دیکھ کر شخصیت کوپرکھا جاسکتا ہے مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے اوپر اور سامنے والے دانت کسی ماہر کے ہاتھ آجائیں تو وہ بغیر پر کھے محض دانتوں کے ذریعے سے ہی اس کا تجزیہ کر لے گا۔ چہرے کی شکل اور اوپر والے سامنے کے دانتوں کی الٹی صورت ایک جیسی ہوتی ہے۔ جدید نفسیات کے مطابق چہرے کی بناوٹ تین حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ مثلاً گول چہرے اس کی خوبصورتی، حسن اور خدو خال جاذب نظر ہوتے ہیں، لمبوترا چہرہ۔ ایسے چہرے والی شخصیت میں چڑا چڑاپن جذباتییت اور غیر مستقل مزاجی ہوگی۔
چوکور چہرے کا مالک عموماً اچھی متوازن طبیعت لین دین میں کھرا اور گفتار میں شیریں ہوتا ہے ان چہروں کے کر داروں کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں میں یہ کہنا بجا سمجھتی ہوں کہ محض ایک دانت سے انسان کی شخصیت اور کر دار کو پرکھا جاسکتا ہے۔
یہاں تک تو بات ہوئی دانتوں کی اب میں آپ کی توجہ دانتوں کے بنیادی جزو مسوڑھوں کی طرف دلانا چاہوں گی کیونکہ اگر مسوڑھے صحت مند ہیں تو دانت بھی صحت مند ہی ہوں گے۔ ہمارے ہاں دانتوں کے امراض کی اگر وجوہات تلاش کی جائیں تو 99فیصد دانتوں کی بیماریاں مسوڑھوں ہی سے پیدا ہوتی ہیں مثلاً ٹھنڈا گرم لگنا، مسوڑھوں سے خون آنا ، دانتوں کے ساتھ ساتھ کیڑے ہونا منہ سے بدبو آنا وغیرہ وغیرہ۔
مسوڑھوں کامرض ایک عالمگیر مرض ہے۔ تین سال کی عمر کے تقریباً 20فیصد بچے مسوڑھوں کے مریض ہو جاتے ہیں اور 6سال کی عمر میں ان کی تعداد 60فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور جب 11سال کے قریب ہوتے ہیں تو ان کی اوسط 90فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ گیارہ اور سترہ سال کے لگ بھگ عمر میں مریض کو دانتوں کی صفائی کا احساس زیادہ ہوتا ہے جوں جوں عمر میں اضافہ ہوتا ہے مسوڑھوں کے امراض بھی بڑھتے جاتے ہیں ۔ لڑکیوں میں ساڑھے دس سال کی عمر میں مسوڑھوں کی تکلیف زوروں پر ہوتی ہے۔ یہ زور اگلے تین سالوں میں ٹوٹ جاتا ہے لڑکوں میں اس مرض کا حملہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں ہوتا ہے اس عمر میں لڑکیوں کا منہ صفائی کی طرف زیادہ رجحان ہوتا ہے تاہم اس عمر کے بعد مرض تقریباً اس حالت میں رہتا ہے۔ اس کا انحصار زیادہ تر اسی بات پر ہوتا ہے کہ لڑکی اپنے منہ کی صفائی کس طرح کرتی ہے۔ اور اپنے دانتوں کی صفائی پر کتنی توجہ دیتی ہے۔
اپنے طور پر ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے دانتوں کی حفاظت کرے ان کی صفائی کا خاص خیال رکھے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ آج بھی ایسے لوگ خال خال نظر آتے ہیں جو ساٹھ سال کی عمر پھلانگ چکے ہیں اور ان کے تمام دانت سلامت ہیں ان کو دانتوں کی کوئی بیماری نہیں وہ اس عمر میں گنڈیریاں چوستے اور ہڈیاں چبا جاتے ہیں گوشت کھاتے ہیں۔
برش کیسا ہونا چاہئے،کیسے کرنے چاہئے
کچھ برش سخت ہوتے ہیں اور کچھ درمیان میں نرم، لیکن اب سخت برش دانتوں کے لئے اچھے نہیں سمجھے جاتے کیونکہ مسوڑھوں کے ریشے نرم و نازک ہوتے ہیں، ان کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے آپ کو چاہئے کہ اچھی قسم کا برش خریدئیے جس کے سرے نوکیلے نہ ہوں اور نہ اتنا نرم کہ وہ صاف نہ کر سکیں۔ برش کا اصل مقصد دانتوں کی مکمل صفائی اور مسوڑھوں کی تہہ میں جمے ہوئے (پلاک) کی صفائی ہے۔ میل کی سفید یا زرد تہہ جم کر مسوڑھوں کے گوشت کو اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ جڑیں کھلتی ہیں تو جراثیم حملہ کر دیتے ہیں۔ خون نکلتا ہے پیپ پڑ جاتی ہے۔مسواک یا برش کو داتوں پر اوپر نیچے پھیرنا چاہئے تاکہ ان کے درمیانی دانت صاف ہو جائیں۔ برش صاف ستھر رکھنا چاہئے کچھ لوگ ہر ماہ برش بدل لیتے ہیں۔ برش میں پیسٹ لگا کر اور نم رہے تو اس میں جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں کچھ تو احتیاطاً پیسٹ انگلی سے لگا کر کرتے ہیں اورپھر برش دھو کر سیدھا کھڑا کر دیتے ہیں۔ برش کو پلاسٹک کے برتن میں رکھ دیں تو وہ سوکھتا نہیں گیلا رہتا ہے اسے سیدھا رکھنا چاہئے۔ ہر دس روز کے بعد برش کو گرم پانی سے دھوئیے۔
مسواک
دانتوں کی صفائی کے لئے تازہ مسواک کا کوئی بدل نہیں۔ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ مسواک بہت پسند فرماتے تھے۔ ہمارے ہاں نیم، کیکر ،زیتون، سکھ چین اور پیلو کی مسواک استعمال کی جاتی ہے۔ مغرب میں اسے ’’ٹوتھ برش ٹری‘‘ کہتے ہیں ۔اس کے ریشے نرم و نازک ہوتے ہیں جو مسوڑھوں پر خراش نہیں ڈالتے۔ مسواک برش سے بہتر ہوتی ہے۔ دانتوں کو صاف کرتی ہے ان میں چمک لاتی ہے۔ گندی رطوبات نکالتی اور منہ کی بدبو دور کر دیتی ہے۔ حلق میں جما بلغم نکال دیتی ہے گلے کے امراض میں مفید ہے۔
خراب مسوڑھوں کے گھریلو ٹوٹکے
لیموں کا رس انگلی سے مسوڑھوں پر ملئے۔
پالک کے تازہ پتے چبا کر مسوڑھوں کی مالش کیجئے۔
آم کے پتے چبا کر مسوڑھوں پر ملئے۔
سونڈ، نمک، کالی مرچ ، گیرو ، تمباکو کو ہم وزن پیس کر منجن کیجئے۔
امرود کے پتے پانی میں جوش دے کر غرار کیجئے۔
پھٹکری اور کالی مرچ پیس کر دانتوں پر ملئے
کینو،سنگترے کا جوس روزانہ پیا کیجئے۔
سلاد میں ٹماٹر، ہری مرچ، آلو، مٹر ، گوبھی بھی شامل کر کے کھائیے۔
لیموں کے رس میں نمک ملا کر روزانہ مسوڑھوں پر ملیں۔
سرسوں کے تیل میں تھوڑا سا نمک ملا کر مسوڑھوں اور دانتوں پر ملنے سے دانت صاف ہوتے ہیں درد میں آرام آتا ہے۔
ادرک کا ٹکڑا نمک لگا کر دانت میں دبائیں، اس سے بھی درد میں آرام ملتا ہے۔
مسوڑھے سوجے ہوں تو خشک تمباکو کے پتے 25گرام، سیاہ مرچ3گرام لیجئے اور پیس کر ملئے ، منہ میں سے پانی نکل کر آرام آئے گا۔
(تحریر: ڈاکٹر ثمرین فرید)

یہ بھی پڑھیں:  ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک
کیٹاگری میں : صحت