child

اب عثمان نافرمانی نہیں کرتا

EjazNews

گرمی آج بہت غضب کی پڑ رہی تھی۔ سورج سوا نیزے پر تھا۔ پرندے اپنے آشیانے میں دبکے بیٹھے تاک رہے تھے کہ کب سورج ٹھنڈا ہو اور کب خوراک اکٹھی کی جائے ۔ شدت آفتاب یوں تھی کہ کوئی دانہ گرے اور بھن جائے اور کوئی پرندہ اڑے تو کباب بنے۔ گرمیوں میں پہلے پہل تو لو نے جھلسایا ہوا تھا لیکن آج وہ بھی جامد تھی اس کا کام بھی آج سورج کر رہا تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبکے پڑے تھے ۔ مائوں نے اپنے اپنے بچوں کو ڈرا دھمکا کر سلا دیا تھا اور خود بھی سوئی ہو ئیں تھیں۔ تمام اطراف خاموشی کا راج تھا۔ ایسے ماحول میں جب سب سوئے ہوئے تھے، ایک عثمان ہی تھا جو کہ اپنی ماں کے سونے کا منتظر تھا۔ اس کی ماں نے اسے باہر نہ جانے کی نصیحت کی تھی۔ وقتی طور پر تو اس نے بات مان لی لیکن اس نے باہر جانے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔
آخر کلاک کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں نے ایک بجایا۔ عثمان فوراً اٹھ بیٹھا اور ایک نظر گھروالوں پر ڈالی۔ سب گہری نیند سو رہے تھے ۔ وہ چور قدموں سے دروازے کی جانب بڑھا اور آہستہ سے باہر نکل گیا۔ باہر زندگی تقریباً مفلوج ہوئی پڑی تھی ۔ دکانیں بند تھیں اور سڑکیں سنسان ، سورج بدستور اپنی جگہ پر قائم تھا۔ اس نے گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے زبان ہونٹوں پر پھیری اور دائیں جانب چل دیا۔
یہ ہرگز نہ تھا کہ عثمان ایک نافرمان بچہ تھا اور اپنے والدین کی حکم عدولی کرتا تھا۔ وہ اپنے والدین کا ہر حکم مانتا تھا لیکن آج معاملہ کچھ اور تھا۔ حریف ٹیم سے آج عثمان کا فائنل کر کٹ میچ تھا اور اس کو ایک بجے میدان میں پہنچنا تھا ورنہ وہ فائنل ہار جاتے۔
اس کے قدم تیزی سے میدان کی طرف اٹھ رہے تھے۔ آخر وہ میدان کے قریب پہنچ گیا اور میدان کی طرف دیکھنے لگا۔ لگتاہے باقی دوست گھر سے نکل نہیں سکے‘‘۔ اس نے سوچا ابھی وہ کسی فیصلے پر نہ پہنچا تھا کہ کسی نے اس سرپر زور سے ضرب لگائی وہ چکرا کر سڑ ک پر گر پڑا۔ اسے دن میں تارے نظر آنے لگے۔ آخر ی چیز جو اس نے محسوس کی کہ چند مضبوط ہاتھوں نے اسے پکڑ لیا تھا۔ وہ عالم بے ہوشی میں اترتا چلا گیا۔
ہوش آنے کے بعد اسے لگا کہ یہاں کا ماحول تو بہت ٹھنڈا ہے۔ شاید کوئی تہہ خانہ ہے،اس نے محسوس کیا۔ ’’لیکن میں ہوں کہا ’’؟ اس نے خود سے ہی سرگوشی کی۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ عقب سے آواز آئی ’’تم اب اغواء ہو چکے ہو اور ہماری نظر میں ہو۔ خبردار جو کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی‘‘۔ آواز کے بند ہوتے ہی اس کے توطوطے ہی اڑ گئے اور وہ گھبرا گیا۔ تو کیا وہ اغوا کر لیا گیا تھا وہ رونے لگا۔ اسے ماں کی نصیحت رہ رہ کر یاد آنے لگی۔ آخر دو دن اسی تہہ خانے میں گزر گئے، ایک دن اسے سرگوشی سنی، کوئی کہہ رہا تھا۔ ’’کل صبح ہوتے ہی ان کو بیرون ملک بھیج دیا جائے گا۔ سب انتظامات مکمل کر لو، سمجھ گئے‘‘۔ ٹھیک ہے چیف سب کام مکمل ہیں۔ پھر اسے دور جاتے قدموں کی آواز سنی اور سناٹا چھا گیا۔
وہ تو یہ سن کر چکر ا کر رہ گیا۔ وہ بچنے کی کوئی ترکیب سوچنے لگا، اس نے کمرے کاجائزہ لیا، اسے وہاں ایک آہنی دروازہ ملا، اس نے دروازے کو ہاتھ لگایا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ شاید وہ اس کی خبر لینے آئے تھے اور دروازہ بند کرنا بھول گئے تھے۔ اس نے دیکھا کہ وہاں کافی راہداریاں اور کمرے تھے۔ لیکن اس نے اس طرف کچھ توجہ نہ دی اور باہر جانے کا دروازہ ڈھونڈنے لگا۔ کچھ کوشش کے بعد اسے ایک دروازہ نظر آیا جو کھلا ہی تھا۔ اس نے باہر دیکھا تو چوکیدار گہری نیند سو رہاتھا۔ وہ احتیاط سے باہر آگیا۔ سڑک آتے ہی اس نے ڈگمگاتے لاغر قدموں سے دوڑ لگا دی۔ یہ تمام راستے اس کے جانے پہچانے ہی تھے۔ وہ یہ جان کر حیران رہ گیا کہ یہ تہہ خانہ شہر کی انتہائی مصروف سڑک کے کنارے تھا، لیکن کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ بھاگتے بھاگتے اس کا سانس پھول گیا۔ دودن کا بھوکا تھا، بھاگنا تو درکنا ر اب اس سے چلنا دو بھر ہو رہا تھا۔ آخر بھاگتے بھاگتے وہ چکرایا اور گر پڑا اور اسے کوئی ہوش نہ رہی۔
جب اسے ہوش آیا تو اس نے خو د کونرم سفید بستر پر پایا۔ اسے ہوش میں آتے دیکھتے ہی اس کے والدین اس کی طرف لپکے اور پیار کرنے لگے۔ اس کی ماں رو رہی تھی، شرمندگی سے عثمان کی آنکھیں بھر آئیں۔ آخر وہ رو پڑا اور ماں سے کہنے لگا کہ آئندہ وہ کبھی نافرمانی نہ کرے گا۔ ماں نے اسے معاف کر دیا اور پیار کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں تمہاری سزا مل چکی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تمہیں اپنی غلطی کا احساس بھی ہو چکا ہے۔ یہ تو خدا کا شکر ہے کہ گشت پر جوپولیس وین تھی اس نے تمہیں دیکھ لیا اور وہاں پر موجود افراد میں سے ایک ہمارا محلہ دار نکلا اور تمہیں یہاں پہنچا دیا۔
عثمان کے ہوش میں آتے ہی پولیس اہلکار نے ا س سے اغواء کاروں کےمتعلق پوچھا،عثمان کو ان کے ٹھکانے کا معلوم تھا۔پولیس نے بروقت کا رروائی کرتے ہوئے بیسیوں بچوں کو اغواء ہونے سے بچا لیا۔عثمان نے اب نافرمانی سے توبہ کرلی۔
پیارے بچو! سنسان اور غیر آباد جگہوں پر جانے سے گریز کیا کریں اور ساتھ ساتھ کسی اجنبی کی دی ہوئی کسی چیز کوکھانے سے بھی۔گرمیوں کے موسم میں دوپہر کا وقت ایسا ہوتا ہے جب سب لوگ اپنے گھروں میں ہوتے ہیں ایسے میں سنسان جگہوں پر اکیلے جانا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
تحریر: محمد فضیل خالد

یہ بھی پڑھیں:  دو بہنوں کی کہانی