wudhu

وضو کے فوائد

EjazNews

صبح سویرے قضاءحاجت اور طہارت کے بعدنماز فجر پڑھنے کے لیے ایک خاص طریق و قاعدہ کے مطابق صاف ستھرے پانی سے ہاتھ منہ، پاﺅں وغیرہ دھوئے جاتے ہیں اور یہ عمل وضو کہلاتا ہے۔ وضو کے معانی ہیں پاکیزگی اور خوبصورتی۔ وضو سے متعلق ہدایات ہم کچھ وضاحت و تفصیل سے بیان کریں گے اور ان پر طویل بحث کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ہر مذہت و ملت میں عبادت کے لیے جسم اور لباس کا پاک و صاف ہونا ضروری سمجھا گیا ہے۔ لیکن اس صفائی کی نسبت کسی مذہب نے خاص ہدایات و اصول یا کوئی ترکیب و ترتیب تجویز نہیں کی۔ بلکہ ہر عبادت گزار کی مرضی و منشا پر یہ معاملہ چھوڑ دیاہے۔
مگر اسلام میں اس کے لیے بڑی تفصیلات اور طریق و قواعد مقرر ہیں جن پر عمل کیے بغیر عبادت کے لیے مناسب حال پاکیزگی حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ یہ کہنا چاہیے عبادت ہی نہیں ہوسکتی۔
اس کا پہلا لوازمہ تو طہارت یا استنجا ہے ۔ دوسرا وضو ہے، گویا جسم اور لباس کی ظاہری پاکیزگی اسلامی عبادت کا جزو لا ینفک ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ طریقے اور قواعدنہایت سہل اور آسان ہیں پھر ان پر بوجہ معذوری اگر عمل نہ کیا جاسکے تو عبادت میں کوئی ہرج واقع نہیں ہوتا۔ بلکہ اسلام کی دی ہوئی کسی رخصت سے بوقت ضرورت فائدہ نہ اٹھانا اسلام کے خلاف اور ناپسندیدہ فعل ہوتا ہے۔ مثلاً بیماری میں جب پانی کا استعمال مریض کے لیے مضر ہو۔ برف باری اور شدید سردی میںاگر گرم پانی کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکے یا ریتلے خشک علاقہ یا سفر میں جہاںپینے کو بھی پانی دستیاب ہونا مشکل ہو تو پانی سے طہارت اور وضو پر اصرار کرنا حماقت اور اسلام کی تعلیم کے صریحاً خلاف ہوگا۔ اسلام کسی انسان پر اس کی طاقت سے بالا بوجھ نہیںڈالتا۔ ایسے حالات میں پاک و صاف مٹی سے تیمم کرنے کی ہدایت ہے جس کی تفصیلات آگے آئیںگے۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ نیند کے بعد یا کام کاج سے فارغ ہو کر غسل کرنا یا پانی کی قلت یا شدت موسم کے باعث صرف ہاتھ منہ پاﺅں وغیرہ کا دھونااور مہر تر کر نا تروتازگی پیدا کر کے کسل یا تکان دور کر دیتا ہے۔ خاص طور پر گرم علاقوں میں محنت و مشقت کرنے والے مزدوروں کے لیے یہ عمل نہایت ضروری ہوتا ہے اس میںبھی کلام نہیں کہ عبادت کےلئے طبیعت میںتازگی اور سکون کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ہر مسلمان پر روزانہ با وضو پانچ نمازیں پڑھنی فرض ہیں۔ نماز ادا کرنے کےلئے جن اعضاءکے دھونے اور جس طریق سے دھونے پھر جس وقت تک ان کا ایسا دھونا کام آسکتا ہے یعنی وضو کے قائم رہنے کی جو حد مقرر ہے۔ ان امور پر اگر معمولی غور کیا جائے تو حفظان صحت کے نقطہ نظر سے وہ اتنے پر حکمت مفید اور کارآمد اصول ہیں کہ ان سے بہتر تجویز ہی نہیں کیے جاسکتے اور ان کی کہیں مثال ہی نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم فقیہوں نے ان مسائل میں جو بظاہر بالکل معمولی باتیں نظرآتی ہیں بڑی بڑی ضخیم کتابیں تصنیف کی ہیں۔
قرآن کریم میں وضو کا مجمل سا ذکر ہے۔ فرمایا
”نماز کے لیے منہ، کہنیوں تک ہاتھ، ٹخنوں تک پاﺅں دھو لیا کرو اور سر پر مسح کر لیا کرو۔“
تفصیلات اس کی معمولی اختلاف کے ساتھ تمام کتب احادیث اور فقہ میںملتی ہیں۔ ان اختلافات پر کسی بحث کی ضرورت نہیں۔ ہمارا تو یہاں ان ہدایات کے صرف حفظان صحت کے پہلو سے تعلق ہے۔
ہاتھ دھونا
اسلامی تعلیم کے مطابق ہر کام دائیں جانب سے شروع کیا جاتا ہے۔ وضو شروع کرتے ہی پہلے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا جاتا ہے اور کلائی تک دونوں ہاتھ دھوئے جاتے ہیں۔ پانی ایک بار ہاتھوںپر ڈال کر انہیں آپس میں اچھی طرح مل کر میل کچیل نرم کی جاتی ہے۔ پھر دوبارہ سہ بارہ پانی ڈال کر میل کچیل صاف کر دی جاتی ہے۔ مگر ہاتھ ملتے وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کر خوب ملنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ عمل خلال کہلاتا ہے۔ محنت و مشقت کرنے والوں کے لیے جن کے ہاتھ کام کاج سے بالعموم غبار آلود رہتے ہیں یہ عمل بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ صفائی کے علاوہ ہاتھ کی انگلیوں کا اس طرح آپس میں ملنا تھکے ہوئے ہاتھوں کوآرام پہنچاتا ہے۔ جیسا کہ کسی تھکے ہوئے عضو کو دبانے سے راحت پہنچتی ہے۔
وضو کرتے ہوئے ہر عضو متعلقہ کا اچھی طرح دھونا لازمی ہے ۔ حتیٰ کہ انگوٹھی بھی پہن رکھی ہو تو اسے انگلی میں آگے پیچھے کر کے اس کا نچلا حصہ بھی دھو دینا چاہیے۔ اگر اعضا پوری طرح نہ دھوئے جائیں تو میل کچیل پانی کی رطوبت سے اس وقت گھل تو جاتی ہے لیکن پانی خشک ہونے پر پھر وہیں جم جاتی ہے۔
منہ، حلق اور دانتوں کی صفائی
ہاتھ دھونے کے بعد کلیاں کی جاتی ہیں اور دانتوں پر مسواک یا برش کیا جاتا ہے۔ چونکہ دانتوں، مسوڑوں، تالو اور گلے کی صفائی اصول حفظان صحت میں خاص اہمیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس لیے اس پر تفصیل کے ساتھ بحث انشاءاللہ آگے چل کر کی جائے گی۔ یہاں صرف وضو کی ترتیب ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی وجہ سےوضو کرتے ہوئے مسواک یا برش نہ کیا جاسکے تو داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے رگڑ کر ہی دانتوں، مسوڑوں وغیرہ کو صاف کر لیا جاتا ہے ۔ کلیاں تین کی جاتی ہیں۔
ناک کی صفائی
اس کے بعد چلو میںپانی لے کر ناک میںڈالا جاتا ہے اور بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی نتھنوں میں ڈال کر انہیں ملا اور خوب صاف کیا جاتا ہے۔ غلاظت ناک میں ہو تو اسے خارج کیا جاتا ہے مناسب طریق یہ ہوتا ہے کہ ناک میں پانی سانس سے اوپر کھینچا جائے۔ اس سے ناک کی نالیوں میںدور سے غلاظت بھی بآسانی باہر نکل آتی ہے۔ ناک میں اس طرح تین بار پانی ڈال کر اسے خوب صاف کیا جاتا ہے۔
زکام سے بچنے ، گلا اورناک صاف کرنے اور مختلف امراض سے انہیں محفوظ رکھنے کے لیے آج کل ڈاکٹروں نے عجیب و غریب منطق اپنائے ہوئے ہیں جو پسماندہ اور مفلس لوگوں کیلئے بہت مشکل کام ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے گلے ناک منہ وغیرہ کی صفائی اور ان کے مخصوص امراض کے لیے بطور حفظ ماتقدم ایسے مفید، سہل اور نہایت ہی سادہ طریقے تجویز فرمائے جو روزانہ پانچ وقت ہر امیر و غریب متمدن وغیرمتمدن کچھ خرچ کیے بغیر کام میں لاسکتا ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ طریق زمانہ حاضرہ کے تمام طریقوں سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
آنکھوں کی صفائی
ناک کی صفائی کے بعد دونوں ہاتھوں سے سارے چہرے پر آنکھیں کھول کر پانی کے چھینٹے دئیے جاتے ہیں تاکہ آنکھوں پانی پڑے۔ چہرے کی میل کچیل نرم ہو جائے۔ آنکھیں، ٹھوڑی ، گردن کا بالائی حصہ، پیشانی، سر کے بالوں تک رخسار، کانوں کی لو تک خوب ملے جاتے ہیں۔ پھر دو مرتبہ اور چھینٹے اسی طرح دے کر سارا چہرہ صاف کیا جاتا ہے۔ داڑھی کا بھی اگر ہو تو خلال کیا جاتا ہے۔
دن میں پانچ چھ مرتبہ اس طرح آنکھوں کادھونا اورصاف کرناامراض چشم کے لیے بہترین حفظ ماتقدم ہے۔ مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے۔ ایک لوہار کسی سے باتیں کرتے ہوئے اسے بتا رہا تھا”سان پر چھریاں، قینچیاں تیز کرتے ہوئے لوہے کے براوہ کا ایک ریزہ میری آنکھ میں چبھ گیا۔ سخت تکلیف ہوئی۔ باوجود کوشش کے نکل نہ سکا۔ آخر ڈاکٹر کے پاس گیا۔ اس نے نکال دیا۔ ساتھ ہی یہ مشورہ دیا کہ جب اپنا کام کر لو تو آنکھیں کھول کر پانی کے خوب چھینٹے دیا کرو۔ تمام غبار ، معمولی ریزے وغیرہ خود بخود گھل کر نکل جایا کریں گے“۔ آنکھوں کے اس طرح صاف کرنے کا سہل طریق اس وقت سے میرے ذہن نشین ہو گیا ہے اور میں نے ہمیشہ اس سے بڑا فائدہ اٹھایا۔
کہنیوں تک ہاتھوں کا دھونا
چہرہ وغیرہ دھونے کے بعد ہاتھوں سے جو تر ہو چکے ہوتے ہیں بازو کلائی سے کہنیوں کے کچھ اوپر تک مل لیے جاتے ہیں پہلے دہنا پھر بایاں۔ کام کاج میں ہاتھ بالعموم کہنیوں تک ہی غبار وغیرہ سے متاثر ہوتے ہیں اس لیے یہ حد مقرر کی گئی ہے۔ بازوﺅں کا اس سے اوپر دھونا تکلیف مالا یطاق ہے۔ ملنے کے بعد تین تین مرتبہ ان پرپانی ڈال کر انہیں صاف کر لیا جاتا ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کیوں نہ پہلے ہی ہاتھ کہنیوں تک دھو لیے جائیں، غور کیا جائے تو اس طریق میں ایک خاص حکمت ہے اور یہ طریق پوری صفائی اور سہولت کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ منہ ناک آنکھیں چہرہ وغیرہ دھوتے ہوئے میلا پانی لازماً کہنیوں تک بہہ آتا ہے۔ ا گر کہنیوں تک پہلے ہی ہاتھ دھو لیے جائیں تو استعمال شدہ پانی منہ چہرے وغیرہ کا ان کی جا نب بہہ کر انہیں خرابکر دے گا۔ یا تو وہ اسی طرح رہیں گے یا پھر مناسب صفائی کے انہیں دوبارہ صاف کرنا پڑے گا۔ جس سے پانی اور وقت کا ضیاع ہوگا اور تکلیف الگ ہوگی۔
سر وغیرہ کا مسح
اس کے بعد دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر اور پھر گیلے ہاتھ ننگے سر پر پیشانی سے لے کر نصف حصہ یعنی چوٹی تک سارے بالوں پر پھیر لیے جاتے ہیں اسے مسح کہتے ہیں۔ پھر دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں کانوںکے سوراخوں میں ڈال کر انہیں صاف کیا جاتا ہے اورپھر سارے کانوں کے اندرپھیری جاتی ہیں۔ اس کے بعددونوں انگوٹھے کانوں کے باہر کی جانب پھیرے جاتے ہیں۔ پھر دونوں ہاتھ اؑلٹے کر کے گردن کی دونوں جانب پھیرے جاتے ہیں۔
یہ عمل حکمت پر مبنی ہے اور طبی نقطہ نظر سے مفید ہے۔یہ تھکے ماندے یا نیند سے بیدار ہونے والے انسان کے لیے تھکان دور کرنے کا موجب ہوتا ہے۔
میرا ایک ذاتی تجربہ ہے تیراکی کا شوق تھا۔ پانی میں زیادہ دیر رہنے سے سر میںدرد شروع ہو جاتا ۔ استاد نے مشورہ دیا پانی میں داخل ہوکر تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد غوطہ لگا لیا کرو۔
دراصل جب جسم کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو جائے تو بخارات دماغ کی جانب چڑھتے ہیں۔ بالفاظ دیگر نچلا حصہ بدن کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور سر کا اس سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی تفاوت کے باعثدرد سر شروع ہوجاتا ہے چونکہ وضو کرتے ہوئے اخیر میں پاﺅں دھوئے جاتے ہیں ۔اس لیے اگر سر تر کر لیا جائے تو مفید رہتا ہے خواہ اس کا فائدہ کتنا ہی معمولی ہوتا ہو۔
ڈاکٹر کانوں کے سوراخ کسی باریک چیز سے صاف کرنے سے منع کرتے ہیں کیونکہ کانوں کے نازک پردوں کے پھٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کانوں کی میل کچیل خود بخود قدرتی طور پر سوراخوں کے منہ تک آجاتی ہے جو ہاتھ کی انگلیوں سے ہی کسی قسم کا اندر ضرر پہنچائے بغیر بآسانی صاف کی جاسکتی ہے۔ وضو کرتے ہوئے تر انگلیاں روزانہ پانچ چھ مرتبہ کانوں کے سوراخوں میں پھیرنا ان میں میل کچیل رہنے ہی نہیںدیتا ۔
گردن پر مسح کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس پر ٹھنڈک پہنچنے سے سستی، خاص کر صبح کے وقت جو نیند کے غلبہ سے آجاتی ہے دور ہو جاتی ہے۔
پاﺅں دھونا
مسح وغیرہ کے بعد آخر میں دائیں ہاتھ سے پانی ڈال کربائیں ہاتھ سے پہلے دائیاں پھر بایاں پاﺅں ٹخنے سے کچھ اوپر پنڈلیوں تک دھو یا جاتا ہے۔ اور پاﺅں کی انگلیوں کے درمیان بائیں ہاتھ کی انگلیاں ڈال کر اچھی طرح ملا جاتا ہے۔ یہ عمل جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے خلال کہلاتا ہے۔ تین مرتبہ پاﺅں پرپانی ڈال کر انہیں اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے۔
ہاتھ پاﺅں کی انگلیوں کے خلال کرنے کی شارع اسلام علیہ التحیة والسلام نے سخت تاکید فرمائی۔ چنانچہ فرمایا ”جو ہاتھ پاﺅں کی انگلیوں کا پانی سے خلال نہیںکرتا اس کا دوزخ کی آگ سے خلال کیا جائے گا۔“ دراصل یہ حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر اوپر سے پانی بہا دیا جائے اور اندر ونی جانب سے انگلیاں صاف نہ کی جائیں تو وہ حصہ اور زیادہ غلیظ ہو جاتا ہے اور انگلیوں کے درمیان میل کچیل تر ہو کر خارش اور سوزش پیدا کر دیتی ہے۔ بعض دفعہ انگلیاں گل جاتی ہیں۔ یہی جلن اور سوزش دوزخ ہوتی ہے۔ ہاں اگر صبح وضو کر کے موزے یا جرابیں پہن لی جائیں جو پھٹی ہوئی نہ ہوں اور دن بھر انہیں پہنے رہیں تو دن رات کی دوسری نمازوں کے لیے جب وضو کرنے کی ضرورت پیش آئے تو موزے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ہاتھ ان پر مسح کیا جاتا ہے۔
پاﺅں دھونے کی اصل غرض تو ان سے گردو غباردور کرنا ہوتی ہے موزے اور جرابیں انہیںاس سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اور ان پر مسح ایک ظاہرہ صورت پاﺅں کی صفائی کی نسبت قائم رکھی گئی ہے تاکہ اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔
روزانہ اس طریق پر پانچ مرتبہ اگرکوئی اپنے اعضا دھویا کرے تو وہ پانچ مرتبہ گویا نیم غسل کر لیا کرتا ہے حفظان صحت کے لیے یہ کتنا سہل اور بلا خرچ عمل ہے بچے دو چار مرتبہ کر کے سیجھ جاتے ہیں اور نمازی تو اس میں کوئی دقت ہی محسوس نہیں کرتے۔
فضل کریم فارانی

یہ بھی پڑھیں:  مہمانوں کی خدمت