divorse

طلاقوں کی بڑی وجہ ختم ہوتی عدم برداشت

EjazNews

طلاق ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے صرف پاکستانی معاشرہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں پریشانی ہے اس سے ایک تو خاندانی نظام متاثر ہو رہا ہے دوسرا دوبارہ پارٹنر بنانا اور نئے سرے سے زندگی کی شروعات کرنے میں کافی مشکلات آتی ہیں۔ ہمارے ہاں تو شو مئی قسمت کے ساتھ طلاق دینے والا بمشکل دھیج کا سامان واپس کرتا ہے ورنہ ترقی یافتہ معاشروں کی آپ طلاقیں سنیں تو حیران رہ جائیں گے جس میں اربوں اور کروڑوں روپے ان کو اپنی بیوی کیلئے چھوڑنا پڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں طلاق یافتہ عورت میں غلطی نکالنے اور کیڑے نکالنے والوں کی کمی نہیں چہ جائیکہ اس بیچاری کی نے کتنا ہی برداشت کیوں نہ کیا ہو۔ جب کسی کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں عورت طلاق یافتہ ہے تو اس سے دوسری شادی کرنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں عموماً طلاق یافتہ عورت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، آپ جتنا چاہیے دلیلیں دیں لیں غوروفکر کے بعد اسی نتیجے پر پہنچیں گے۔ بلکہ زیادہ تر کیسز میں تو عورت ہی کو طلاق کا ذمّے دار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی ایک عمومی وجہ تو یہ ہے کہ میاں، بیوی شادی جیسے مقدّس رشتے کی ذمداریاں نبھانے میں کوتاہی برتتے ہیں، جس کا انجام یا نتیجہ صرف میاں، بیوی کے درمیان علیحدگی ہی نہیں، بلکہ بسا اوقات خاندانوں کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت بھی ظاہر ہوتا ہے۔پاکستانی معاشرے میں طلاق، خاندان اور متاثرہ فریق کے لیے بدنامی کا باعث بنتی ہے، تو اس سے بہت سے سماجی، نفسیاتی اور معاشی مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں، جن کا عمومی طور پر خواتین ہی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔
ایک ایسا بندھن، جس کا آغاز اکثر و بیش تر خوشیوں، مسرتوں، اُمیدوں اور تمناؤں ہی سے ہوتا ہے، تو پھر آخر کچھ عرصے بعد ایسا کیا ہوجاتا ہے کہ ایک ساتھ جینے، مرنے کی قسمیں کھانے والے، ایک دوسرے کی صورت بھی دیکھنے کے روا دار نہیں رہتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شادی کے بعد مرد و عورت جو ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے ایک نئے گھر کی بنیاد رکھتے ہیں اور گھر کا تصور ذہن میں آتے ہی عموماً چاہت و محبت، ذہنی و نفسیاتی تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ تو اگر کسی جوڑے میں یہ دونوں خاصیتیں، یعنی احساسِ تحفظ اور محبّت موجود نہ ہو، تو پھر ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی ناپسندیدہ حرکات بھی اکثر بڑی لگنے لگتی ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے معمولی شکوے، شکایات کا اگر بروقت اور مناسب طریقے سے ازالہ نہ کیا جائے، تو بات کا بتنگڑ بنتے دیر نہیں لگتی، پھر یہ شکایات، شارٹ ٹائم ناراضی، بات چیت کی بندش، لڑائی جھگڑے، توتو، مَیں مَیں سے بڑھ کر طلاق تک جا پہنچتے ہیں۔ اس ضمن میں اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج کی عورت، مالی طور پر ایک خود مختار عورت ہے، جو عام گھریلو عورتوں کے مقابلے میں ایسی شادی پر، جس میں خوشی کم اور سمجھوتے زیادہ ہوں، یقین نہیں رکھتی۔ آج کی تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خود مختار عورت، معاشرے میں اپنی الگ پہچان کی بھی خواہش مند ہے، تو وہ کسی کے دست نگر رہنے سے بھی گریزاں ہے، خواہ وہ شوہر ہی کیوں نہ ہو، جبکہ ہمارا معاشرہ، ایک مردانہ معاشرہ ہے، جہاں مردوں ہی کی بالادستی ہے اور عموماً مرد، کسی خاتون کو خود کے ہم پلہ یا برابر تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ سوچ اور مزاج کے اس ٹکراؤ کے سبب بھی تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ خواتین کو ازدواجی معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر شوہر کسی سمجھوتے پر تیار نہ ہو اور بیوی بھی اپنے رویوں میں لچک کا مظاہرہ نہ کرے، تو رشتے کی یہ تنی ڈور درمیان سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اور پھر ان حالات میں معاشی طور پر خود مختار عورت اپنی انا یا عزت نفس کی خاطر نت نئے سمجھوتوں اور جھگڑوں سے تنگ آکر طلاق کا کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں رائج جوائنٹ فیملی سسٹم کا بھی اس حوالے سے تجزیہ کیا جانا چاہیے۔ بلاشبہ مشترکہ خاندانی نظام کے بیش بہا فوائد سے انکار ممکن نہیں، مگر اس کا کئی جوڑوں کو طلاق تک پہنچانے میں بھی کم کردار نہیں رہا۔ اگر بیٹا شادی کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ الگ گھر میں رہنا چاہے، تو اُسے’’ رن مرید‘‘ کے خطاب سے نوازا جاتا ہے اور اس کی بیوی کو بغیر کسی وجہ کے’’ ڈائن‘‘ کا لقب دے دیا جاتا ہے کہ بیٹے کو ماں، باپ سے جدا کر کے لے گئی۔ اس کے بعد لڑکے کے والدین اور بہن بھائی جوڑے میں غلط فہمیاں پیدا کر کے انھیں ایک دوسرے سے علیحدہ کروانے پر گویا تل جاتے ہیں اور اگر بیٹا کان کا کچا ہو، یا معاملہ فہم نہ ہو، تو وہ اپنے مشن میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں میاں بیوی کے درمیان اکثر غلط فہمیاں قریبی رشتے داروںکے رویوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن تمام جگہ پر یہ تھیوری نافذ بھی نہیں ہوتی بعض لوگ ایسے بھی ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو خود بہو ،بیٹوں کو علیحدہ کرتے ہیں ۔
بعض گھرانوں میں اپنے کام اور دفتر کی فرسٹریشن بھی اپنے پارٹنر پر نکالنے کا رواج عام ہے، جس کے باعث گھروں میں کشیدگی اور تناؤ کا ماحول رہتا ہے۔ معمولی جھگڑے، بڑے بڑے اختلافات کا رُوپ دھار لیتے ہیں اور بعض اوقات فریقین اسے اپنی انا کا مسئلہ بھی بنا لیتے ہیں، جس کے سبب معاملات سلجھنے کی بجائے، الجھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح کم عُمری میں شادی کر کے زندگی کو پھولوں کی سیج سمجھنے والے نوجوان، جب زندگی کے حقائق کا کھلی آنکھوں سے سامنا کرتے ہیں، تو اُنھیں اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی اتنی بھی سہل نہیں۔ طلاق جیسے اہم سماجی ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے اُس بات کا ذکر بھی انتہائی ضروری ہے کہ جس نے کئی ہنستے بستے گھرانوں کو ڈھیر کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ یہ کہ ہمارے ہاں مَردوں اور عورتوں کے درمیان دوستی کا جو ایک رجحان فروغ پا رہا ہے، اس نے جہاں کئی اخلاقی مفاسد جنم دئیے ہیں، وہیں اس طرح کی دوستیاں میاں بیوی کے رشتے کو بھی کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ کہیں عورت تو کہیں مرد، اس خُوبصورت ازدواجی بندھن میں نقب لگا لیتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے واقعات ہماری سماعتوں سے گزرے ہیں کہ کسی عورت نے منصوبہ بندی کے تحت یا پھر حادثاتی طور پر دوستی کی آڑ میں اس مقدس رشتے کے درمیان حائل ہونے کی کوشش کی، تو کتنے ہی ایسے مرد ہیں کہ جنھوں نے کسی شادی شدہ عورت کی زندگی میں داخل ہو کر اُس کا گھر تباہ کر ڈالا۔ ہمارے معاشرے میں سینکڑوں خواتین پڑھی لکھی ہونے کے باوجود، اپنی عزت اور محبّت کی خاطر چپ سادھ لینا ہی بہتر خیال کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف، ایک عورت ہی دوسری عورت کا گھر تباہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی خاندانی اقدار و روایات کو بحال کرنے، دوبارہ اپنانے کی کوشش کریں۔ اپنے اندر قوت برداشت پیدا کریں۔ رشتوں میں انا کو آڑے نہ آنے دیں، خاص طور پر محبت کے رشتے کو مضبوط کرنے کی شعوری کوشش کریں اور ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھیں۔ اگر کبھی محسوس ہو کہ حالات بے قابو ہو رہے ہیں، تو بزرگوں کو اپنے معاملات میں داخل کریں ۔ اس سے معاملات میں سلجھائو پیدا ہوگا ۔ دوسرا برداشت کی قوت بہر کیف دونوں پارٹنر ز کو بڑھانا ہوگی کیونکہ اگر مرد کام پر جاتا ہے تو گھر گھرستی عورت بھی سنبھالتی اور اگر عورت بھی کام پر جاتی ہے تو پھر یہ اگر انسانی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو یہ اس کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ گھر واپس آکر پہلے کھانا پکائے۔ بچوں کو صبح تیار کرےاورمیاں صاحب کی خواہشات کو پورا کرے۔ اگر دوسرا فریق بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائے تو حالات میں بہتری ممکن ہے اور بڑھتی ہوئی طلاقوں سے بچا جاسکتا ہے۔ جان لیجئے طلاق کے بعد صرف عورت ہی نہیں مرد کو بھی ہزاروں پر یشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پسلیوں کے درمیان موجودغصہ کی کہانی