skin caire

موسم گرما میں جلد کی حفاظت پہلے سے زیاد کریں

EjazNews

ہر سال گرمیاں جلد کے لیے بھاری آزمائش لے کر آتی ہیں۔ سخت گرمی ،فضائی آلودگی،حبس وغیرہ جلد کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔اس سے نہ صرف جلد کی قدرتی چمک ختم ہوتی ہے بلکہ جلد کی سوزش ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ چکنی جلد کی حامل خواتین کے چہرے کی جلد عموماً چکنی ہی رہتی ہے ۔ ان کو گرمیوں میں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کوعموماً دانوں اور کیل مہاسوں کی شکایت رہتی ہےاور جلد پر جھریاں پڑنے لگتی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ گرمیوں میں جلد کے چکنائی پیدا کرنے والے غدود زیادہ ایکٹو ہو جاتے ہیں۔ خشک جلد والی خواتین کو گرمیوں میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا البتہ سردیوں میں ان کی جلد بے رونق اورکھردری ہوجاتی ہے ۔ نارمل جلد چونکہ نہ تو زیادہ چکنی ہوتی ہے اور نہ ہی سخت ، اس لئے اس قسم کی جلد پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی ۔ تاہم توجہ کی ضرورت اسے بھی رہتی ہیں تاکہ کی خوبصورتی برقرار رہ سکے ۔
گرم موسم میں چہرے کی نرم وملائم جلد کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔ چہرے کا حسن اور تازگی برقرار رکھنے کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم گرما میں خواتین موسم کی شدت سے تنگ آجاتی ہیں وہ اپنے لباس ،چہرے کو نظر انداز کرتی ہیں۔جسکی وجہ سے ان کے چہرے کی جلد نرمی اور ملائمت سے محروم اور ان کی شخصیت بھی بکھری دکھائی دیتی ہے۔ایسی خواتین بعض اوقات چڑچڑے پن کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔ وہ خواتین جو اپنے چہرے پرتوجہ نہیں دے پاتیں، وہ اپنی عمر سے بڑی دکھائی دیتی ہیں اور اپنی قدرتی کشش سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ایسی بہنوں اور خواتین کا چہرہ بدنما داغوں سےاٹا دکھائی دیتا ہے۔
انسانی جلد کی خاصیت ہے کہ اس کی بیرونی پرت کے خلیات مسلسل جھڑتے رہتے ہیں اور جلد پر ہی جمع ہوتے رہتے ہیں۔اس لیے اگر ان کو جلد سے صاف نہ کیا جائے تو خشک اور کھردری ہونے لگتی ہے۔لہٰذا آپ کوئی بھی لوشن اور کریم استعمال کر لیںجلد سے ان مردہ خلیات کو صاف کئے بغیر اس پر چمک کبھی نھیں آے گی۔اس مقصد کے لیے کسی برش وغیرہ سے تمام جسم کو رگڑ کر اور چہرے و گردن کو فوم سے مہینے میں کم از کم ایک بار ضرور صاف کریں اور بعد میں نہا لیں۔اس سے آپ کی جلد میں نئی زندگی اور چمک آ جائے گی۔اسی طرح اگر ممکن ہو تو دھوپ میں جانے سے گریز کریں لیکن اگر جانا ضروری ہو تو سن سکرین کا استعمال ضرور کریں ۔گرمیوں میں جس قدر ممکن ہو ہلکا میک اپ استعمال کریں ۔ جلد پر لگانے کے لیے کسی لائیٹ موائیسچرائیزر کا انتخاب کریں۔
چہرہ شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے ،یہ جسمانی حسن اور خوبصورتی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ، اس لیے اپنے چہرے پرہفتے میں ایک دو بار قدرتی اجزا ء پر مشتمل موئسچرائزر استعمال کریں۔آپ کی جلد گردن پر ختم نہیں ہو جاتی اور پاؤں کی جلد بھی توجہ چاہتی ہے لیکن ہم اکثر پاؤں کو بھول جاتے ہیں۔گرمیوں میں عام طور پر سینڈل اور کھلے جوتے پہنے جاتے ہیں اس لیے پیڈی کیور ،چاہے گھر پر کریں یا بیوٹی پارلر سے کروائیں یہ ضروری ہے۔اگر آپ گھر پر پیڈی کیور کرئیں تو پہلے پاؤں کو کسی برش سے رگڑ کرجلد کے مردہ خلیات کو صاف کریں اور پھر دھو کر اچھی طرح سکھا کر لوشن لگا لیں۔ہفتے میں ایک بار ایسا کرنا آپ کے پاؤں کو نرم اور خوبصورت بنا دے گا۔
آپ کی آنکھوں کے ارد گرد کی جلد بہت نازک اور حساس ہوتی ہے۔اس لیے اس کی خصوصی نگہداشت ضروری ہے۔اس لیے جب بھی دھوپ میں جانا ہو ،سن گلاسز کا استعمال ضرور کریں دن اور رات کے دوران آنکھوںکے اطراف کی جلد پر کوی اچھا سا موئیسچرازرضرور لگائیںاور ساتھ ہی ہلکے ہاتھ سے مساج بھی کریں ۔اس سے آپ کی آنکھوں کے ارد گرد جھریاں پڑنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
گرمیوں میں وقفے وقفے سے چہرے پر ٹھنڈے پانی سے چھینٹے مارنا آپ کو ترو تازہ رکھتا ہے۔یہ بات یاد رکھیں کہ گرمیوں میں سٹیم اور گرم پانی سے نہانا آپ کی جلد سے نمی کو کم کر دیتا ہے اس لیےٹھنڈے پانی سے ہی نہانا چاہیے اس کا ایک فائیدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ چہرے پر ایکنی کا خدشہ کم ہو جاتا ہے ۔
گرمیوں میں فاؤنڈیشن کے بجائے کوئی ہلکا پھلکا موئسچرائزز استعمال کریں، کیوں کہ دھوپ اور گرمی میں فاؤنڈیشن پگھلنے لگتا ہے، جبکہ موئسچرائزز میں ایس پی ایف کو بطور جزو استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے یہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ خواتین کی اکثریت کی جلد حساس ہوتی ہے اور موسم گرما کی شدت نہ صرف اس جلد کو جھلسادیتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے ان کی جلد کی رنگت بھی سیاہ ہو جاتی ہے۔
گرمی میں پسینہ بہت زیادہ آتا ہے، تاکہ جسم کا اندرونی درجہ حرارت نارمل رہے، اس لیے جلد کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اس کے مسام کھل جاتے ہیں اور ان میں میل کچیل جمع ہو کر جلد پر بدنما دانے بناتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے کم ازکم دن میں تین چار بار اپنا چہرہ سادہ پانی سے دھوئیں ۔
چکنی جلد کی حامل خواتین کو اکثر کیل مہاسوں کی شکایت رہتی ہے اور بطور خاص گرمیوں کے موسم میں تو ان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان سے بچاؤ کے لیے نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس پانی کو ٹھنڈا کرکے اس سے منہ دھوئیں، تاکہ مہاسوں میں کمی آسکے۔ چکنی جلد والی خواتین گاجر کا جوس نکال کر روئی کی مدد سے چہرے پر دن میں دو تین بار دہرائیں، انہیں افاقہ ہوگا۔
خشک جلد کو تروتازہ اور نرم و ملائم رکھنے کے لئے شہد ، زیتون کا تیل اور عرق گلاب کا ملا کراستعمال مفید ثابت ہوتا ہے ۔
نارمل جلدکی حامل خواتین کو چاہیے کہ چہرے پر عرق گلاب استعمال کریں ۔ اس کے علاوہ خشک دودھ اور عرق گلاب مکس کرکے چہرے اور گردن پر لگائیں۔ اس سے جلد چمکدار اور فریش نظر آئے گی۔
ہلدی اور لیموں کے مکسچر کا استعمال بہت مفید ہے۔ ایک تو یہ چہرے کی رنگت کو نکھارتا ہے اور دوسرے اس کے مساج سے تھریڈنگ کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بیسن کو آٹے میں ملا کر جلد پر لگانا جلد کی کلینزنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک چمچہ شہد کو آدھا چمچہ لیموں کے عرق میں ملا کر اپنے چہرے پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد چہرے کو دھولیں۔ شہد اور لیموں جلد کی چکنائی کو اچھی طرح سے نکال کر چہرے کو صاف کردیتے ہیں۔
خشک جلد والی خواتین کی جلد گرمیوں میں نارمل رہتی ہے۔ زیتون اورگلاب کا عرق ملا کر چہرے پر لگانے سے جلد کی خوب صورتی برقرار رہتی ہے۔ خشک جلد کو نرم کرنے کے لیے انڈے کی سفیدی میں لیموں کا عرق ملا کر اچھی طرح پھینٹ لیں اور اس پیسٹ کو پندرہ منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں، اورپھرتازہ پانی سے چہرہ دھولیں۔
تھوڑا سے بیسن میں لیموں کا رس اور دہی ملا کر چہرے پر لگالیں، خشک ہو نے پرٹھنڈے پانی سے چہرہ دھولیں۔ یہ ماسک ہفتے میںدو دن استعمال کریں،اس سےجلد کا کھردرا پن ختم ہوکراس کی تازگی برقرار رہے۔
گھر پر ایک کلینزنگ کریم تیار کریں جس کو بنانے کے لیے ایک کھانے کا چمچہ سوکھا دودھ اور چند قطرے گلاب کا عرق لے کر مکس کرلیں اور چہرے پر لگالیں، اگر ہو سکے تو گردن پر بھی اس کریم کا ہلکا ہلکا مساج کرلیں۔ اس سے آپ کے چہرے کی دلکشی بڑھے گی اور شادابی بھی واپس آجائے گی۔
غذا اور پانی کا بھی جلد پر گہرا اثر ہوتا ہے۔کم از کم آٹھ گلاس پانی روزانہ پینا جلد اور جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔یہ نہ صرف آپ کو تروتازہ رکھتا ہے بلکہ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں بھی مدد دیتا ہے۔اسی طرح انٹی آکسیڈنٹس کو جلد پر لگانے کے ساتھ ساتھ اپنی غذا میں بھی شامل کریں۔اس مقصد کے لیے آپ کو موسمی پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کرنا ہو گا جو آپ کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی جلد کو بھی تروتازہ اور جوان رکھتے ہیں ۔سبزیون اور پھلوں میں وٹامنز اور غذائیت کے ساتھ ساتھ انٹی آکسی ڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو آپ کی جلد کو سورج کے جھلسا دینے والے اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔مندرجہ ذیل کچھ فروٹس کو آپ کھانے کے ساتھ ساتھ ان کا گودا اچھی طرح پیس کر اپنی جلد پر لگا کر بے پناہ فوائید حاصل کر سکتی ہیں۔
ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ انسانی جسم کو بھی اپنی کھوئی ہوئی توانائی حاصل کرنے کے لیے مناسب ریسٹ کی ضرورت ہوتی ہےاس لیے ہر حال میں کم از کم آٹھ گھنٹے روزانہ نیند اور آرام ضروری ہے اس وقفے کے دوران جلد اپنے تباہ شدہ خلیات کی مرمت اور جسم اپنی قوت مدافعت کو بحال کرتا ہے جس سے جلد کو نقصان پہنچانے والے بیکٹریا اور دوسرے جراثیموں کے خلاف لڑنے میں مدد ملتی ہے۔
گرمیوں کے موسم مین بھی ورزش اتنی ہی ضروری ہے جتنی سردیوں کے دوران ہے کیونکہ ورزش سے دوران خون تیز ہوتا ہے جس سے جلد کو خون کیزیادہ سپلائی یعنی ذیادہ آکسیجن ملتی ہے اور جلد سن برن اور ایکنی کا بہتر مقابلہ کر سکتی ہے۔
تحریر: ڈاکٹر نسرین صدیق

یہ بھی پڑھیں:  جلد کی صحت سے وابستہ چند روایات