frands

رشتے داروں سے مضبوط تعلقات

EjazNews

آج کے بھولے بسرے دور میں رشتہ داریاں ختم ہو تی جارہی ہیں۔ رشتوں کے تقدس کے ساتھ ساتھ رشتوں کی مٹھاس بھی پھیکی ہوتی جارہی ہے۔ اس محبت کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ ایک سے دوسرے نسل کو کئی دفعہ اپنے سارے رشتہ داروں کے متعلق پتہ ہی نہیں ہوتا۔ شادی بیاہ کے مواقعوں پر پتہ چلتا ہے کہ یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تورشتہ داری کی بڑی اہمیت ہے۔صرف غریب قرابت داروں پر مال خرچ کر دینے سے صلہ رحمی نہیں ہو جاتی، بلکہ رشتے داروں کے ساتھ بناکسی غرض اور لالچ کے، مضبوط اور پائیدار تعلقات قائم رکھنا، ان کے ساتھ خیر خواہی، بھلائی، محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آنا، ان کے دکھ درد غمی اور خوشی میں شامل ہونا۔ ان کی خیریت معلوم کرتے رہنا اور ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم رکھنا بھی صلہ رحمی کے زمرے میں آتا ہے۔اور اس صلہ رحمی کی ہمارے معاشرے کو آج بڑی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ آئیے ہم آپ کو رشتہ داری سے متعلق چند احادیث پاک کا بتاتے ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’ اپنے رشتوں کو ترو تازہ رکھو، خواہ سلام ہی کے ذریعے۔‘‘ (صحیح بخاری)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں، جو احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرے،بلکہ دراصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے، تو وہ صلہ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری)
طبرانی کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’لوگو! میں تم کو دنیا اور آخرت کی بہترین عادات بتلاتا ہوں۔ تم تعلقات قطع کرنے والے رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرتے رہو، جو تمہیں محروم رکھے، اسے دیتے رہو اور جو زیادتی کرے اسے معاف کرتے رہو۔‘‘ (طبرانی)
بلاشبہ، ایک نیک اور باشعور مسلمان ہر حال میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے۔ وہ ان منفی اور تلخ باتوں پر قطعی توجہ نہیں دیتا، جن سے اس کے تعلقات خراب ہوں۔
اسلام ایک ایسا مذہب جو نہ صرف مسلمان رشتہ داروں سے صلہ رحمی اچھے سلوک کا حکم دیتا بلکہ وہ غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔
سرکارِ دو جہاں، سرورِ کونین، حضور نبی اکرم، رحمۃ الّلعالمین ہیں۔ آپﷺ پوری کائنات کے لیے رحمت اور محسن انسانیت بناکر بھیجے گئے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ:’’(اے محمدﷺ)ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘
لہٰذا آپ کی دعوتِ حق تمام جہانوں کے لیے ہے۔ آپ نے غیرمسلم اور مشرک رشتے داروں کے ساتھ بھی صلہ رحمی، حسنِ سلوک اور احسان کا حکم فرمایا۔
حضرت اسماء بنت ِابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں میری والدہ، جو مشرکہ تھیں، میرے پاس تشریف لائیں۔ مَیں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’یارسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں، وہ ضرورت مند ہیں، کیا میں ان سے بھی صلہ رحمی کروں۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں، ان سے بھی صلۂ رحمی کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)۔
ام المومنین حضرت صفیہؓ خانوادئہ ہارون ؑو موسیٰ ؑسے تعلق رکھتی تھیں، آپ کے والد حئی بن اخطب یہودی قبیلے، بنو نضیر کے سردار، خیبر کے رئیس اور یہودیوں کے بڑے مذہبی عالم تھے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت صفیہؓ کی ایک کنیز نے حضرت عمرفاروقؓ سے شکایت کی کہ ’’صفیہؓ ہفتے کے دن کی تعظیم کرتی ہیں اور اپنے یہودی رشتے داروں کی مدد کرتی ہیں۔‘‘ امیر المومنینؓ اس بات کی تحقیق کے لیے خود امّ المومنین حضرت صفیہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت صفیہؓ نے فرمایا ’’جب سے اللہ نے مجھے جمعہ عطا فرمایا ہے، مجھے (سبت) ہفتہ کی قدر نہیں رہی، ہاں، یہودیوں میں میرے قرابت دار ہیں اور مجھے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ حضرت عمرفاروقؓ یہ جواب سن کر بے حد خوش ہوئے۔ اس کے بعد حضرت صفیہؓ نے اس کنیز کو آزاد کردیا۔ (الاصابہ)
جب حضرت صفیہؓ کی وفات ہوئی، تو آپ کے ترکے میں ایک لاکھ درہم کی رقم تھی، جس کا تیسرا حصّہ آپ نے اپنے یہودی بھانجے کو دینے کی وصیت کی۔ لوگوں نے اس وصیت پر عمل کرنے میں پس و پیش کیا۔ امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو جب اس بات کا علم ہوا، تو آپ ؓ نے فوراً پیغام بھیجا،’’ لوگو! اللہ سے ڈرو اور ہر صورت میں صفیہؓ کی وصیت کو پورا کرو۔‘‘ چنانچہ انؓ کے ارشاد کے مطابق، فوری طور پر وصیت پر عمل کیا گیا۔ (طبقاتِ ابن سعد)
ایک نیک مسلمان اپنے والدین کی اطاعت کے بعد بلاتخصیصِ مذہب اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے اور یہی اسلامی تعلیمات کا حسن ہے کہ جس میں ہر ایک کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا درس دیا جاتا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے، ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے(۲)