پلاسٹک بیگ آخر ان کا کریں کیا؟

EjazNews

گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے سرکاری دفاتر میں پلاسٹک کے لفافوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی جس کے لیے صوبائی امداد بحالی اور آبادکاری نے مراسلہ جاری کر دیا۔ مراسلے میں کہاگیا ہے کہ دفاتر کے احاطے میں پابندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور متبادل کے طور پر کاغذ یا کپڑے کے تھیلے استعمال کیے جائیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ اچھا اقدام ہے۔اگر اس کو خیبرپختونخوا کے پورے صوبے اور پھر پورے پاکستان میں نافذ کر دیا جائے تو یہ اقدام بہت سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔دنیا بھر میں مملکتیں پلاسٹک کی وجہ سے پریشان ہیں کیونکہ یہ نہ تو گلتا ہےاور نہ ہی ختم ہوتا ہے اگر اس کو جلایا جائے تو یہ بڑی پولوشن کا باعث بنتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں پلاسٹک بیگ بنانے والے 8ہزار کارخانے ہیں۔ اوران کی پروڈکشن سالانہ اربوں تھیلیوں کی بنتی ہے۔ کبھی آپ نے سوچا ہے یہ تھیلیا کہاں جاتی ہیں تو جناب ہمارا سیوریج نظام خراب کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر آپ کسی سیاحتی مقام پر گئے ہوں اور وہاں ندی نالوں میں آپ نے تہرتے پلاسٹک بیگز دیکھیں ہوں تو آپ کے ذہن میں کبھی سوال پکدا ہوا ہے یہ کہاں جائیں گے۔یہ پلاسٹک بیگ آبی حیات کے لیے بہت خطرناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔دنیا میں اس کے تدارک کے لیے بہت کام ہوا ہے۔ ہمارے ہاں بھی 2013ء میں باریک پلاسٹک بیگز پر ہابندی عائد کی گئی تھی۔ لیکن اس پابندی کی دھجیاں اڑتے ہم روز دیکھتے ہیں۔
وزیر مملکت زرتاج گل کا بیان بھی گزشتہ دنوں سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے مشاورت کی جارہی ہے اوراس کے بعد تمام صوبوں میں پلاسٹک کی تھیلیوں پر ٹیکس عائد کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم 1960ء کی دہائی کا اکثر ذکر کرتے ہیں اگر وزراء اس دور میں بننے والے قوانین کو آرام سے بیٹھ کر ہڑھ لیں اور ہھر انہیں سمجھ لیں تو ان کے لیے بہت سی آسانیاں ہو سکتی ہیں اور ملک کو اچھے قوانین مل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بیوروکریسی کا پاکستان میں کردار