intervew-12

ادبی دھڑے بندیوں نے شعروادب کو بہت نقصان پہنچایا ہے: رفیع الدین ذکی قریشی

EjazNews

صدارتی ایوارڈ یافتہ سینئر نعت گو شاعر رفیع الدین ذکی قریشی کے اب تک27نعتیہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں،انہوں نے شعر کہنے کا آغاز 1980ء سے کیا۔ باقاعدہ شاعری کی تربیت یزدانی جالندھری سے لی۔اگرچہ ان کی 4 مجموعہ ہائے غزل بھی اشاعت پذیر ہو چکے ہیں لیکن طبیعتاً رجحان نعتیہ شاعری کی طرف تھا اس لیے اسی طرف کے ہو کر رہے اور نعتیہ کلام ہی لکھتے اور پڑھتے رہے۔ پی ٹی وی لاہور سٹیشن کے نعتیہ مشاعروں میں ہمیشہ نمایاں مقام رہا ۔
ان کے فن پر جہاں بہت سے لوگوں نے اپنی قلم آزمائی کی ہے وہیں ان پر ایم فل کا مقالہ بھی تحریر کیا چکا ہے۔
نامور نقاد انور سدید ان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رفیع الدین ذکی کی غزلیں دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی کہ جسے میں دنیاداری کا عمل سمجھ رہا تھا وہ اسے بھی عبادت سمجھ کر انجام دے رہے تھے۔
میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو وہ ایک محفل مشاعرہ کی صدارت کر رہے تھے۔ دوران گفتگو ان کی سادگی اور شفیق شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکا۔ اپنے قارئین کے لیے جب انٹرویو کی درخواست تو عاجزی سے کہنے لگے ’’میاں ہم کیا ہمارا انٹرویو کیا ، جب چاہیں آجائیں آپ کی میزبانی ہمارا اعزاز‘‘
ہماری ان سے کی گئی گفتگو قارئین کے لیے جس سے آپ سب محظوظ ہو پائیں گے۔
سب سے پہلے آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں ٹائم دیا ۔سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔

نعت گو شاعر کو خاص طور سے اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کہیں آپ کی نعت حمد تو نہیں بن گئی، ایسا ہونے کی صورت میں وہ گنا کا مرتکب ہوسکتا ہے

س :شعر گوئی کا آغاز کب کیا، کیا کسی سینئر شاعر کے سامنے باقاعدہ زانوئے تلمذ طے کیا، یا ویسے ہی مشورہ سخن کرتے رہے؟۔
ج: شعر وادب کا شغف تو زمانہ طالب علمی سے ہی تھا، تاہم باقاعدہ شعر کہنے کا آغاز 1980میں کیا، آغاز میں محمد یونس حسرت امرتسری سے مستفید ہوا، اور پھر ایک دن حسرت صاحب مجھے استاد شاعر یزدانی جالندھری کے پاس لے گئے اور میری طرف اشارہ کرکے کہنے لگے ’’میں اسے آپ کی شاگردی میں دینا چاہتا ہوں‘‘ جس پر یزدانی صاحب نے کہا کہ یہ تو پہلے ہی بہت کا میاب جارہا ہے، تاہم جب حسرت صاحب نے اصرار ا اور میں نے منت کی تو یزدانی صاحب مان گئے،اور میں نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیااور میں ان کے کمال فن سے فیض یاب ہوتا رہا، یزادنی صاحب ایک شفیق اور بے لوث انسان تھے ، ایک زمانے میں وہ اردو ڈائجسٹ میں دفتری امور سے فارغ ہوکر تقریبا ہر روز میرے غریب خانے پر تشریف لاتے رہے، یہ انکا بڑا پن تھاا ور میرا اعزاز۔
س:جس وقت ادبی دنیا میں داخل ہوئے اس کا منظر نامہ کیسا تھا؟
ج: جس وقت میں ادبی حلقوں میں جانے لگا، اس وقت عوام تو بہت زیادہ سخن فہم نہیں تھے، تاہم متعدد شعر ا کرام معیاری کلام تخلیق کررہے تھے، ادبی تنظیمیں او ر ادارے محافل مشاعرہ کا انعقاد کرتے رہتے تھے، جس میں صاحب ذوق حضرات کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی جو عمدہ اشعار پر فراق دلی سے داد دیتی تھیِ، ریڈیو ،ٹی وی پر مشاعروں کی ریکارڈنگ ہوتی رہتی تھی، دراصل اس وقت کی حکومت شعر وادب کی قابل قدر سرپرستی کررہی تھی ۔ شاعروں اور خاص طور سے نعت گو شعرا کرام کی بڑی قدر و منزلت تھی۔
س: آپ غزل سے نعت گوئی کی جانب کیسے مائل ہوئے ؟۔
ج۔جب میری غزلوں کے پانچ مجموعے منظرعام پر آچکے تھے اور ناقدین ادب مجھے غزل کا ایک معتبر شاعر تسلیم کرچکے تھے ، تو ایک دن خیال آیاکیوں نہ میں نعت کہوں کہ اللہ تعالیٰ بھی خوش ہو اور اور اس کے محبوب ﷺ بھی، اس خیال اور جذبے نے مجھے نعت گوئی کا راستہ دکھایا، اور میں تسلسل سے نعت کہنے لگا، اور پھر اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے صدقے ادبی حلقوں میں اور عوام الناس میں میری خوب پذیرائی ہونے لگی ،جب یکے بعد دیگرے میرے تین نعتیہ مجموعے شائع ہوگئے، تو میں نے اپنا ایک مجموعہ ’’ حرف نیاز ‘‘وزار ت مذہبی امور کے مقابلہ نعت گوئی میں ارسال کردیا، جسے پہلا انعام ملا ، جو مجھے 1991ء میں صدر غلام اسحاق خان نے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا:میر عبدالقدوس بزنجو
رفیع الدین ذکی قریشی کے مجموعہ کلام کی کاپیاں جو انہوں نے ہمارے فوٹو گرافر کو تصاویر بنانے کے لئے دیں

س:نعت گوئی کے لئے کن بنیادی اوصاف کا ہونا ضروری ہے اور یہ بھی بتادیں کہ نعت کہنا ہنر ہے یا عطا؟۔
ج: نعت کہنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ نعت کیا چیز ہے، اس کا کیا مقام ہے، شاعر کو زبان پر مکمل عبور ہو،الفاظ کا مناسب اور شعری ضرورت کے تحت استعمال آتا ہو، نعت گو شاعر کو خاص طور سے اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کہیں آپ کی نعت حمد تو نہیں بن گئی، ایسا ہونے کی صورت میں وہ گنا کا مرتکب ہوسکتا ہے،اس لئے شاعر کو نعت کی حدود میں نعت اورحمد کی حدود میں حمد کہنا ہوگی۔ حضورﷺ کے ادب کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا، احمد رضا بریلویؒ فرماتے ہیں ’’ نعت کہنا تلوار کی دھار پر چلنے جیسا ہے‘‘۔ نعت کہنا ہنر بھی ہے اور عطا بھی، ہنر اس لئے کہ جب تک شعر کہنے کا فن نہیں سیکھیں گے، آپ کے کلام میں روانی اور سلاست نہیں آئیگی۔
س:کون کو ن سے نعت گو آپ کے پسنددیدہ ہیں؟
ج: ہمارے ہا ں بہت اچھے نعت گو شعرا کرام تھے اور ہیں ، جیسے احمدندیم قاسمی ، حفیظ تائب، راجہ رشید محمود، یزدانی جالندھری، عارف عبدالمتین، حافظ لدھیانوی، علامہ بشیر رزمی ، استاد زیبا ناروی، اعظم چشتی ، جمشید اعظم چشتی، وحید خیال،حسرت حسین حسرت اور دیگر ۔
س: آپ نعت گوئی کے فروغ میں ذرائع ابلاغ کے کردار کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
ج: جی ہاں کردار تو ہے لیکن نہ ہونے کے برابر، ریڈیو ،ٹی وی پر غزلیں اور گیت تو سارا سال چلتے ہیں مگر نعتیں بہت کم نشر ہوتی ہیں، رمضان المبارک اور ربیع الاول میں نعت اور محرم الحرام میں سلام براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے، حالانکہ نعت تو عشق رسول ﷺ کی ترویج کا ذریعہ ہے، تاہم اس حوالے سے ریڈ یو کی صورت حال ٹی وی سے بہتر ہے۔ ٹی وی کا حال تویہ ہے کہ پی ٹی وی میں مجھے آوٹ سٹینڈنگ شعرا کی فہرست میں رکھا گیا ہے، تاہم اب شاید میں بوڑھا ہوگیا ہوں، زیادہ رابطہ نہیں کرپاتا تو اس لئے مجھے نظر انداز کیا جارہا ہے، چار پانچ سال سے مجھے کسی نعتیہ مشاعرے میں نہیں بلایا گیا ہے، ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ مجھے کہاکہ آپ فلاں تاریخ کو ٹی وی مشاعرہ کی ریکارڈنگ کے لئے تیار رہوں ، مگر عین موقع پر مجھے مس کردیاگیا ، میرے جگہ ہوسکتا ہے کسی تکڑی سفارش والے یا تحفے تحائف پیش کرنے والے کو بلایا لیاگیا ہو۔
س: ادبی دھڑےبندیوں نے فروغ ادب میں کوئی مثبت کردار بھی ادا کیا ہے یا اسے نقصان ہی پہنچایا ہے؟
ج:ادبی دھڑے بندیوں نے شعروادب کوبہت نقصان ہی پہنچایا ہے، میرے نزدیک اس سے فائدہ تو کوئی ہوا نہیں ، یہ بات سب جانتے ہیں کہ کسی معتبر ادبی جریدے میں صرف اسی شاعر وادیب کو جگہ ملتی ہے، جس کا تعلق کسی خاص گرو پ سے ہوتا ہے،عام لکھنے والا تو وہاں چھپنے سے محروم ہی رہ جاتا ہے، آپ کو اپنے حوالے سے ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں، میری قاسمی صاحب ، شہزاد احمد صاحب سے بہت یاری تھی، ریڈیو ، ٹی وی اور پنجا ب یونیورسٹی میں متعدد مشاعرے اکٹھے پڑھے ، جن کے دوران ان حضرات نے میرے کلام پر داد بھی دی، بلکہ قاسمی صاحب تو سمن آباد میں ایک طرح سے میرے ہمسائے بھی تھے، ایک موقع پر جب میرا نیا شعری مجموعہ آنے والا تھا میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے لئے کچھ لکھ دیں، کہنے لگے ’’ میرے پاس وقت نہیں ہے‘‘،قاسمی صاحب تو ہر کسی کو لکھ دیتے تھے، ان کا یہ جواب سن کر مجھے بہت دکھ ہوا، اس کی وجہ شاید یہ ہوکہ میں ان کے گروپ کا حصہ نہیں تھا، یہیں سمن آباد میں قتیل شفائی بھی رہتے تھے جب ان سے کہا تو کہنے لگے ’’ ضرورلکھوں گا یہ آپ کا حق ہے ‘‘ ،اور پھر انہوں نے میرے فن وشخصیت کے حوالے سے ایک عمدہ تحریر لکھی، جو میرے شعری مجموعے ’’سکوت شب‘‘کا حصہ ہے۔
س: روز وشب کیسے گذررہے ہیں ؟۔
ج:اب تو بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے زیادہ وقت گھر پر ہی گذرتا ہے، مشاعروں میں آناجانا تو تقریبا ختم ہی ہوگیا ہے، تاہم اگر کہیں سے محفل نعت میں شرکت کی دعوت آجائے تو کوشش ہوتی ہے کہ اس میںحاضری ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  بریسٹ کینسر کوئی جرم نہیں ہےجسے چھپایا جائے،اپنی حفاظت کیجئے