Bilawal-1

کیا بلاول کو ٹریننگ کی ضرورت ہے؟

EjazNews

30سالہ بلاول بھٹو زرداری پہلی دفعہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے برخوردار ہیں۔ بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون رہنما بنیں اور آصف علی زرداری کی سیاست پر کسی کو شک نہیں۔ بلاول جس پارٹی کے چیئرمین ہیں وہ پاکستان کی واحد پارٹی ہے جس کے پورے ملک میں جیالے ہیں اوریہ جیالے واقعی پولیٹیکل ورکرز ہیں جن کی صرف نظریاتی نہیں دلی وابستگی بھی بھٹوز اور پیپلز پارٹی سے ہے۔ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس کے کارکنوں سے مل کرگفتگو کے دوران ہی آپ کو احساس ہو جاتا ہے کہ سیاسی وابستگی کا عالم کیا ہے۔ تیسری شخصیت جو اس وقت عملی سیاست میں ان کے گردو نوا ح ہے وہ ان کی پھوپھی فریال تال پور ہیں، تال پور گھرانے کی سیاسی تاریخ ہمیں تقسیم برصغیر سے پہلے سے ملتی ہے ۔ان کی والدہ کوئی کاروباری یا بزنس مین تو تھی نہیں وہ پوری طرح سیاسی شخصیت تھیں۔ ان کا اوڑھنا بچھوڑنا سیاست تھا۔ اب چاہے بلاول پاکستان میں نہیں رہےلیکن سیاسی اونچ نیچ سے وہ ضرور آشنا تھے اب جبکہ وہ عملی سیاست میں پوری طرح داخل ہو رہے ہیں ۔ اگر ہم ان کی پریس کانفرنسیں دیکھیں تو وہ ہر آنے والے دن میں بہتر ہو تی جارہی ہیں ۔ شاید ان سے سوال پوچھنے والے صحافی کے پاس کوئی ایسا سوال ہو جس کا جواب وہ نہ دے سکیں۔
گزشتہ دنوں انہوں نے کراچی کینٹ سے اپنے گھر تک ٹرین مارچ کیا ۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ گھر سے گھر کی سیاست ہے۔ اگر آپ سیاسی شعور رکھتے ہیں اور آپ کو اپنے ارد گرد کی سیاست پر نظر ہے اور حالات کو آپ نے بنتے اوربگڑتے دیکھا ہے تو آپ کو اندازہوگا کہ اپنے صوبے میں بھی لوگوں کو گھر سے باہر نکالنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا سوچنا آسان ہے۔ آپ کے پاس جتنی مرضی شہرت ہو، راوی کے پل سے لوگوں کو آگے لیجانے کیلئے آپ کی صرف اور صرف شہرت کام نہیں آتی۔ اس کے لیے پوری پولیٹیکل بیک گرائونڈ ہونا ضروری ہے۔ آپ کی پارٹی وفاق کی نشانی ہونا ضروری ہے۔
اب جو لوگ بلاول کو یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں مجھ سے ٹریننگ لینی چاہیے، مجھے لگتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان کے اتحادی ہوں گے اور بلاول کی زیر قیادت فیصلے ہوا کریں گے۔ بحرکیف یہ ایک قیاس آرائی ہے پولیٹیکل سوچ کی وجہ سے ،غیب کا علم تو اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی،4شہری شہید11زخمی
بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ دنوں سندھ میں دل کے ایک ہسپتال کا افتتاح کیا، افتتاح کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس بھی کی اور ہسپتال میں داخل مریضوں سے بھی گفتگو کی