quran

قرآن کے پانچ حقوق

EjazNews

قرآن کریم وہ الہامی کتاب ہے جو آج بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے جس میں نہ کوئی تبدیلی کر سکا ہے نہ کر سکے گا۔ قرآن پاک لاکھوں لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ قرآن پاک کی جب آپ تلاوت کریں تو کوشش کیجئے اگر آپ ترجمہ نہیں پڑھے ہوئے تو اس کا ترجمہ بھی پڑھیں تاکہ آپ کو سمجھ بھی آئے کہ قرآن پاک کہہ کیا رہا ہے ۔ آئیے قرآن کے ان حقوق کو پڑھتے ہیں ۔
قرآن پر ایمان لائیں
ایمان تب ہی مکمل ہوتا ہے، جب زبانی اقرار کے ساتھ، دل کا یقین بھی انسان کو حاصل ہو جائے۔ جب ہمیں یقین ہو جائے کہ قرآن، اللہ کا کلام ہے اور ہماری ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے، تو پھر اس کے ساتھ ہمارے تعلق میں انقلاب آ جائے گا اور اس سے بڑھ کر کوئی دولت اور نعمت معلوم نہیں ہوگی۔
قرآن کی تلاوت کریں
قرآن کریم ہماری روح کے لیے غذا کا کام دیتا ہے۔ روح کو تر وتازہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بار بار قرآن کریم کی تلاوت کریں اور اسے اچھے سے اچھے انداز میں پڑھنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’ جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا فرمائی، وہ اس کی یوں تلاوت کرتے ہیں، جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے‘‘( البقرۃ121 )۔
چنانچہ اس کی تلاوت کو روزانہ کے معمولات میں شامل کیا جانا چاہیے۔
قرآن پر غور کریں
اگرچہ قرآن کریم کی بغیر سمجھے تلاوت کرنا بھی ثواب سے خالی نہیں، لیکن یہ کتاب غور وفکر کے لیے ہی نازل کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بندگی کے عہد کی یاد دہانی ہوتی رہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ کیا ان کے دِلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ اتنی عربی تو ضرور جانتے ہوں، جس کی مدد سے قرآن کریم کے مطالب کو سمجھ سکیں، لیکن اگر ایسا نہ ہو، تب ہمیں ترجمے کے ساتھ تلاوت کا معمول تو بنا ہی لینا چاہیے۔
قرآن پر عمل کریں
حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ کریم کو پڑھنا اور سمجھنا اُس وقت ہی زیادہ مفید ہوگا، جب اس پر عمل بھی کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تفصیلی ہدایات اسی لیے عطا کی ہیں کہ ہم ان کے مطابق زندگی گزاریں۔ قرآن کے بعض احکام پر عمل کرنا اور بعض کی خلاف ورزی کرنا، اللہ کی نگاہ میں بہت بڑا جرم ہے۔ نیز، نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا، قرآن پر عمل کرنےہی کا ذریعہ ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک صحابی نے سوال کیا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کیسی تھی؟ اُنھوں نے جواب دیا ’’آپﷺ کی سیرت، قرآن ہی تو تھی۔‘‘ گویا آپ ﷺ چلتے پِھرتے قرآن تھے۔
قرآنِ کریم کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچائیں
آپ ﷺ ارشاد ہے’’ پہنچاؤ میری طرف سے، خواہ ایک آیت ہی ہو۔‘‘ اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص نے صرف ایک ہی آیت سیکھی ہو، تب بھی اُسے چاہیے کہ وہ اس آیت کو دوسروں تک پہنچائے ۔

یہ بھی پڑھیں:  حکیم لقمان کی نصیحتیں