jigar web

جگر صاحب

EjazNews

جگر مراد آبادی کی تاریخ پیدائش میں بہت سی تاریخی روایات پائی جاتی ہیں لیکن ایک مستند روایت کے مطابق وہ 1890ءمیں مرادآباد میں پیداہوئے۔مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے جگر سنٹیل سکول میں اپنی تعلیم تو مکمل نہ کر سکے لیکن ان کو اپنے سکول سے محبت بہت تھی ۔یہاں پر کوئی بھی مشاعرہ ہوتا اور انہیں بلایا جاتا تواپنی ساری مصروفیات چھوڑ کر مشاعرے میں شرکت کرتے۔ فارسی زبان انہوں نے مولوی محمدصدیق سے سیکھی تھی۔کاروبار کرنے کا شوق پیدا ہوا تو کچھ عرصہ تک وہ چشمے بھی بیچتے رہے۔لیکن شاعرانہ طبیعت نے اس کام کوجاری نہ رکھنے دیا۔زندگی میں جوانی کے ایام میں آپ نے سنا ہوگا لوگوں کو دل پھینک ہونا لیکن آئینہ سکندر میں قمر مراد آبادی جگر کی رومانویت کے بارے میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں ”جگرتقریباً چھ سات سال کے تھے یہاں ایک بھکارن بھیک مانگنے آئی جگر فوراًگھر میں گئے اور بہت سا کھانا اورپیسے اس کو دئیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھکارن غالباً کشمیری تھی اور جگرکو بہت اچھی لگی تھی۔ ان کی والدہ نے انہیں ڈانٹا“
ایک اور واقع وہ تحریر کرتے ہیں
”جب وہ آٹھ نو سال کے تھے تو گھر کے برابر میں ایک شادی شدہ عورت رہتی تھی جگر اس کے گھر جاتے اور اس کے گھر میں لگے بیری کے پیڑ سے لگ کر کھڑے ہو جاتے ، گھنٹوں اس عورت کو دیکھا کرتے۔ ایک روز اس عورت نے جگر کی والدہ سے کہا کہ تمہارا لڑکا بڑا ہو کر بڑاعاشق مزاج یا بہت بڑا شاعر بنے گا۔ ان کی والدہ سے پھر انہیں ڈانٹ پڑی“
اسی مناسبت سے ان کا ایک شعر ہے
حسن جس رنگ میں ہوتا ہے جہاں ہوتا ہے
اہل دل کے لیے سرمایہ جاں ہوتا ہے
جگر صاحب کو یوں تو معلوم نہیں کہ انہوں نے اپنے اشعار کب سے کہنے شروع کیے لیکن ان کے جگر بننے کے پیچھے ایک واقع کو روایت کیا جاتا ہے کہ انہیںایک خاتون سے عشق ہو گیا ، اور عشق کی انتہا اس حد تک پہنچی کہ اس سے شادی کرلی۔ لیکن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے جگر کی روح کانپ اٹھی۔ان کی منکوحہ اپنی پاک دامنی کی قسمیں کھاتی رہی لیکن جگر نے اپنی آنکھوں سے کچھ ایسا دیکھا جس کے بعد ان کا دل ٹوٹ گیا۔ کہتے ہیں جگر برسوں سے تک مراد آباد واپس نہیں لوٹے اور پھر جب لوٹے تو وہ جگر بن کر لوٹے۔
جب واپس لوٹے تو انہوںنے ایک اور شادی کی ۔ لیکن یہاں نبھ نہ سکی ۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ان کی دوسری بیگم نسیم شراب کو بہت برا سمجھتی تھیں اور مذہبی رسم و رواج کی پابند تھیں لیکن جگر صاحب اس سے بالکل الٹ تھے ہر وقت نشے میں دھت رہتے تھے لہٰذا منکوحہ کو طلاق دےدی۔ لیکن وہ انہیں کبھی بھول نہیں پائے۔ ان کی محبت ان کے سینے میں ہمیشہ کے لیے رہی۔انہوں نے ان کے لیے ایک شعر بھی کہا
بھوپال گرچہ خلدبداماں ہے اے جگر
دل کیا شگفتہ ہو کہ نسیم جگر نہیں
لیکن دیکھئے ان کی دوسری منکوحہ نسیم کی کہیں اور شادی ہوگئی اور وہاں ان کے خاوند فوٹ ہو گئے اور اپنی وفات کے وقت اپنی بیوی کو نصیحت کر گئے کہ میرے بعد تم دوسری شادی کر لینا ۔ جگر کو معلوم ہوا تو انہوں نے دوبارہ شادی کا پیغام بھیجا۔ نسیم بیگم نے شرط رکھی شراب چھوڑ دو۔محبت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جگر نے شراب چھوڑ دی۔اور پھر کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اب کہ جگر ایک بدلے ہوئے انسان تھے۔ پرانی غلطیوں کو سدھارتے ہوئے نسیم کے لیے جگر لاج بنایا۔ ان کیلئے تحائف اور ان کی خوشیوں کا خیال رکھنے والے شوہر بن چکے تھے۔
جگر آساں نہیں آباد کرنا گھر محبت کا
یہ ان کا کام ہے جوزندگی برباد کرتے ہیں
طبیعت شگفتہ مگر کھوئی کھوئی
ہرانداز دلکش مگر والہانہ
فلمی دنیاکو ان کی شاعری ایسی لبھاتی تھی کہ اس زمانے میں انہیں شعرلکھنے سے پہلے پیسے دےدیا کرتے تھے جب آپ کا دل کرے لکھ دیجئے گا۔ لیکن جگر صاحب تھے کچھ الگ آدمی وہ پیسے نہیں رکھتے تھے فوراً ہی واپس کر دیاکرتے تھے ،یہ شاعرانہ طبیعت تھی ۔ اگر کاروباری ہوتے تو کبھی انکار نہیں کرتے۔ انہوں نے ایک فلم ”آسمانی مشاعرہ “میں داغ دہلوی کاکردار بھی ادا کیا تھا۔ یہ فلم فضلی صاحب نے بنائی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد فضلی صاحب پاکستان آگئے اور یہ فلم ادھوری ہی رہ گئی۔
جگر کی زندگی میں کچھ ایسے واقعات بھی درپیش آئے جو ہم سب کے لیے آج بھی سبق آموز ہیں ۔ جگر کو مولانا اشرف علی تھانویؒ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا ۔ نشے میں دھت ان کے پاس پہنچ گئے۔ تھانوی صاحب کے شاگرد دوڑے کہ بھگاﺅیہ شرابی کہاں سے آگیا ہے۔ لیکن مولانا تھانوی نے سب کو بٹھایا اورکلام سنا۔ بہت مسرور ہوئے۔کہنے لگے ”خدا کا شکر ہے کہ حافظ کا سا سرور اردو میں بھی پیدا ہو گیا ہے“۔ پھر جگر صاحب سے مخاطب ہوکر کہا کہ” کسی رئیس کوکلام سناتے تو انعام و اکرام بھی ملتا ۔ مجھ فقیر کوسنایا ہے تودعا ہی مل سکتی ہے۔ “ اور دعا دی کہ خدا تمہیں ”جام طہور“پلائے۔
جگر صاحب نے تمام عمر شیروانی، جواہر کٹ اورپاجامہ ہی زیب تن کیے رکھا۔کوٹ پتلون نہیں پہنتے تھے۔ پان کے شوقین تھے، حقہ بھی پی لیتے تھے۔ شطرنج، تاش، اورکیرم کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن رمی کے بے حد شوقین تھے ۔رمی کھیلتے ہوئے گفتگو بھی کیا کرتے تھے۔ اور کئی مرتبہ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ رمی کھیلتے ہوئے سامنے سے ایک لڑکا گزرا پوچھا والد صاحب کا کیا حال ہے وہ بولا ان کا انتقال ہو گیا ،بے خیالی میں بول پڑے بہت اچھا ہوا۔ پھر یکدم خیال آیا کیا کہہ گیا اور بولے استغفر اللہ کیا زبان کو ہوگیا ہے اور اس لڑکے سے گلے مل کر رونے لگے ۔
بہت سے لوگ جگر صاحب کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ وہ شراب پی کر کہیں بھی لیٹ جاتے تھے لیکن بد تمیزی یا اول فول بکنا کسی نے نہیں سنا۔ جگر صاحب فطرتاً نیک اور سچے انسان تھے۔ بہت سادہ دل اور سادہ مزاج تھے اور جھنجھٹ سے دور بھاگتے تھے ان کے قریب پہنچنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا اور وہ تھا خلوص ، صرف خلوص سے ان کوجیتا جا سکتا تھا۔کئی راقم تحریر کرتے ہیں کہ جب انہوں نے شاعری کوآغاز کیا تب بھی اور جب اپنی شہرت کے بام عروج پرپہنچ گئے۔ اس وقت بھی انہوں نے کبھی غرور نہیں کیا۔وہ زیادہ تر سنجیدہ رہتے تھے اورلغوباتوں سے پرہیز کرتے تھے۔
جگر پہلے اردوکے شاعرتھے جنہیں ہندوستان نے پدم بھوشن کا خطاب دیا۔ انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ علی سردار جعفر رقمطراز ہیں کہ وہ فلمی ایکٹر کی طرح تھے جہاں جاتے اپنے ساتھ جم غفیر لے جاتے اور یہ ہی ان کا سب سے بڑا اعزاز تھا۔ “مزاجاً ایسے تھے کہ دوسروں کے مسائل حل کرنا اپنا فرض سمجھ لیتے تھے۔ عزیز و اقارب کے بہت کام آتے تھے۔ لیکن ان سب کے باوجود جگر صاحب کی طبیعت ایسی تھی کہ دیکھنے والے کو لگتا تھا جیسے وہ بہکے بہکے ہوئے ہیں۔
جگر کا سب سے پہلا مجموعہ کلام ”داغ جگر “کے نام سے شائع ہوا۔ پھر شعلہ طور، آتش گل، یادگار جگر، جگر اور جامعہ ملیہ ، جگر اور علی گڑھ یونیورسٹی، انجمن تری اردو اور جگر، گل افشانی گفتار دارالکہلا شائع ہوئے۔ اورآج تک ان پر دنیا میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ شائع ہوتا رہتا ہے۔
موت کئی مرتبہ جگر کے بہت قریب سے گزری ، کہتے ہیں انہیں ایک مرتبہ زہر بھی دیا گیا تھا۔ ایک دفعہ کسے کو بتائے بغیر کہیں گئے اور واپس کافی دنوں تک نہیں آئے ۔ جب آئے تو کیا دیکھتے ہیں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جاچکی تھی۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے یہ خبر بھی شائع کر دی تھی۔ پھر ایک مرتبہ دل کا دورئہ پڑااورناعاقبت اندیشوں نے موت کی خبر اڑا دی۔ یہاں تک کہ احسان دانش کی صدارت میں تعزیتی جلسہ بھی ہوا لیکن پھر غلط ثابت ہوئی۔لیکن 9ستمبر 1960ءکو مراد آباد میں ایک صاحب رکشہ پر بیٹھے لاﺅڈ سپیکر کے ذریعے اعلان کرتے پھر رہے تھے کہ”جگر مراد آبادی خدا کو پیارے ہو گئے “ اور اس طرح 9ستمبر 1960ءمیںوہ اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔
ان کے کلام میں سے کچھ آپ کیلئے
شکوہ¿ موت کیا کریں کہ جگر
آرزئے حیات نے مارا
۔۔۔
جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یارپر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا
۔۔۔۔
اس سے تر ہیں اس شوخ کی ادائیں
کر جائیں کاماپنا لیکن نظرنہ آئیں
اس حسن برق و ش کے دل سوختہ وہی ہیں
شعلوں سے بھی جوکھیلیں دامن کو بھی بچائیں

یہ بھی پڑھیں:  خاندانی سیاست کیا ہوتی ہے؟