fasion

اونچے سینڈل کے آپ کی صحت پر اثرات

EjazNews

جدید طرز زندگی کو اگر تین الفاظ میں بیان کرنا ہو تو وہ الفاظ ہیں فیش، فیشن، فیش ۔ اب دراصل فیشن ساز ادارے، میگزین، فلمیں اور کیٹ واک شوز ہی ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کون سا لباس پہننا ہے اور کس طرح کے جوتے اور ہمیں کس طرح رہنا سہنا ہے ہم سب ان فیش ساز اداروں اور ماڈلز کے اشاروں پر یوں عمل کرتے ہیں گویا ہم کٹھ پتلی ہوں۔
فیشن آخر کیا چیز ہے ؟ اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں بس یہ سمجھ لینا کافی ہوگا کہ عام طور پر جس چیز کو خواہ وہ لباس ہوی ا جوتے جسمانی ساخت ہو یا آرائشی اشیاء جسے معاشرتی مقبولیت حاصل ہو جائے وہ فیش کہلاتا ہے۔ فیشن کے حسن و قبح پر بحث کرنے کی بجائے فی الحال ہمارے غورو فکر کا موضوع صحت پر فیشن کے اثرات اور خطرات ہے اور یہ اثرات اور خطرات خواتین ہی نہیں مرد حضرات کو بھی یکساں طور پر لا حق ہیں۔
کیا آپ نے غور کیا ہے کہ بعض نوجوان خواتین پیروں اور ٹانگوں کی تکالیف میں زیادہ کیوں مبتلا ہوتی ہیں؟ اس لئے کہ وہ اونچی ایڑی کی سینڈلز پہنتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے پنجو ں کی ساخت تک تبدیل ہو جاتی ہے یہ سینڈلز ان کی ریڑھ کی ہڈی، کمر اور ٹانگوں پر ناروابوجھ بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر پلیٹ فارم شوز کے ذریعے خواتین اپنے قد میں اضافہ کر سکتی ہیں ۔اب جتنے انچ کا قد میں اضافہ کریں گی اتنا ہی بھاری تلا ہوگا۔زیادہ سے زیادہ اضافہ 8انچ تک کیا جاسکتا ہے۔ تلا موٹا ہونے سے عام جوتیوں سے تین گناہ زیادہ بھاری ہو جاتی ہیں ۔ یہ اضافی بوجھ ہر قدم پر اٹھانا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی ٹانگیں جلد تھک جاتی ہیں ۔اس کے دو طرح کے نقصانات ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ انہیں پہن کر پیروں کی انگلیاں سخت بے آرام ہو جاتی ہیں چھوٹی سی تنگ جگہ میں ان انگلیوں کو فٹ ہونا ممکن نہیں ہوتا اس لئے وہ ایک دوسرے پر چڑھ جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ طویل عرصے جاری رہے تو پیر کی انگلیو ں کی ساخت ہی بدل جاتی ہے اور انگوٹھے کے اوپر چڑھ کر رہ جاتی ہے۔
اونچی سینڈل مسلسل پہننے کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ پنڈلی کی ایک اہم رگ چھوٹی ہو جاتی ہے یہ وہ موٹی رگ ہے جو ایڑی کو پنڈلی کی مچھلی سے ملاتی ہے اس کے چھوٹا ہونے کے نتیجے میں پیر بعض سمتوں میں آزادانہ حرکت کے قابل نہیں رہتا۔ اور ایسی کسی حرکت کے باعث درد ہوتا ہے۔ اس طرح اگر متاثرہ خ اتون سیدھے سادے سلیپر پہن لے تو اسے درد ہوتا ہے کیوں کہ چھوٹا ہونے کے سبب پیر پوری طرح سلیپر میں نہیں آپاتا۔ اونچی ایڑی کے ساتھ چلنے والی خواتین میں ٹخنے کی موچ کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
ایک اوسط انسان یومیہ پانچ ہزار قدم اٹھاتا ہے اونچی ایڑی پہننے کی صورت میں جسم میں سارا بوجھ اور چلنے کی قوت پنجے کی صورت میں پنجے کے اگلے حصے پر پڑتی ہے۔ تین انچ اونچی ایڑھی پہننے کی صورت میں پنجے کے اگلے حصے پر ایک انچ ایڑھی والی سینڈل کے مقابلے میں سات گنا زیادہ دبائو پڑتا ہے۔
جبکہ فیشن انڈسٹری کہتی ہے کہ اونچی ایڑی کی سینڈل سے خاتون کا قد اونچا ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ سمارٹ اور پرکشش دکھائی دیتی ہے۔
وہ فیشن جس کو اپنا کر بھی آپ جسمانی تکالیف کا شکار رہیں اور جو طویل عرصہ گزرنے پر آپ کے لئے لا تعداد مسائل اور تکالیف چھوڑ جائے۔ آرام دہ اور پر سکون حالت میں ہونا فیشن کی حالت میں ہونے سے زیادہ دانشمندی ہے۔
یہ بات جاننے کے لئے کہ اونچی ایڑی پہنئے سے آپ کی پنڈلی کے پٹھے اور پنڈلی کو خون پہنچانے والی بڑی رگ چھوٹے تو نہیں ہو گئے۔ ایک تجربہ کیجئے۔ موٹر سائیکل اور کاروں کے چڑھنے اترنے کے لئے گھروں کے باہر ڈھلوان بنے ہوتے ہیں کسی ڈھلوان سطح پر اس طرح کھڑے ہو جائیں کہ اونچائی آپ کے سامنے ہو اور آپ کے قدم نیچائی پر ہوں۔ اب محسوس کیجئے کہ آپ بالکل سیدھے کھڑے ہو سکتے ہیں یا نہیں اگر ہو سکتے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ اگر آپ کو آگے کی طرف جھک کر کھڑا ہونا پڑ رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی پنڈلی کے پٹھے اور پنڈلی کی بڑی رگ چھوٹی اور کمزور ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہونے والی ماﺅں کیلئے چند مشورے