Menstruation women-1

ماہواری کے نظام میں مشکلات کے باعث پیچیدگیاں

EjazNews

اللہ تعالیٰ نے سوائے نظام تولید کے انسانی جسم کے باقی نظام مثلاً نظام اعصاب، نظام ہضم و جذب ، نظام گردش خون، نظام بول و براز و غیرہ مردو زن کے ایک جیسے بنائے ہیں۔ نسل انسانی کو جاری رکھنے کے لئے مردوزن کے تولیدی نظام الگ الگ ہیں۔ عورتوں کے تولیدی نظام میں ہر ماہ واقع ہونے والی ایک چیز ’’ماہواری‘‘ ہے۔
ماہواری کا نظام اوسط کے لحاظ سے 26دن کا ہوتا ہے لیکن بعض خواتین میں 27اور28کا بھی ہو سکتا ہے۔ اوسطاً 26دن کے بعد بالغ عورتوں کو کپڑے آتے ہیں۔ کپڑے آنے کی اوسط مدت بھی پانچ دن ہ ے اور یہ بھی 6یا7دن ہو سکتی ہے۔ ان دنوں میں رحمکے استر کے چیتھڑے خون کے ساتھ نکلتے ہیں۔26دن کا یہ دور کیلنڈر کے مہینوں جنوری، فروری وغیرہ کے لحاظ سے نہیں ہوتا۔ ہر عورت کا اپنا دور الگ ہوتا ہے اگر صحت ٹھیک ہو تو 26دن کے بعد باقاعدگی سے کپڑے آتے ہیں۔
خواتین کے خیال رکھنے کی دوسری بات یہ ہے کہ کپڑے آنے یعنی حیض آنے کا صرف یہی موقع ہوتا ہے۔ اگر کی بہن بیٹی کو دو حیضوں کے درمیان خون آجائے تو یہ معمول کے خلاف بات ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ اپنی خاتون معالج سے مشورہ کریں۔ ایسا بعض اوقات کسی معمولی بات سے ہو سکتا ہے۔ اور بعض اوقات کوئی سنگین بات بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً 28 برس سے 40 برس کی خاتو ن کو اگر ایسا ہو تو رحم کی گردن (Cervix) میں سرطان کا شبہ ہو سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ دو ماہواریوں کے درمیان میں خون کا آنا ٹھیک نہیں، اس پر فوراً توجہ کرنی چاہئے۔
خواتین کو ایام سے پہلے ایک قسم کا تنائو دبائو محسوس ہوتا ہے۔ یہ ہر خاتون کو ہوتا ہے، لیکن نوخیز خواتین اس سے گھبرا جاتی ہیں۔ اس کے بارے میں طبی مشورہ یہ ہے کہ چوں کہ ایسا ہوتا ہی ہے، اس لئے اسے برداشت کرنا چاہئے اور عمر کے ساتھ ساتھ خواتین خود بخود اسے برداشت کرنا سیکھ لیتی ہیں۔ تاہم اگر یہ تنائو بہت زیاد ہ اور ناقابل برداشت ہو تو اپنی خاتون معالج سے رجوع کریں۔
اگر مقررہ وقت پر کپڑے نہ آئیںتو یہ فکر کی بات ہے ۔ خواتین معالج سے مشورہ ضروری ہے بعض اوقات ٹھنڈے پانی سے ہاتھ پیر یا کپڑے دھونے سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اگر خون کھل کر نہ آئے اور صرف دھبا سا لگے تو بھی خاتون معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے ک اسے ہر ماہ باقاعدگی سے ایام ہو ں اور خاتون کی جو عادت بن چکی ہے اس کے مطابق خون کا اخراج ہو۔ ایام کا بالکل بند ہونا یا خون کا بہت ہی کم ہونا دونوں باتوں کے لئے طبی مشورے کی ضرورت ہے۔
اب ایک اور تکلیف ہے ، زیادہ خون آنا۔ اس کی دو قسمیں ہیں: ایک یہ کہ ماہواری تو باقاعدگی سے ہو رہی ہے اور زیادہ خون آئے تو اسے جریان حیض (Menorrhagia)کہتے ہیں۔ دوسری یہ کہ ماہواری بے قاعدگی سے آنے لگے اور خون بھی زیادہ آئے تو اس کو جریان حیض بے قاعدہ (Metrorrhagia)کہتے ہیں ۔ اس میں رحم کی کوئی خرابی ہوتی ہے۔
بدن سے زیادہ خون نکلنے سے خون کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں کمی خون کی دوائیں دی جاتی ہیں۔ آخر میں یہ کہ 38سے 50برس کی عمر میں خواتین میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایام بند ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہر خاتون کے مزاج کے مطابق اس پر پستی طاری ہوتی ہے۔ طبیعت خراب رہنے لگتی ہے، ایام کے بند ہونے کی تین صورتیں ہیں: کسی کے یک دم ایام بند ہو جاتے ہیں اور پھر نہیں آتے۔ کسی کے ایام کے درمیان وقفہ طول پکڑجاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن وہ بند ہو جاتے ہیں۔کسی کے ہر ماہ اخراج خون کی مقدار کم ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح کم ہوتے ہوتے ایک دن ایام بند ہو جاتے ہیں۔ (ڈاکٹر ثمرین فرید)

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں میں صحت کی خرابی کی وجوہات