islam

شکر گزاری کی عادت

EjazNews

کبھی سوچا ہے ،ہم شکر گزار کیوں نہیں ہیں،کیا چیز ہے، جو ہمیں شکر گزاری سے روکتی ہے؟ہماری خواہشات اور زیادہ تر نا جائز خواہشات۔ایک خواہش پوری ہوتی ہے،ابھی اس کا شکر ادا کرنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی کہ ایک نئی خواہش جنم لے لیتی ہے۔ اور پھر وہ نئی خواہش اتنا زور پکڑتی ہے کہ ہم پچھلی خواہش کی تکمیل کا شکر ادا کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔کوئی ایک ایسا شخص نظر آتا ہے، جو اپنی زندگی سے سو فیصد مطمئن ہو۔ کسی سے بھی مل دیکھیں، وہ اپنی زندگی سے ناخوش ہی نظر آئے گا۔ ہر ایک کے لبوں پر’’یہ ہو گیا، وہ ہو گیا‘‘ کا شکوہ ہی رہتا ہے اور زیادہ ترہم سب کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہےکہ’’ میری ہر خواہش پوری ہو گئی، لیکن‘‘اور یہ لیکن ہی تو ہے،جو زندگی میں کوئی سکون کا سانس نہیں لینے دیتا۔’’لیکن یہ نہ ملا‘‘،’’لیکن وہ نہ ہوا۔‘‘،’’لیکن یہ ابھی باقی ہے‘‘،’’لیکن ایک خواہش تو پوری ہونی رہ گئی ہے۔‘‘کیا کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ہمیں سب سے بہترین اُمت بنایا گیا، اشرف المخلوقات بنایا گیا۔ ہر عضو الحمدللہ سلامت ہے۔اچھی صحت ، دولت اور رہنے کے لیے اچھا گھر ہے۔ زندگی خُوبصورت بنانے والے رشتے، ماں باپ، بہن بھائی، رشتے دار اور دوست سبھی تو ہیں۔ اچھے تعلیمی ادارے بھی ہیں۔ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت تو وہ بن کہے پوری کرتا آیا ہے۔ہمارے سرکش ہو جانے پر بھی، وہ رحمٰن ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ پھر بھی ہم اپنی زندگیوں سے نا خوش کیوں ہیں؟؟؟۔زندگی تو کسی کی بھی مکمل نہیں ہوتی، اور ہم اور آپ تو ہزاروں، لاکھوں سے بہتر ہیں، کبھی اسی بات پر رب کے حضور سجدہ ریزہوجایا کریں۔جو جو نعمتیں آپ کو میسرہیں، آپ چاہیں بھی تو شمار نہیں کر سکتے اور اللہ رب العزت کا تو فرمان ہے کہ ’’شکر ادا کرو گے، تو میں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘ اسی ناشکری کے سبب تو ہمارے گھروں سے برکت اُٹھ گئی ہے۔ہر کوئی محرومیوں کا حساب کرنے میں ماہر ہے، لیکن نعمتوں کا حساب کوئی نہیں کرتا۔وہ تو بے نیاز ہے، جسے چاہے عطا کرتا ہے۔ ہماری ناشکری پر اُسے تو فرق نہیں پڑتا۔ فرق تو ہمیں پڑتا ہے کہ اگر وہ چاہے، تو یہ نعمتیں بھی چھین لے۔ آپ اور ہم کیا کرسکتے ہیں…؟؟
کبھی فرض نمازوں کے ساتھ ،شکرانے کے نوافل بھی ادا کیا کریں۔ ہنستے ہنستے کچھ آنسو بہا کر کپکپاتے ہونٹوں سے ممنونیت اور تشکر کا اظہار بھی کریں کہ وہ تو دل میں اُبھر نے والی چھوٹی سی خواہش، جسے کسی سے کہا بھی نہ گیا ہو، وہ بھی پوری کرتا ہے۔وہ تو بن مانگے دیتا ہے۔وہ تو رحمٰن ہےاور ہم ظالم ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں۔ وہ تو رحیم و کریم ہے۔ اُس کی تو صفت ہی نوازنا ہے۔
آئیے،آج ہی سے زندگی گزارنے کا ایک اصول بنالیں کہ ہم اُن تمام نعمتوں کا، جو ربِ کریم نے ہمیں عطا کی ہیں، شُکر بجا لائیں گے اور اپنا شمار اللہ کے شُکر گزار بندوں میں کروائیں گے۔ ہم اپنی اِکّا دُکّا پوری نہ ہونے والی خواہشوں پر شکوہ کُناں نہیں ہوں گے، کیوں کہ ہم نہیں جانتے ،ہمارے لیے کیا بہتر ہے، بلکہ ہم تو نادانی میں اکثر اپنےہی لیے خسارے کی دُعا کر بیٹھتے ہیں اور پھر پچھتاتے رہتے ہیں۔سو، آج سے ہم بس یہی دُعا کریں گے کہ ’’اے ہمارے مہربان مالک! ہمارے لیے وہ فیصلہ فرما، جو ہمارے لیے بہتر ہے۔‘‘اور یقین رکھیں، اللہ کی یہ شُکر گزاری ہماری زندگیوں میں بےحد سکون و اطمینان لائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کےاحسان، نعمت اللہ (۲)