dental

بدبو دار سانسیں شرمائیں نہیں ،علاج ممکن ہے

EjazNews

اکثر حالات میں تعفن بھری سانسوں کا سبب پروٹین Break downہوتا ہے جو کہ متعددMicro-organismsکے باعث پیدا ہوتا ہے۔ اکثر کیسوں میں یہ بدبو ڈکاروں کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ اگر کسی کے دانت اور مسوڑھے صاف ستھرے اورصحت مند ہیں تو ایسے شخص میں تعفن اس کی زبان کے پچھلے حصے کی جانب سے آتا ہےاور اس وقت بدبو دار مہک اور زیادہ پھیلنے لگتی ہے، جب اس مرض کے شکار گفتگو کا آغاز کرتے ہیںتو سامنے والےکراہت محسوس کرتے ہیں۔اس ناخوشگوار مہک کا سبب اگر زبان کا پچھلہ حصہ بن رہا ہے تو ڈینٹسٹ اس کے معائنے کے لئے پلاسٹک کا چمچہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ خصوصی طور پر ڈینٹسٹ حضرات کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے تھوک اور حلق کا بلغمی جز حاصل کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا اس کا سبب یہی ہے یا کوئی اور۔ اس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے منہ سے آنے والی مہک اور زبان کے پچھلے حصے سے حاصل شدہ اجزاء میں کوئی فرق ہے۔ اگر زبان کا پچھلا حصہ منہ سے آنے والی ناخوشگوار مہک کا سبب بن رہا ہے تو اس صورت میں اس کی صفائی کی جاتی ہے۔ اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ دنیا بھر میں اس حصے کی صفائی عام بات ہے اور اس کے لیے عام برش سے لے کر خصوصی آلات تک استعمال کیے جاتے ہیں۔
بعض لوگوں میں منہ کے ذریعے آنے والی ناخوشگوار مہک کا تعلق ان کو لاحق مسوڑھوں کی بیماریو ںسے بھی ہوتا ہےاور اس صورتحال میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جب داڑھیں کھوکھلی ہوں اور ان میں کیڑے لگے ہوئے ہوں۔ اگر آپ کی متعفن سانسوں اور ناخوشگوار مہک کا سبب یہ ہے تو پھر آپ کا ڈینٹسٹ اس مسئلے کے خاتمے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ آپ کے مرض کی کیفیت کے لحاظ سے کون سا طریقہ علاج اختیار کرتا ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ دانتوں کی صفائی کا سب سے زیادہ خیال آپ خود ہی رکھ سکتے ہیں۔ دانتوں کو روز صاف کریں ۔رات کو سونے سے پہلے آپ مسواک کرتے ہیں یاٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں اس سے دانت ضرور صاف کیجئے ۔ اور اس چیز کا بھی خیال رکھیں کہ دانتوں کے درمیان میں خوراک کا کوئی ٹکڑا نہ پھنسا ہو۔ اس کے گلنے سڑنے سے بھی منہ میں بدبو کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے نجات کے لئے آپ کا ڈینٹسٹ کوئی اچھی سے Dental Creamیا کوئی دوسرا علاج تجویز کر سکتا ہے۔ جس سے دانتوں اور مسوڑھوں کے اندر خلاء یا سوراخوں کو بند یا ان کی صفائی کی جا سکے۔ علاوہ ازیں کوئی اچھا سا مائوتھ واش بھی تجویز کیا جاسکتا ہے۔ یہ مائوتھ واش طبی اور سائنسی بنیادوں پر تیار کر دہ ہوتا ہے۔ اسے مرض کی شدت کی نوعیت سے دن میں کئی بار استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی جاسکتی ہے۔ اس سے بھی جزوقتی طور پر متعفن مہک کو روکا جاسکتاہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ بد قسمتی سے اس مرض سے متاثر ہ خواتین کی اکثریت اس بات سے واقف نہیں ہوتی وہ نہیں جان رہیں ہوتیں کہ ان کے منہ سے کس قدر ناگوار بو آرہی ہے۔ لہٰذا عموماً یہ خواتین ڈاکٹر کے پاس بھی جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں بہت کم خواتین ایسی ہیں جو اپنے اس مسئلے کے بارے میں آگاہ ہوتی ہیں اور اس کا علاج کرانا ضروری خیال کرتی ہیں یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ جیسے ہی اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے اس کا علاج بہت آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور اس پر کوئی زیادہ رقم بھی خرچ نہیں ہوتی۔75فیصد خواتین کے منہ سے بوحفظان صحت کے اصولوں کے مطابق منہ اور دانتوں کی صفائی نہ کرنے کے باعث آتی ہے جبکہ دیگر 25فیصد خواتین امراض اور بعض وجوہات کی بنا پر بدبو دار سانس لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے بہت کم خواتین ایسی ہیں جو ڈینٹسٹ سے اس معاملے پر کھل کر بات چیت کرتی ہیں۔ جھجکنے، شرمانے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ خدانخواستہ اگر کسی کے منہ سے بو آتی ہے تو ڈاکٹر نہ صرف اسے مرض قرار دے کر اس کا علاج کرے گا بلکہ اس کے لئے یہ کوئی انوکھی یا معیوب بات بھی نہیں ہوگی لیکن اگر یہ بو عام لوگ محسوس کرتے ہیں تو وہ اسے نا سمجھی ، غفلت، جہالت، نامعقولیت یا بیماری کے سوا کسی اور چیز سے تعبیر نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  کالا موتیا، نظر کا خاموش قاتل
کیٹاگری میں : صحت