april-fools-day-banner

اپریل فول

EjazNews

اپریل کا لفظی مطلب تو پھولوں کا کھلنا ہے اور اسی مہینے موسم بہار کی آمد بھی ہوتی ہے۔ اب ان پھولوں کے کھلنے کا دن زمانہ قدیم میں نئے سال کا دن ہوا کرتا تھا۔ پرانے کیلنڈر کے مطابق نیا سال اپریل سے شروع ہوتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کو تحفے تحائف دیا کرتے تھے۔جیسا کہ آج نیو ائیر منایا جاتا ہے ایسا ہی ا س وقت تھوڑا ہٹ کے نئے سال کی خوشیاں منائی جاتی تھیں۔ یوں تو اپریل فول کی بہت سی تاریخی روایات ملتی ہیں ۔ان میں سے ایک روایت کے مطابق یورپ میں 1564ء تک نیا سال مارچ میں ہوتا تھا۔ فرانس کے بادشاہ نے کیلنڈر کو تبدیل کیا اور نیا سال جنوری میں شروع کیا گیا۔ جن لوگوں کو اس کا علم نہیں تھا وہ ویسے ہی ایک دوسرے کوتحائف دیا کرتے تھے اور جن کو معلوم تھا وہ ان کا مذا ق اڑاتے تھے اور یہی سے اپریل فول کی ابتداء ہوئی۔رومی اس دن کو اپنی دیوی دیوتائوں کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ بحرکیف روم میں اپریل فول نہیں منایا جاتا تھا۔
اس دن لوگوں کو بیوقوف بنانا ، آپس میں مذاق ، جھوٹ، دھوکا ، فریب ، ہنسی ،مذاق ایک دوسرے کی تذلیل و تضحیک کی جاتی ہے۔ یہ خالصتاً یورپی دن ہے اور یورپی روایت ہے۔ اور وہاں پر اس کے منانے سے آج تک ہلاکتوں کی بھی کوئی خبر منظر عام پر نہیں آئی ۔ لیکن ہمارا معاشرہ یورپ کے معاشرے سے بہت مختلف ہے۔ ہماری اقدار، روایات، مذہبی رسومات ، طور طریقے ہر لحاظ سے یورپ سے مختلف ہیں۔ یورپ میں جھوٹ بولنے والے کو عام حالات میں بہت برا سمجھا جاتا ہے اور ہمارے ہاں بات بات پر جھوٹ بولنا عادت کا حصہ بنا ہوا ہے ۔ لیکن اس روز کی مناسبت سے کچھ ناعاقبت اندیش لوگ ایسے مذاق بھی کر بیٹھتے ہیں جن کا فائدہ نہیں صرف نقصان ہوتا ہے۔
پچھلے کچھ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص نے بوڑھی ماں کو کہا کہ آپ کا بیٹا ایکسیڈنٹ میں مر گیا ہے اس نے بظاہراً یہ مذاق میں کہا تھا لیکن یہ مذاق اس عورت کی جان لے گیا کیونکہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکی۔
اسی طرح اچھے مستقبل کی تلاش میں کئی سالوں سے گھر نہ لوٹنے والے شخص کے باپ کو یہ کہاگیا کہ آپ کا بیٹا واپس آرہا ہے اس کا فون آیا ہے۔ وہ شخص یہ جانے بغیر کہ اس کی فلائٹ نمبر کیا ہے کیا ٹائم ہے اسی وقت گھر سے ائیر پورٹ کی طرف نکل پڑا ، جب اس کو بتایا گیا کہ آج اپریل فول ہے اور اس کو بیوقوف بنایا گیا ہے تو اس کے جذبات کا اندازہ لگانے کے لیے آپ کو صاحب اولاد ہونا ضروری ہے۔ وہ شخص ڈپریشن میں چلا گیا۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلامی لوگ اسے اسلام کے حوالے سے نہ دیکھیں یہ عام دن ہے جو روایات کے مطابق منایا جاتا ہے اس کا مذہبی رسومات سے کوئی تعلق نہیں ہم اگر ان کی بات مان بھی لیں تو یہ کیسے انصاف ہو سکتا ہے کہ کسی کی جان لے لی جائے اور کسی کو زندگی بھر کے لیے ڈپریشن دے دیا جائے گا۔ انصاف کا تقاضا یہ نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپریل فول منانے کا بہت شوق ہے تو انتظار کیجئے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی اور معاشی لحاظ سے یورپ کے برابر ہوجائے ۔ کیونکہ یورپ سے دوسرے ملکوں میں کام کرنے والوں میں اور ہمارے ہاں سے جا کر کام کرنے والو ں میں بہت فرق ہے۔ وہاں خاندانی سسٹم ، ہمارے خاندانی سسٹم کی طرح نہیں ہے۔ اگر آپ کسی ایسی خوشی دیتے ہیں جس کے بعد وہ برسوں دکھی رہے تو ایسی خوشی سے دکھ بہتر ہوتا ہے۔ ہاں اگر آپ پھر بھی نہیں مان رہے کہ یہ دن منانا ضروری ہے تو پھر کوئی ایسا جھوٹ تلاش کیجئے جس کے ساتھ سچ کا کوئی تعلق نہ ہو۔
اب یہاں پر جھوٹ کے متعلق میں آپ کو ایک بخاری کی حدیث شریف بتاتا چلو جس کا تعلق جھوٹ سے ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میرے پاس گزشتہ رات خواب میں دو آدمی آئے انہوں نے کہا کہ جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جارہاتھا وہ بڑا ہی جھوٹا تھا، جو ایک بات کو لیتا اور ساری دنیا میں پھیلا دیتا تھا، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی‘‘(صحیح بخاری)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کوہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے ، ہلاکت ہے اس کے لیے ہلاکت ہے اس کے لیے ‘‘۔ (سنن ابی دائود)
جھوٹ عام حالات میں بھی نہ بولیں۔اگر آپ پڑھنے والوں میں سے کوئی یورپ گیا ہو تو اس کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہاں پر لوگ جھوٹ نہیں بولتے ، صحیح معنوں میں وہ سچ بولتے ہیں اور اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں یقین کیجئے بہت کم لوگ سچ بولتے ہیں اور جو سچ بولتا ہے اسے بیچارہ ،شریف آدمی اور پاگل کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس دن آپ بھی تہیہ کیجئے کہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بابا گرو نانک کے تصورات و نظریات