میلہ چراغاں

آئیے میلہ چراغاں کو کیمرے کی نظر سے دیکھتے ہیں

EjazNews

لاہور صوفی بزرگوں کی آماجگاہ رہا ہے اورانہی میں سے ایک حضرت شاہ حسین بھی ہیں۔ انہیں شاہ حسین لاہوری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ شاہ حسین پنجابی کے عظیم صوفی شاعر ہیں جنہوں نے کافی کی صنف میں شہرت پائی۔انہوں نے تشدد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اپنی صوفیانہ سوچ اور حکمت سے لوگوں کے دل جیتے۔
شاہ حسین 945ہجری بمطابق 1539ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ شاہ حسین کے والد شیخ عثمان کاروباری شخصیت تھے۔ شاہ حسین اپنے محلے میں حسین جولاہا کے نام سے معروف تھے۔
شاہ حسین پنجابی کے پہلے شاعر ہیں جنہوں نے داستان ہیر رانجھا کو بطور عشق حقیقی کی تمثیل اپنے شعری کلام میں سمو کر پیش کیا۔شاہ حسین 1599کو لاہور میں ہی اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے ۔ ان کا جسد خاکی شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں ہے جہاں ہر سال مارچ کے آخر میں میلہ چراغاں کے موقع پر عرس منایا جاتا ہے۔یہ میلہ صدیوں سے پنجاب کی ثقافت کا مظہر ہے ۔ شاہ حسین کے نام کے ساتھ ایک نام رہتے دنیا تک جڑا ہوا ہے مادھولا ل ، کہا جاتا ہے کہ مادھو ،شاہ حسین کی رحلت کے بعد اڑتالیس سال تک زندہ رہے۔ انہیں شاہ حسین کے مقبرے کے قریب ہی مقبرے میں دفنایا گیا ہے۔ تاریخی راوی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ،وہ کچھ بھی کہیں لیکن یہ جب بھی شاہ حسین کا ذکر ہو گا تو مادھوکا بھی ذکر ہوگا۔
شاہ حسین نے ڈیڑھ سو سے زائد کافیاں لکھیں۔ ان کے کلام میں اتنی تاثیر ہے کہ قاری اور سامع جھومے بغیر نہیں رہ سکتا۔
ان کلام سے کچھ آپ کیلئے
ربا ! میرے حال دا محرم تُوں!!
اندر تُوں ہیں، باہر تُوں ہیں، رُوم رُوم وچ تُوں
تُوں ہیں تانا، تُوں ہے بانا، سب کجھ میرا تُوں
کہےحسین فقیر نماناں،میں ناہیں، سب تُوں
نی سیو! اسیں نیناں دے آکھے لگے
جیہناں پاک نگاہاں ہوئیاں،سے کہیں نہیں جاندے ٹھگے
کالے پٹ نہ چڑھے سفیدی،کاگ نہ تھیندے بگے
شاہ حسین شہادت پائیں، جومرن مِتراں دے اگے
رہیے وو !نال سجن دے رہیےوو
لکھ لکھ بدیاں ، سو سو طعنے،سبھو سر تے سہیے وو
توڑ ے سر ونجے دھڑ نالوں،تاں بھی حال نہ کہیے وو
سخن جنہاں دا ہووے دارو، حال اتھائیں کہیے وو
چندن رکھ لگا وچ ویہڑے،زور دھگانے کھیئے وو
کہے حسین فقیر سائیں دا،جیو ندیاں مر رہیے وو

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے شاہینوں نے انڈیا کے دو طیارے گرائے اور ایک فوجی گرفتار کیا
ایک ملنگ اپنی دھن میں
عورتیں میلہ چراغاں میں چراغ جلاتے ہوئے
فوٹو گرافر کے لیے خصوصی طور پر چراغ لے کر کھڑے ملنگ اور ملنگنی
ڈھول کی دھمال پر ناچتا ہوا ملنگ
دھمال ڈالتے ہوئے