Imran Khan

وزیراعظم کا اظہار افسوس اور ہمارا ٹریفک نظام

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’بھکر میں پیش آنے والے حادثے میں نوجوان زندگیوں کا ضیاع نہایت صدمہ انگیزہے۔ سکول سے واپسی کے دوران 6 بچیاں اور ان کا رکشہ ڈرائیور حادثے کی نذر ہو گئے۔ میری تمام دعائیں اور ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں‘‘
گزشتہ روز بھکر کے نواحی علاقے جھنگ روڈ پر ’’جیسے والا‘‘ کے قریب تیز رفتار مسافر بس نے طالبات کو لے کر جانے والے رکشہ کو کچل ڈالا جس کے نتیجے میں 6طالبات اور ان کا رکشہ ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔ حادثے کی شکار لڑکیاں پرچہ دے کر واپس گھر کو جارہی تھیں۔ یہ تمام طالبات او ررکشہ ڈرائیور ایک ہی گائو ں کے تھے۔
اگر آپ روز اخبار پڑھتے ہیں اور نیوز چینل دیکھنے کے شوقین ہیں تو ایسی خبریں آپ کی زندگی کے معمول کا حصہ ہیں۔ آئے روز ٹریفک حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ جب ہم نے کچھ معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی کہ ہمارا ٹریفک کا نظام کیسے چل رہا ہے تو یہ جان کر حیرت نہیں ہوئی کہ ویسے ہی چل رہا ہے جیسے چلنا چاہیے تھا۔ سڑک پر چلنے والے 80فیصد ڈرائیوروں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں گاڑی ،موٹر سائیکل دوستوں ،بڑے بھائی یا ماں باپ سےسیکھی جاتی ہے اور اس کے بعد آپ آزاد ہیں ۔ جہاں تک کمرشل ڈرائیونگ کا تعلق ہے تو اس میں تو ہے ہی استادی شاگردی ،پہلے کنڈیکٹر بنوں اور اس کے بعد ڈرائیور ۔ ان سب کے درمیان ٹریفک رول یا پھر ٹریفک پولیس ، ٹریفک قوانین سیکھنے یا سکھانے والی کوئی چیز نہیں۔ اگر آپ آج پاکستان میں یہ اعلان کروادیں کہ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے والے پر بھاری بھرکم جرمانہ ہوگا تو یقین کیجئے سڑکوں پر کچھ عرصے کے لیے 80فیصد گاڑیاں ہی نہیں ہوں گی اگر اس سے زائد ہوں گی تو مٹھی گرم کرنے اور کروانے میں یہاں کوئی ثانی نہیں۔
اگر ہم پورے ملک میں کس سڑک پر کیسی ٹریفک چلتی ہے ، کتنی ٹریفک چلتی ہے۔ اس کا ایک ریکارڈ جمع کرلیں اور اس کی مناسبت سے سڑکوں کی تعمیر کا کام کیا جائے تو بہت سے ہونے والے حادثات سے بچا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایم کیو ایم وزارت سے الگ ہوئی ہے حکومت سے تعاون جاری رکھے گی:خالد مقبول صدیقی