children_health

بچے آپ ہی کے ہیں

EjazNews

اگر بچپن کا تذکرہ کریں، تو وہ تقریباً سب ہی کا ایک جیسا ہوتا ہے ،جس میں شوخی و شرارت، بے فکری وآزادی اورسادگی و سچائی کے پھول اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ کھلے نظر آتے ہیں۔ تاہم، موجودہ دور میں بعض عناصر اس بچپن کی معصومیت و بے ساختگی کو کسی عفریت کی طرح نگلنےکو تیاربیٹھے ہیں۔اب گلی کوچوں میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیںکم ہو تی جارہی ہیں، پارکس بچوں کیلئے اکثر و بیشتر خالی پڑے ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ ماضی میں بچّوں کو معاشرے میں جو تحفظ حاصل تھا، وہ اب نہیں رہا۔جب بچہ گھر سے باہر جاتا ہے تواس کی واپسی تک اک ان جانا سا خوف گھیرے رکھتا ہے۔کافی حد تک ان حالات کی بنیادی وجہ ہمارے معاشرے کی بگڑتی ہوئی اقدار اور کم ہوتا ہوا جسٹس نظام ہے۔ پھر وہ ذہنی طور پر بیمار افراد، جن کے سبب بچے بے فکری سے اپنا بچپن نہیں جی پاتے، دراصل اُن کی تربیت کے معاملے میں کہیں نہ کہیں کوئی کوتاہی ضرور ہوتی ہے۔ایک خاتون کو دیکھا جو اپنی بچی کی شکایت کررہی تھیں کہ وہ ان کا کہنا نہیں مانتی۔ پہلے تو پڑوس کی دکان سے جو منگواتی، لاکر دے دیتی تھی، مگر اب کچھ دنوں سے سنی ان سنی کرجاتی ہے۔جب بچی کواعتماد میں لے کر اس سے پوچھا،بچی نے بھولے پن سے،دو ٹوک جواب دیا، ’’باجی! دکان والے انکل پیار کرتے ہیں، مگر مجھے ان کے پاس جانا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ بچی کی بات سن کربات سمجھ میں آگئی ،اس کی ماں سے اتنا کہا کہ بچوں کو اعتماد میں لیجئے ان کی باتیں سنیں وہ کام جو آپ کہہ رہی ہیں اگر نہیں کر رہے تو اس کی وجہ ان سے پوچھئے۔ ان کے ساتھ باتیں کیجئے نہ کہ تشدد کر کے انہیں مجبور کریں۔

بچوں کو اعتماد میں لیجئے ان کی باتیں سنیں وہ کام جو آپ کہہ رہی ہیں اگر نہیں کر رہے تو اس کی وجہ ان سے پوچھئے

عام مشاہدہ ہے کہ بچّے اتنےخالص اورمن کے سچےہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ بیتنے والے ہر تجربے کا عکس ان کے چہرے پر باآسانی دیکھا جاسکتا ہے، خصوصاً والدین کی ایک نگاہ بخوبی بھانپ سکتی ہے کہ بچّہ کسی الجھن سے دوچار ہے۔ اگر بچّوں کو جسمانی یا ذہنی طور پر ہراساں کیا جائے، تو وہ کچھ وقت کے لیے بالکل خاموش یا الجھ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی کسی مخصوص شخص سے کترانے یا اس کو ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ کچھ بچّے والدین کو اعتماد میں لے کر بتانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر افسوس کہ بہت سے والدین ان کی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق’’بچّوں کو ہراساں کیے جانے والے97فیصد کیسز میں اُن کے جاننے والے یا قریبی افراد ملوث ہوتے ہیں۔ جیسے کہ قریبی دکاندار، گھریلو ملازم، وین ڈرائیورز، ٹیچرز، کزنز، عُمر میں بڑا کوئی دوست یا پھر رشتے دار وغیرہ۔ اور اس میں لڑکے یا لڑکی کی کوئی تخصیص نہیں، بلکہ یہ تناسب برابر یعنی تقریباً50 فیصد ہے۔‘‘اگر آپ کو اپنے بچے میں کوئی بھی ایسی تبدیلی نظر آرہی ہے، جو آپ کے لیے اچنبھے کا باعث بنے۔ مثلاً کسی مخصوص فرد سے گھبرانا، اس سے ملنے سے انکار، گریز یا غیر معمولی خاموشی وغیرہ ،تو ازراہ کرم اس کے آنے جانے، ملنے ملانے کی روٹین پر کڑی نظر رکھیں۔ بظاہر کوئی علامت نہ ہو، تب بھی آنکھیں کھلی رکھیں کہ کہیں کوئی آپ کے بچّے سے بلاوجہ، غیر ضروری حد تک بے تکلّف تو نہیں ہورہا ہے۔ گھر میں ٹیویشن پڑھنے والے بچوں کو بالکل الگ تھلگ بند کمرا دینے کی بجائے ایسی جگہ پڑھانے کا انتظام کریں کہ جہاں آپ کی نظر رہے۔اگر بچہ آپ سے کسی قریبی رشتے دار کے حوالے سے کسی قسم کے تحفظات کا اظہار کرے، تو اس کی بات پر توجہ دیں اور مذکورہ شخص کو اپنی آبزرویشن میں رکھیں۔ ہمارے معاشرے میں رشتےداریاں بچانے کے لیے عموماً ایسی باتوں کو گھروں ہی میں دفن کردیا جاتا ہے کہ کہیں رشتے نہ ٹوٹ جائیں، کوئی بدمزگی نہ ہوجائے، بدنامی نہ پھیلے وغیرہ وغیرہ۔مگر کیا آپ کا بچّہ اتنا بےمول ہے کہ اسے،اُس کی عزت نفس اور ذہنی صحت کو رشتے داری پر قربان کردیا جائے؟ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچیں کہ جو رشتے دار بچے کو ورغلا رہا ہے، کیا اُس نے اس رشتے داری کا بھرم رکھا؟بچوں کو اس بات کا یقین دلائیں کہ اگر خدانخواستہ اُن کے ساتھ کچھ غلط ہوا، تو آپ ہمیشہ اُن کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔انھیں اس قدر اعتماد دیں کہ وہ ہر چھوٹی، بڑی بات آپ سے بےجھجک شیئر کرسکیں۔بچّوں کو مہنگے سکولوں میں پڑھانا، برانڈڈ کپڑے پہنانا، ایک سے بڑھ کر ایک کھلونا خرید کردینا برا نہیں، مگر سب سے ضروری اور اہم انھیں اچھےاور برے لوگوں کی پہچان کروانا ہے۔ اس ضمن میں کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ بچّوں سے ایسی باتیں کرنے سے ان کے ذہن پختہ ہوجاتے ہیں اورچہروں سے معصومیت بھی ختم ہوجاتی ہے، تو ان کے لیے عرض ہے کہ یہ دور ،سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے اسمارٹ بچوں کے ایک ٹچ پر اچھی اور بری ہر طرح کی معلومات موجود ہیں، تو بجائے اس کے کہ ایسی باتیں، منفی اور بے باکانہ انداز میں ان تک پہنچیں اور وہ ان سے اپنی مرضی کے مطلب اخذ کریں، ان کی تربیت اس نہج پر کریں کہ بڑوں کی غیر موجودگی بھی انھیں راہِ راست سے بھٹکنے نہ دے۔ دین اسلام میں محرم، نا محرم کا تصور انتہائی واضح طور پر بیان کیاگیاہے، لہٰذا بچّوں میں اچھے اور برے افراد سے متعلق شعور بلوغت سے قبل بیدار کریں، تاکہ وہ کسی بھی قسم کےحادثے سے محفوظ رہ سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہراساں اور نظر انداز ہونے والے بچے، بڑے ہوکر کئی طرح کے مسائل کا شکار ہوجاتےہیں۔مثلاً وہ جانوروں اور دیگر افراد کے ساتھ پرتشدد رویّہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کی ضد اور غصّہ بڑھ جاتا ہے۔ان کی شخصیت متوازن نہیں رہتی اور جلد منفی سرگرمیوں کی جانب راغب ہوجاتے ہیں۔سو، اپنے آنگن کے پھولوں کی بھرپور حفاظت کریں۔اُن کے لیے پوری دنیا خُوبصورت نہ سہی، کم از کم ان کا گھر، اردگرد کا ماحول، تعلیم کی جگہ اور تفریح گاہوں کو ضرور محفوظ، خُوبصورت اور پُرسکون بنانے کی کوشش کریں۔
بچّوں کی اوّلین تربیت گاہ اُن کا گھر ہے، جہاں وہ اخلاق، اقدار، عادات اور ریت روایات سیکھتے ہیں۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ’’بچّے کی اصل شخصیت وہی ہوتی ہے، جو بچپن میں بن جاتی ہے اور پھر اُس کے اثرات تاعُمر رہتے ہیں۔‘‘ذیل میں والدین کے لیے چند ضروری نکات پیش کیے جارہے ہیں، جن پر عمل بچوں کی تربیت میں آپ کے لیے مثبت ہو سکتے ہیں۔
٭عموماً بچّہ جب کچھ بولنے کی کوشش کرتا ہے، تو اہل خانہ، خصوصاً والدین’’اللہ، اللہ‘‘ کہنا سکھاتے ہیں، پھر کلمہ طیبہ سکھایا جاتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کی تعمیر شروع ہوجاتی ہے،لیکن آج کل زیادہ تر والدین اپنی مصروفیات میں اس قدر مشغول رہتے ہیں کہ وہ قیمتی وقت، جو بچّے کی تربیت کے لیے وقف ہونا چاہیے، غیر ضروری سرگرمیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔تو ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر بچّوں کی بہترین شخصیت سازی کی تمنا ہے، تو سب سے پہلے تو والدین کو اپنے وقت اور خواہشات کی قربانی دینی ہوگی۔
٭بچوں کو زیادہ وقت تنہا نہ رہنے دیں۔دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر والدین بچّوں کو الگ کمرے میں کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولتیں دے کر ان سے غافل ہوجاتے ہیں،جو درست طرزِعمل نہیں۔ اپنے بچّوں پر غیر محسوس طور پر بھی نظر رکھیں، خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے مت بیٹھنے دیں کہ مکمل تنہائی میں منفی خیالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ بچّوں کے دوستوں، سہیلیوں پر نظر رکھیں، تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپ کے بچّوں کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے۔علاوہ ازیں، اُن کے دوستوں کو گھر پربھی مدعو کریں اور باتوں باتوں میں جانچنے، پرکھنے کی کوشش کریں کہ ان کی تربیت، طور اطوار کیسے ہیں۔
٭بچّوں کو فارغ نہ رہنے دیں۔بڑے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ’’ خالی دماغ، شیطان کا گھر ہے۔‘‘اور بچّوں کا ذہن تو ویسے بھی سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے، جو تحریر کرنا چاہیں، باآسانی کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان کی دِل چسپی دیکھتے ہوئے، انہیں کسی مثبت مشغلے میں مصروف رکھا جائے۔یاد رہے،’’ ٹی وی بینی‘‘ وقت گزاری کا بہترمشغلہ نہیں، بلکہ ذہن منتشر کرنے اور منفی خیالات پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، جب کہ ویڈیو گیمز تو بچّوں کو بے حِس اور متشدد تک بنا دیتے ہیں، لہٰذا انھیں ایسے کھیلوں کی طرف مائل کریں،جن میں جسمانی مشقّت زیادہ ہو،جو ان کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بہتر ہوں اور جنھیں کھیلنے کے بعد وہ خُوب تھک کے اچھی اور گہری نیند سوئیں۔
٭بچّوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں کہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتّب کرتی ہے۔

٭اپنے بچّوں کو اجنبی افراد سے گھلنے ملنے سے منع کریں۔اگر وہ کسی رشتے دار سے کتراتے ہیں یا کسی سے ضرورت سے زیادہ بےتکلف ہیں، تو غیر محسوس طور پر اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کریں۔
٭بچّوں کا5یا6سال کی عُمر سے بستر اور ممکن ہو، تو کمرا بھی الگ کر دیں،لیکن ان کے کمرے اور زیرِ استعمال اشیاء کو چیک ضرور کرتے رہیں۔آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ بچّوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بَھری ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دَور میں ہم سب پر ’’پرائیویسی‘‘نام کا ایک عفریت مسلّط کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی خرابیاں جنم لے رہی ہیں۔ یاد رکھیں، نوعُمر بچّوں کی نگرانی والدین کی اہم ذمّے داریوں میں سے ایک ہے۔
٭والدین کو ابتدا ہی سے اپنے ہرعمل سے بچّوں کو اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہیے۔
٭بلوغت سے قبل بچّوں کو جسمانی تبدیلیوں کے متعلق آگاہ کریں، تاکہ وہ باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ انحصار نہ کریں۔
٭بچّوں کو بستر پر تب جانے دیں، جب خُوب نیند آ رہی ہو اور جب وہ ایک بار سو کر اُٹھ جائیں، تو پھر بستر پر مزید مت لیٹے رہنے دیں۔
٭والدین، بچّوں کو ان کی غلطیوں پہ سرزنش کرتے ہوئے مہذّب الفاظ کا استعمال کریں، تاکہ بچّے بھی ادب و تہذیب کا پاس رکھیں۔
٭اپنے بچّوں کو ابتدا ہی سےکہنا ماننا سکھائیں۔ اکثر یہ سوچ کرکہ’’ ابھی تو بچّہ چھوٹا ہے، تھوڑا بڑا ہوگا،تو خود سیکھ جائے گا‘‘ ڈھیل دے دی جاتی ہے، مگر پھر جب وہ اپنے بڑوں کی باتیں نظرانداز کرنے لگتے ہیں، تو معاشرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے،حالاں کہ یہ تو والدین ہی کی بےجا آزادی کا نتیجہ ہے۔
یاد رکھیں، والدین بننے کے بعد آپ کی ذمہ داریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اللّہ تعالی نے آپ کو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمّے داری بھی عائد کی ہے، جس سے متعلق بازپرس بھی ہوگی،لہٰذا بچّوں کی تربیت کے معاملے میں ہرگز ہرگز کوئی کوتاہی نہ برتیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وبا کے ساتھ ہیٹ سٹروک بھی، بس احتیاط ضروری ہے