PARgenat

زچگی سے پہلے اور بعد میں ہونے والا ڈپریشن

EjazNews

ڈپریشن کی یہ قسم دراصل موڈ کی ایسی خرابی ہے جس کا تعلق ڈلیوری یعنی بچے کی پیدائش سے ہے ،اس مرض کی علامات ڈلیوری کے بعد ایک ہفتے سے لے کر ایک ماہ کے دوران سامنے آسکتی ہیں۔لیکن بعض اوقات اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ ڈلیوری سے پہلے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ مگر زچگی کے ڈپریشن کی تشخیص کے لیے علامات کا کم از کم دو ہفتے تک جاری رہنا ضروری ہے۔ ماں کے ڈپریشن کا بچے پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔زچگی کے ڈپریشن میں مندرجہ ذیل علامات دیکھی جا سکتی ہیں ۔
مریضہ مسلسل شدید اداسی کا شکار اور انجانے اندیشوں میں گھری رہتی ہے۔ اس کا موڈ مسلسل بدلتا ریتا ہے۔مایوسی ،چڑچڑاپن،بے چینی اور غصہ طاری رہتا ہے۔وہ نا امیدی اور بے بسی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔اپنے آپ کو بےکار ،مجرم اور شرمندہ سمجھتی ہے۔اس میں خود اعتمادی اور جسمانی قوت کی کمی ہو جاتی ہے۔بے حسی ،تھکن اور خالی پن کا احساس اس کے چہرے سے عیاں ہوتا ہے۔ بچے سے تعلق جوڑنے میں سرد مہری دیکھنے میں آتی ہے۔جس سے بچے کی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔کبھی کبھار ڈپریشن اس قدر شدید ہو سکتا ہے کہ ماں اپنے بچے کی جان لے لیتی ہے ۔زندگی کی رنگینیوں بلکہ معمول کی سرگرمیوں سے بھی لا تعلق رہتی ہے۔ازدواجی تعلقات سے بھی بے رغبتی دکھاتی ہے۔اس کے کھانے پینے کا پیٹرن بھی بدل جاتا ہے۔اپنا خیال بھی نہیں رکھ پاتی اور معاشرتی میل جول سے بھی گریز کرتی ہے۔اسی طرح یا تو نیند بلکل نہیں آتی یا ہر وقت سوتی ہی رہتی ہے مریضہ کی قوت فیصلہ شدید متاثر ہو جاتی ہے،یاداشت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ کہیں خود کو،بچے کو یا گھر والوں کو نقصان نہ پہنچا دے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بلا وجہ چیخنے چلانے لگتی ہے۔
زچگی کے ڈپریشن کی وجو ہات کے بارے میں مکمل معلومات تو حاصل نہیں ہیں لیکن کچھ فیکٹرز کو اس کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے مثلا زچگی کے دوران ہونے والی ہارمونز کی تبدیلیاں ،جنیاتی عوامل ، ارد گرد کا ماحول اور نیند کے دورانئے میں کمی کردار ادا کرتے ہیں۔بعض اوقات اسقاط حمل بھی ڈپریشن کی وجہ بن سکتا ہے۔
جہاں تک رسک فیکٹرز کا تعلق ہے تو ان میں مندرجہ ذیل عوامل کو شامل کیا جا سکتا ہے۔اگر عورت پریگنینسی سے قبل ڈپریشن یا ینگزئٹی یا کسی نفسیاتی بیماری کا شکار رہی ہویا اس سے قبل بھی وہ زچگی کے ڈپریشن کا شکار رہ چکی ہو یا پریگننسی کے دوران کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو یا ڈلیوری کے دوران کوئی جسمانی تکلیف ہونے کا سابقہ تجربہ ہو۔اگر خاتون کے خاندان میں ڈپریشن کا مرض پایا جاتا ہو۔اگر مریضہ کو ایامہ مخصوصہ سے پہلے اور دوران شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔سگریٹ نوشی کی عادی خواتین یا ان کی مالی حالت بہت خراب ہو تو بھی اس مرض کا شکار ہو سکتی ہیں۔ بائی پولر ڈس آرڈر کی حامل خواتین وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ اگر کسی کا خاوند مر جائے اور اس کے معاشی حالات پہلے ہی خراب ہوں تو ایسی خاتون بھی ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہے ۔ خواتین کے خلاف ہونے والا تشدد بھی اس مرض کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اس مرض کی تشخیص کیلئے مریض کی علامات پر انحصار کرنا پڑتا ہے ،ایک بات یاد رکھیں کہ پریگننسی کے ڈپریشن اور عام ڈپریشن کی علامات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس مرض کی تشخیص کے لئے مندرجہ ذیل علامات میں سے کم از کم پانچ علامات کا پایا جانا ضروری ہے۔
۱۔روزانہ دن کے بڑے حصے کے دوران مایوسی،ناامیدی اور ذہنی پریشانی کا شکار رہنا
۲۔ روزمرہ زندگی کے معمولات اور خوشیوں سے بیزاری
۳۔بھوک کم لگنا اور دن بدن وزن کا کم ہونا
۴۔نیند کے معمولات میں تبدیلیاں رونما ہونا
۵۔مسلسل بے چینی اور پریشانی کا اظہار
۶۔جسم مین طاقت محسوس نہ ہونا
۷۔اپنے آپ کو بے کار یا مجرم سمجھنا
۸۔ کسی مسئلے پر توجہ مرکوز نہ کر سکنا اور فیصلے کی قوت نہ ہونا
۹بار بار موت کے خیالات کا آنا اور خود کشی پر آمادہ رہنا

علاج
اگر خاتون پر ہلکا یا درمیانے درجے کا ڈپریشن کا حملہ ہو تو اس کے لیے کسی ماہر نفسیات کی مدد لی جا سکتی ہے جس کے ساتھ ہلکی سی ڈپریشن کی دوا بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔لیکن اگر حملہ شدید ہو تو ماہر نفسیات کے ساتھ کسی ماہر سایکیٹرسٹ کی مدد بھی ضروری ہے۔یہ دونوں ماہرین مل کر فیصلہ کریں گے کہ مریضہ کا علاج کس طرح کرنا ہےاور کون سی ادویات استعمال کرنی ہیں۔کچھ سٹڈیز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مرض میں ہارمون بھی مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک بات ذہن نشین رہے کہ اینٹی ڈیپریشن ادویات ماں کے دودھ میں خارج ہوتی ہیں اور ابھی تک دودھ پینے والے بچوں پر ان کے اثرات کا مطالعہ نہیں کیا گیا ۔اس لیے دودھ پلانے والی ماؤں میں احتیاط ضروری ہے۔
اگر کسی علاج سے فرق نہیں پڑ رہا تو بجلی کے جھٹکوں سے بھی علاج کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ آکو پنکچر،مساج،تیز روشنیوں،ورزش اور اومیگا ۳ فیٹی ایسڈ بھی مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس مرض سے بچاؤکے لیے سب سے ضروری ہے کہ مان بننے والی خاتون کا شوہر اور دوسرے قریبی رشتے دار زچہ کا بھرپور خیال رکھیں اور اس کی دلجوئی کرتے رہیں،دیکھا گیا ہے کہ اس مرض سے بچاؤ میں بہتر خوراک اور ورزش بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر نسرین صدیق

یہ بھی پڑھیں:  زچگی کی اموات وجوہات اور اسباب