کیلاش

غاروں میں پیدا ہونے والے بچے

EjazNews

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں آج بھی ایک قبیلہ ایسا موجود ہے جہا ں پر بچے اپنے گھروں میں پیدا نہیں ہوتے۔ چترال میں رہنے والا یہ قبیلہ کیلاشی کہلاتا ہے۔ اس نسل کے لوگ دنیا میں تقریباً ناپید ہوچکے ہیں ۔روایات کے مطابق اس قبیلے کا تعلق سکندر اعظم سے جوڑا جاتا ہے اور ان کی زبان بھی وہی ہے۔ آج یہ زبان دنیا میں ناپید ہوتی جارہی ہے۔اسی قبیلے میں ایک رسم آج بھی موجود ہے جس کے مطابق جب عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو اسے گھر سے دور ایک عمارت(موجودہ دور میں عمارت) میں بھیج دیا جاتا ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد اپنے گھر میں آتی ہیں ۔ 1960ء کی دہائی سے پہلے تک یہ غار نما کمروں میں رہتے تھے۔ اب مختلف این جی اوز نے وہاں پر بہتر عمارت بنا دی ہے جس میں خواتین رہائش اختیار کرتی ہیں۔ اس جگہ کو بشالینی کہا جاتا ہے۔ بشالینی کے متعلق مقامی خواتین کہتی ہیں یہاں پر آنے والی عورتوں سے ان کے خاوند نفرت نہیں کرتے بلکہ یہ ہماری ایک رسم ہے جس پر عملدرآمد ہم صدیوں سے کرتے آرہے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جو کیلاشی خاتون اس پر عمل نہیں کرتی اس پر قہر نازل ہوتا ہے، اس کے گھر سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ اور اس کے جانور مر جاتے ہیں۔ موجودہ بشالینی میں ایک وقت میں ایک سے زائد خواتین رہتی ہیں ۔آپ سوچ رہے ہوں گے وہ کھانا وہاں پر پکاتی ہوں گی ۔ تو جان لیجئے ایسا نہیں ہے ان کا کھانا اور تمام ضروریات کی چیزیں ان کے گھر سے ہی آتی ہیں۔ بس وہ اس عرصے میں اپنے گھر میں نہیں رہتیں۔

کیلاشی خاتون اپنے بچے کے ہمراہ
یہ بھی پڑھیں:  پولینڈ کے آرٹسٹوں کا ہم وطنوں کو کرسمس پر منفرد تحفہ