imran khan

وزیراعظم کا غربت کے خاتمے کیلئے پروگرام کا آغاز

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے غربت کے خاتمے کے لیے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ یورپ میں جائیں تو آپ دیکھیں گے انہوں مدینہ کی ریاست کو اپنایا وہ آگے نکل گئے۔ آج ہم ان اصولوں کے بالکل مختلف ہو گئے ہیں۔ 43فیصد پاکستانی بچوں پورے قد اور پورے دماغ کے حامل نہیں ہوتے۔ جو ایک ریاست کو ذمہ داری لینا چاہیے۔ جو ہمارے ملک کے قائدین نے واضح کیا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے گی۔ آج دیکھ لیں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ دنیا میں ہم ایک مثال تھے اصل میں اسلام کیا ہے ہم نے دنیا کو بتانا تھا۔ اور آج ہم اس راستے پر جانے کی پہلی صحیح کوشش کر رہے ہیں۔ انسانیت کی مدد کا راستہ اللہ کا راستہ ہوتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہوتا ہے جب مسلمان پانچ وقت کی نما ز میں صرف ایک بات مانگتا ہے اللہ مجھے اس راستے پر لگا جس پر تو نے ہمیں نعمتیں بخشیں ہم مانگتے بھی اللہ سے وہ راستہ ہے۔ ہم نے کامیاب ہونا ہے یا نہیں ہونا یہ اللہ کے ہاتھ میں ، ہم نے کوشش کرنی ہے۔ جب میری والدہ بیمار تھی تو ایک بوڑھا شخص بیمار تھا، اس کے ساتھ والا سارا دن مزدوری کرتا تھا اپنے عزیز کی دوائیاں لینے کیلئے ۔ میں سوچتا تھا جب ہم صاحب حیثیت ہو کر اتنے پریشان ہیں تو پھر اس شخص پر کیا گزرتی ہو گی۔ پھر میں نے سوچا کہ ہمارے ملک میں بھی ایک ہسپتال ہونا چاہیے اگر کسی کے پاس پیسے نہ بھی ہوں تو اس کا وہاں علاج ہونا چاہیے۔ کینسر کا اب علاج ممکن ہے ، جب میری والدہ کو کینسر تھی تب تو یہ حالات تھے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اب تباہ ہو گئے ہیں یہ گیا۔ میں نے جب ہسپتال بنانا شروع کیا تو تین سال تک تو مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔یہ کیسے ہوگا۔لوگ کہتے تھے پاکستان میں کینسر ہسپتال بن ہی نہیں سکتا ، پھر غریبوں کا علاج تو مفت ہو ہی نہیں سکتا۔ میں تین چار سال پھرتا رہا امریکہ میں لوگوں سے مشورے کرتا رہا۔ جب ہم نے 70کروڑ کا پراجیکٹ شروع کیا تو ہمارے بینک اکائونٹ میں 1کروڑ روپیہ تھا اور کام ایک دن نہیں رکا۔ جو ہسپتال ہم نے بنایا تھا اس کا سالانہ خسارہ 6ارب روپیہ ہے 6سو کروڑ روپیہ۔ اور یہ سوچیں یہی پاکستانی قوم ہر سال پچھلے سال سے ز یادہ پیسہ دے دیتی ہے۔ تو میں اگر اپنا لاجک استعمال کرتا تو میں کبھی بناتا ہی نہ مجھے کہاں پتہ تھا ہر سال مجھے 6سو کروڑ روپے اکٹھا کرنا پڑے گا جب آپ اللہ کے لیے کام کرتے ہیں تو آپ راستے پر کوشش کرتے ہیں میں بار بار چائنہ کی مثال دیتا ہوں۔ 30سال پہلے چائنہ کا کیا حال تھا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ کوئی ملک 30سال میں 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال دے گا اور دنیا میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ آج جو فیصلہ ہم کر رہے ہیں انہوں نے بھی یہی کیا ۔ انہوں نے فیصلہ کیا جو بھی ان کی پالیسی تھی تو انہوں نے ہر پالیسی کے اندر فیصلہ کیا ہمارا جو بھی پیسہ بنے گا وہ غربت کے خاتمے کے لیے استعمال ہوگا اور آئندہ کچھ سالوں میں باقی لوگ بھی وہ غربت سے نکال لیں گے۔ میں اسی لیے کہتا ہوں کہ قوم جب ارادہ کر لیتی ہے جب انسان نیت کرلیتا ہے تو قوم نکل جاتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ انشاء اللہ جب ہم پاکستان کے لوگوں کو غربت سے نکال لیں گے۔ سب سے پہلے 38-D یہ کہتا ہے کہ ہم نے پاکستان کے اندر لوگوں کو کھانا، روٹی ، کپڑا اور مکان دینا ہے اور ان کا خیال رکھنا ہے ہم نے کانسٹی ٹیوشن میں تبدیلی کے ذریعے فنڈا مینٹل رائٹ دینا ہے کہ حکومت یہ کرے۔حکومت سارا پریشر اپنے اوپر لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقے کی دیکھ بھال کو قبول کریں:وزیراعظم

لوکل سسٹم لے کر آرہے ہیں اس سے غربت میں تیزی سے کمی آتی ہے۔دیہات میں موجود خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہیں تو حکومت مدد کرے گی۔ کوشش اور نیت انسان کی کامیابی اللہ دیتا ہے۔پاکستان کا حلال گوشت کے کاروبار میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم خواتین کی تعلیم اور صحت کے معاملے میں دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ غریبوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے مائیکرو فنانس اداروں سے مدد فراہم کرینگے۔تکنیکی تربیت دینے سے خواتین گھروں میں بیٹھ کر کام کر سکیں گی۔غریبوں کو روزگار دینے کیلئے ٹھیلے اور چھابڑیاں بنا کر دیں گے۔ غربت کے خاتمے کے پروگرام کیلئے 25ارب روپے مختص کیے ہیں۔کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا جس ملک میں خواتین کو تعلیم نہ دی جائے۔سکولوں میں آٹھویں جماعتک ے بچوں کو سکل ایجوکیشن دی جائے گی۔بوڑھے لوگوں کیلئے 5احساس گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ٹیکنیکل ایجوکیشن پر کام کر رہے ہیں،خواتین کو اگر آئی ٹی کی تربیت دی جائیں تو وہ بھی گھر بیٹھ کر کام کر سکتیں ہیں۔ای او بی آئی کی پنشن میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پسماندہ علاقوں کے طلباء کو نجی شعبوں میں تعلیم کے حصول کیلئے قرضے دینگے۔بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کشوں کے تعاون کیلئے ویلفیئر اتاشی تعینات کیے جائیں گے۔مزدوں کے تحفظ کیلئے قوانین پر سختی سے عمل کرائیں گے۔بیرون ملک کام کرنیوالے محنت کش کیلئے سپیشل ویلفیئر ٹکٹ دینگے تاکہ وہ اپنے گھر والوں سے آکر مل سکیں گے۔600کروڑ روپے روزانہ کی بنیاد پر ہم پرانے قرضے کے سود کی مد میں دے رہے ہیں۔بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کش لوگوں کیلئے سہولتیں فراہم کریں گے۔کوشش ہے چھوٹے کسانوں کی مدد کی جائے۔ مزدوروں اور کسانوں کوآسان شرائط پر قرضے دینگے تاکہ وہ اپنا گھر بنا سکیں۔ا حساس پروگرام کے تحت بزرگ شہریوں کیلئے گھر بنائیں گے۔ دیہات میں غربت کے خاتمے کے لیے مرغیاں اور بکریاں دیں گے۔اور اس کے ساتھ ساتھ بیج بھی دیں گے جس سے وہ اپنے ہاں سبزیاں اگا کر اپنی خوراک بائیں اور لوگوں کو بیچ بھی سکیں۔یہ بیج یوٹیلٹی سٹورز پر بھی ملیں گے۔ اس تحفظ پروگرام کے تحت خواجہ سرائوں کی بھی مدد کریں گے۔اگلے4 سال میں بیت المال 10لاکھ سویٹ ہوم جیسے گھر بنائے گی۔کیمیکل ملا دودھ مل رہا ہے اور ایک سرے میں تو پتہ چلا کہ اس شہر کے لوگ صرف کیمیکل والی کوئی چیز پی رہی ہے۔ حکومت سب سے پہلے لاہور اور اسلام آباد میں اس کا تدارک کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد میں ان ڈور تقریبات پر مکمل پابندی عائد