walk

نیند میں سونا۔پریشان نہ ہوں

EjazNews

کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ سوئے کہیں ہوں مگرآپ کی ننید سے آنکھ کھلے تو آپ کسی اور جگہ پر ہوں اور آپ کو یہ گمان بھی نہ ہو کہ آپ یہاں کیسے پہنچے؟۔نیند میں چلنے کی عادت غیر معمولی نہیں ہے اور خاص طور پر بچوں میں۔دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ زندگی میں کبھی نہ کبھی نیند میں ضرور چلتا ہوگا۔ بیشتر بالغ افراد کی نیند میں چلنے کی عادت ختم ہو جاتی ہے مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو نیند میں کھانا بھی پکا سکتے ہیں۔اور بعض اسی حالت میں گاڑی بھی چلا لیتے ہیں۔عمومی طور پر نیند میں چلنے والے افراد رات کے پچھلے پہر میں چلتے ہیں۔لیکن آپ بغیر ڈرے ایسے افراد کو جگا سکتے ہیں۔فوری طور پر شاید وہ آپ کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیں لیکن کچھ دیر بعد وہ مکمل ہوش میں آکر آپ کو پہچان لیں گے۔اس کح پس منظر میں ڈاکٹر نیل سٹینلی لکھتے ہیں کہ رات کو نیند کے دو مراحل ہوتے۔ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت برقرار رکھنے کیلئے اپنا وزن کم کیجئے

پہلا ریم۔ اس مرحلے میں نیند میں خواب بینی اور خاص طور پر اس دوران آپ کے پٹھے مفلوج ہو سکتے ہیں۔اور دوسرا مرحلہ نام ریم لا ہوتا ہے۔جس میں نیند زیادہ گہری ہوتی ہے۔زیادہ تر لوگ اس گہری نیند کے مرحلے میں ہی چلے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس دوران دماغ سونے اوع جاگنے کے درمیان ہوتا ہے۔کوئی چیز دماغ کے حصے کو متحرک کرتی ہے جو جسم کی حرکت سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن دماغ کا شعوری حصہ غیر متحرک ہی رہتا ہے۔اس وجہ سے کچھ افراد نیند میں چلتے ہیں۔نیند میں چلنا صرف جینیاتی عمل نہیں یہ کوئی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔

اگر اس میں مبتلا افراد ہر رات سونے کا ایک وقت مقرر کر لیں۔اپنے کمرے میں خاموشی اور تاریکی کا ماحول بنا لیں اور کیفین سے اجتناب کریں تو وہ اس سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت