child

چھوٹے بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟

EjazNews

کچھ بچے دو سال اور کچھ اس سے ذرا کچھ بڑھ کر باتیں کرناسیکھ لیتے ہیں اور کسے اچھا نہیں لگتا کہ ان کی معصوم باتیں سنے اور ا ن کے ناز نخرے اٹھائے۔لیکن ان سے کوئی بات منوانا ایسے ہی ہے جیسے آپ ساتویں منزل پر جانا ہو اور لفٹ بند ہو گئی ہے جو صورتحال آپ کی لفٹ کے وقت ہوتی ہے ایسی ہی صورتحال مائو ں کی چھوٹے بچوں کے ساتھ ہوتی ہے ، جن کو نہ کھانے کی فکر ہوتی ہے، نہ سونے کی پرواہ ہوتی بس اپنی موج مستی میں کچھ بھی منہ میں ڈال لیتے ہیں اور بے پرواہی میں کسی بھی چیز کو پکڑ لیتے چاہے اس سے ان کا ہاتھ کیوں نہ جل جائے۔ ان معصوموں کے مطالبات کی فہرست بہت لمبی ہوتی ہے اور وہ خود بھی ان پر واضح نہیں ہوتے اور ان میں کچھ ناممکن بھی ہوتے ہیں۔
جب آپ اپنے ننھے منھے بچے سے پوچھتے ہیں اسے کیا چاہیے تو اس کے دماغ میں پتہ نہیں کیا کیا چل رہا ہوتا ہے اور یہی مائوں کے امتحان کا وقت ہوتا ہے اور خاص کر جن کے دو تین سے زائد چھوٹے بچے ہوں ان کے لیے تو زیادہ امتحان ہوتا ہے ۔اور پھر جب وہ ہکلاتے ہلکاتے آپ کو اشارے سا بول کے کچھ بتاتا ہے مجھے یہ کام کرنا ہے، مجھے وہ چیز چاہیے ،مجھے فلاں چیز چاہیے اور وہ ایک وقت میں ہی 40چیزیں بتا دیتا ہے۔ اس چھوٹے بچے کی ہر درخواست کسی طاقتور مافیا سے کم نہیں ہوتی اس کے آگے سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ آپ ان کی من مانی پور ی بھی کر دیں پھر بھی ان کا احتجاج جاری رہتا ہے۔
کھانے کے وقت وہ بری طرح مچلنا شروع کر دیتے ہیں کئی طرح کے کھانے سامنے ہوتے ہیں مگر ان کا من کسی چیز کو نہیں چاہتا۔ لیکن ان سب کھانوں کو خراب کرنے میں ان کو بہت مزہ آتا ہے ۔یا پھر ان سب کھانوں کو دیکھ کر وہ کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں گے جو دستر خواں پر موجود ہی نہیں۔ ایک نیا مطالبہ پیش کر دیں گے کہ انہیں تو فلاں چیز کھانی ہے ،چاہے وہ جنت میں ہی ملتی ہو ،اگر آپ انہیں ان کی مرضی کے برخلاف ایک زبردست سینڈوچ بنا کر دے دیں تو وہ خاموشی سے آپ کی طرف دیکھیں گے تھوڑا سا منہ بنائیں گے اور ایسے تاثرات دیں گے کہ یہ کیا بنادیا، وہ ناک منہ چڑھائیں گے ۔ آپ جو مرضی وضاحت کردیں وہ سننے کو تیار نہیں ہوں گے آپ صرف اتنا ہی کہہ سکیں گے بیٹا یہ تو وہی چیز ہے جو آپ نے مانگی تھی۔جب آپ دیکھیں گے کہ بچوں کے ساتھ بات چیت کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے تو وہ ایک دم اپنے مطالبات بدل لیں گے ۔ ننھے بچوں کو آپ جتنا مرضی گلے لگائیں جتنا مرضی پیار کریں ایک وقت وہ اچانک غصے ہو جائیں گے اور چیخنا چلانا شروع کر دیں گے۔ سیکنڈوں میں وہ کئی مطالبات آپ کے سامنے رکھ دیں گے اور آپ ان کی بات مان بھی لیں گے وہ تب بھی ناراض رہیں گے۔
اس لیے آپ پریشان نہ ہوں یہ آپ کے امتحان کے اور ان کی تربیت کے دن ہوتے ہیںان کی تربیت کریں۔ اس کے لیے کچھ معلومات ہم آپ کو دیتے ہیں
بچوں کو ڈسپلن کا عادی بنائیں
آپ اپنے بچوں کو ڈسلپن کا عادی بنانا چاہتے ہیں اور آپ نے ان کے پڑھنے، کھیلنے ، ی وی دیکھنے اور سونے کا وقت مقرر کیا ہوا ہے؟ تو پھر آپ کے لیے ایک خوشخبری ہے اس سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ بچوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا والدین اور بچوں کے درمیان تعلق پر منفی اثر ڈالتا ہے تاہم اب نئی تحقیق نے اس بات کی نفی کر دی ہے۔ یونیورسٹی آف سڈنی میں حال ہی ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بچوں کو ڈسپلن کا عادی بنانا اور ان کی ہر سرگرمی کا وقت مقرر کرنا ان کے جسمانی و دماغی صحت کے لیے فائدہ مندہ ہے۔
بچوں کو کچھ کرنے کا موقع دیں
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بہترین بچوں کی صف میں شامل ہوں سائنسی سوچ کے حامل ہوں اور ان میں جدید ترین تخلیقات کی صلاحیت موجود ہو تو اس کے لیے آپ کو اپنے اندر ہمت پیدا کرنا ہوگی سائنس دانوں کے مطابق والدین ایک مخصوص حکمت عملی کے ذریعے اپنے بچوں میں سائنسی اور تخلیقی قوت بیدار کر سکتے ہیں لیکن یہ ذرا مشکل کام ہے اس کے لیے آپ کو کچھ وقت بچوں کو تنہائی میں مہیا کرنا ہوگا تاکہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کسی چیز کو توڑ کر جوڑنا سیکھ سکیں اور یہ کوشش اور ہمت ان کو کامیابی کے راستہ پر لے جائے گی۔ بہت سے والدین میں یہ ہمت نہیں ہوتی وہ بچوں کو کچھ خراب کر کے کچھ ٹھیک کرنے کی صلاحیت بیدار نہیں ہونے دیتے۔
بچوں کو حوصلہ دیں
بعض اوقات بچے ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن سے مائوں کو بہت غصہ آتا ہے۔ مثال کے طور پر استری کو بے خیال میں پکڑ لیتے ہیں جس سے ان کا ہاتھ جل جاتا ہے، کسی چیز کو توڑ دیتے ہیں، میٹرس پر بے جا اچھل کود کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ کو سمجھائیں پیار سے ، تسلی سے ایسی چیزوں کے بارے میں جو ان کیلئے نقصان د ہ ہیں آپ کی تربیت ان کی آنے والی زندگی میں بھی بہت فائدہ مند ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو مشکلات کے حل کی عجیب تجویز