ذیابیطس کیا ہے؟

EjazNews

ذیابیطس ایک دائمی مرض ہے، جس میں لبلبے میں پیدا ہونے والے ہارمون انسولین کی کمی کی وجہ سے بلڈ شوگر لیول بڑھ جاتا ہے جو ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر جیسے دیگر امراض کو بھی جنم دیتا ہے۔ شوگر کے مریضوں میں دل کے دورے اور ذہنی امراض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انسولین کی کمی دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ لبلبے سے انسولین کی پیداوار ہی کم یا ختم ہو جاتی ہےیا لبلے سے انسولین تو پیدا ہوتی رہتی ہے، لیکن کسی وجہ سے اسکا اثر کم ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو انسولین کی بے اثری کہا جاتا ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ شوگریا گلوکوز ہمارے خون کا انتہائی لازمی اور مستقل جزو ہے۔ہماری خوراک میں جتنی بھی نشاستہ دار غذائیں شامل ہوتی ہیں۔ وہ ہماری آنتوں میں جا کرگلوکوز میں تبدیل ہو کر خون میں شامل ہو جا تی ہیں۔ ہمارا جسم اسی گلوکوز سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ لیکن ایک نارمل انسان کے خون میں گلوکوز کی مقدار قدرت کی طے کی ہوئی حدوں کے اندر ہی رہتی ہے، جبکہ ذیابیطس کی حالت میں گلوکوز کی مقدار نارمل حد سے بڑھ جاتی ہے۔
علاما ت
ذیابیطس میں مندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں، لیکن ذیابیطس کی حتمی تشخیص کیلئے خون میںگلوکوز کی مقدار چیک کرنا لازمی ہے۔بار بار پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ گردوں کو پیشاب میں موجود شوگر کی زیادہ مقدار کو خارج کرنے کیلئے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر رات کو بار بار پیشاب کرنا اہم علامت ہے۔بہت زیادہ پیشاب کرنے کے نتیجے میں پیاس زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔اورعام معمول سے کہیں زیادہ پیاس لگتی ہے۔ کیونکہ زیادہ پیشاب آنے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ذیابیطس کے مریضوں کو ذیادہ بھوک لگنے لگتی ہےاور ان میں کاربوہائیڈیٹ سے بھرپور غذا کی خواہش پیدا ہونےلگتی ہے۔ جب آپ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا استعمال کرتے ہیں تو مریض کے جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جبکہ گلوکوز کی سطح فوری طور پر گرجاتی ہے جس کے نتیجے میں کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ کے اندرمیٹھی غذا کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے اور یہ چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔پیشاب میں شکر کی زیادہ مقدار بیکٹریا کی افزائش کا باعث بنتی ہے جس سے مثانے کی انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بار بار انفیکشن کا سامنے آنا خطرے کی علامت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم میں قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، جس کی وجہ سے آپ بار بار انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں ذیابیطس کا ٹیسٹ لازمی کرالینا چاہئے ۔

خوراک میں پرہیز،وزن کو کنٹرول، ورزش، اور باقاعدگی سے شوگر چیک کرنا ہو گاـ ہر تین ماہ بعد اپنے خون میں HBa1c چیک کروائیں

وزن میں کمی آنا بھی اس مرض کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ جسمانی وزن میں کمی دو وجوہات کی بناءپر ہوتی ہے، ایک تو جسم میں پانی کی کمی ہونا (پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے) اور دوسری خون میں موجود شوگر میں پائے جانے والی کیلیوریز کا جسم میں جذب نہ ہونا۔ جسم چربی اور پٹھوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتاہے، تا کہ تونائی فراہم ہو سکے۔ لوگ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے مگر یہ اچھا ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بلڈ شوگر کا لیول زیادہ متوازن ہے۔تھکاوٹ تو ہر شخص کو ہی ہوتی ہے مگر ہر وقت اس کا طاری رہنا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے ۔ تھکاوٹ کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جسم کو تونائی فراہم کرنے کا اولین ذریعہ گلوکوز ہے،جس میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
اگر دھندلا نظر آنا شروع ہوجائے، تو یہ بھی شوگر کی ایک علامت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر شوگر کو کنٹرول نہ کیا جائےتوآنکھوں میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں عارضی طور پر لینز کی ساخت بدل جاتی ہے۔ جب مریض کا بلڈ شوگر لیول مستحکم ہوجاتا ہے تو دھندلا نظر آنا ختم ہوجاتا ہے کیونکہ آنکھیں جسمانی حالت سے مطابقت پیدا کرلیتی ہیں ۔جب بلڈگلوکوز ہائی ہوتا ہے تو ایسی صورت میں مریض کے اندر چڑچڑے پن یا اچانک میں غصے میں آجانے کا امکان ہوتا ہے۔ درحقیقت ہائی بلڈ گلوکوز ڈپریشن جیسی علامات کو ظاہر کرتا ہے، یعنی تھکاوٹ، ارگرد کچھ بھی اچھا نہ لگنا، باہر نکلنے سے گریز اور ہر وقت سوتے رہنے کی خواہش وغیرہ۔جبکہ بلڈگلوکوزلیول نارمل ہونے پر مریض کا موڈ خودبخود نارمل ہوجاتا ہے۔جسمانی دفاعی نظام بلڈ شوگر لیول بڑھنے کی صورت میں موثر طریقے سے کام نہیں کرپاتا جس کی وجہ سے زخم اور خراشیں معمول سے زیادہ عرصے میں مندمل ہوتے ہیں اور یہ بھی ذیابیطس کی ایک بڑی علامت ہے۔بلڈ شوگر میں اضافہ سےاعصابی نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس کی وجہ سے آپ کے پیروں کو جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا احساس معمول سے زیادہ ہونے لگتا ہے کہ جو کہ خطرے کی علامت ہے۔
وہ شریانیں جو انسانی جسم کو خون فراہم کرتی ہیں زیادہ شکر سے ناکارہ ہوجاتی ہیں ۔ دوسرےکولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے سبب ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے جس سے دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ذیابطیس میں قبض کی شکایت بھی پیدا ہوجاتی ہے اور مریض پٹھوں کے درد کا شکار ہو جاتا ہے۔خون میں شوگر کی زیادہ مقداراعصاب کوبھی نقصان پہنچاتی ہے۔فالج کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ذیابیطس کئی قسم کی ہوتی ہے۔ لیکن اسکی تمام قسموں میں ایک بات مشترک ہے کہ تمام اقسام میں خون میں شوگر نارمل سے ذیادہ ہوتی ہے۔پا کستا ن میں ہر دسواں فرد ذیابطیس کا مریض ہے ۔آنے والے چند سالوں میں اس کی تعداد دوگنی ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ذیابیطس کی اقسام میں سے مندرجہ ذیل اہم اورزیادہ عام ہیں۔

تھکاوٹ تو ہر شخص کو ہی ہوتی ہے مگر ہر وقت اس کا طاری رہنا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے

ذیابیطس قسم اول (Diabetes Type-1)
اسے بچپن یا کم عمری کی شوگربھی کہا جاتا ہے ۔اس میں یا تو انسولین کی قدرتی پیداوار انتہا ئی کم ہوجاتی ہے یابعض اوقات سرے سے ختم ہی ہو جاتی ہےـ اور یہ کمی اتنی تیزی سے پیدا ہوتی ہے، کہ دنوں اور ہفتوں میں ہی مریض شدید بیمارہو جاتا ہے۔ اس میں بیماری کی علامات بہت شدید ہوتی ہیں ۔ ذیابیطس کی اس قسم کا علاج روز اول سے ہی انسولین کے ٹیکوں سے کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس قسم اول کے مریض بہت ہی کم ہیں ۔ ذیابیطس قسم اول قدرے زیادہ شدید مرض ہے اور اس میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان اور رفتار دونوں ہی زیادہ ہوتی ہیں، دنیا میں کروڑوں انسان اس مرض سے متاثر ہیں جن میں سے بے شمار لوگوں نے کامیابی سے ذیابطیس پر قابو پایا ہےـ
ذیابیطس قسم دوم (Diabetes type 11)
یہ ذیابیطس کی سب سے زیادہ عام قسم ہے۔ ذیابیطس والے افرادمیں سے 95 فیصد لوگ ذیابیطس کی اسی قسم سے متاثر ہیں۔ ذیابیطس قسم دوم زیادہ تر بالغ افراد کو ہوتی ہے ۔لیکن ذیابیطس قسم دوم عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے۔ذیابیطس کی اس قسم کی بنیادی وجہ انسولین کا بے اثر ہو جانا ہے۔ یعنی لبلبہ جو انسولین پیدا کرتا ہے، وہ اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہتی ہے۔انسولین کی اس بے اثری پر قابو پانے کیلئے لبلبہ مزید انسولین پیدا کرتا ہے، اور اسی طرح اپنی استعداد سے زیادہ کام کرتے کرتے لبلبہ تھک جاتا ہے، انسولین کی بے اثری کے ساتھ انسولین کی کمی بھی واقع ہونے لگتی ہے۔ اور خون میں شوگر بڑھنے لگتی ہے۔

اگر آپ کو ذیابیطس قسم دوم ہے تو اپنے جسم کا خیال رکھیں تاکہ آپ پیچیدگیوں سے بچے رہیں ـ اگر آپ اپنے پیروں ، اپنی آنکھوں، اپنی جلد، اور اپنے دانتوں کاخیال رکھیں گے، دل اور گردے کی پیچیدگیوں سے بچنے کےلئے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں گے، تو ان پیچیدگیوں سے بچاؤ میں یقیناً كامیاب ہو سکتے ہیں ـ۔اگر آپ سگریٹ پیتے ہیں تو اس عادت کو ترک کردیں ـ جو لوگ شراب نوشی کے عادی ہیں وہ اسے ترک کر دیں ۔ٹائپ ون اور ٹائپ تو ڈائیبٹیز کی علامات عمومی طور پر ویسے تو ایک جیسی ہوتی ہیں۔ لیکن ٹائپ ون کی علامات تھوڑا اچانک آتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک بچے میں فلو جیسی علامات نظر آسکتی ہیں، اور جب یہ علامت کچھ عرصے تک نہیں جاتی تو والدین بچے کو ڈاکٹر کے پاس لیکر جاتے ہیں، جہاں جا کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو تو شوگر کی ٹائپ ون ہو گئی ہے۔ کئی بار والدین بچے کو اس لئے بھی ڈاکٹر کے پاس لیجاتے ہیں، کیونکہ وہ بہت ہی سستی کا مظاہرہ کرتا ہے، اور پھر ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹر بتاتا ہے کہ بچے کو تو شوگر ہو گئی ہے۔
ٹائپ ٹو ڈائییٹیز میں علامات کئی سال تک چلتی رہتی ہیں، اور جب بگڑ جاتی ہیں، تو تب جا کر پتہ چلتا ہے کہ شوگر ہوگئی۔ کیونکہ یہ آہستہ آہستہ جڑ پکڑتی ہیں۔ اور ادھیڑپن اور ڈایابیٹیز کی علامت میں مماثلت ہوتی ہے۔ جب انسان پر بڑھاپا آتا ہے تو اُس کی جلد خشک ہونا شروع ہوتی ہے، اور بار بار باتھ روم جانا پڑتا ہے۔ یہی علامات شوگر میں بھی ہوتی ہیں۔ کچھ مریض تھکاوٹ یا بار بار باتھ روم جانے کی اِن علامات کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی صحت کو کوئی مسئلہ درپیش ہے۔اگر آپ میں ایسی کوئی بھی علامت پیدا ہو، تو آپ فوراً کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ ویسے تو ٹائپ ٹو ڈائیباٹیز کسی کو بھی ہو سکتی ہے، لیکن اگر آپ کا وزن زیادہ ہے، کولیسٹرول زیادہ ہے یا بلڈ پریشر ہے، یا سگریٹ نوشی کے عادی ہیں، یا آپکے خاندان میں شوگر ہے، تو پھر آپکو اس مرض کے لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہے ۔
وقت پر اپنے ٹیسٹ کروائیں اور کوشش کریں جسم میں شکر کا تناسب برقرار رہے۔یاد رکھیں آپ کی صحت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے جسے آپ تھوڑی سی کوشش اور توجہ سے برقرار رکھ سکتے ہیں۔انسولین ایک ہارمون ہے جولبلبہ سے خارج ہوتا ہے جو گلوکوز کو استعمال میں لانےکےلئےاھم کردار ادا کرتا ہے لیکن جب لبلبہ انسولین بنانا بند کردے یا انسولین خاطرخواہ کام نہ کرےتو ذیابطیس کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔کسی بھی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے علاج کے ساتھ ساتھ صحت بخش غذا نہایت اہمیت کی حامل ہے لہذا شوگر کے مریضوں کو صحت بخش غذا کا انتخاب کرنا چاہیے۔ایک انسان کو روزانہ1500 سے 1800 کیلوریز حاصل کرنا ضروری ہے۔اس لئے شوگر کے مریض کی غذا میں روزانہ کم از کم3 سبزیاں اور دو پھل شامل ہونا چاہیے۔شوگر کے مریضوں کی غذا میں دال ضرور شامل ہونی چاہیے کیونکہ دال میں موجود کاربوہائیڈریٹ دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والے کاربوہائیڈریٹ کی طرح خون پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ دالیں پروٹین کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔
شوگر کے مریض اپنی غذا میں بروکولی ، پھلیاں ، پالک ، مٹر اور پتوں والی سبزیاں ضرور شامل کریں۔ فائبر کی وجہ سے پیٹ دیر تک بھرا محسوس ہوتا ہے اور خون میں شوگر لیول صحیح رہنے کے ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔ کچھ پھلوں جیسے آم، انگوراور کیلے میں شکر بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے یہ نہیں کھانے چاہئیں۔ اسکے علاوہ پپیتا، سیب ، امرود، ناشپاتی اور کینو وغیرہ لیئے جاسکتے ہیں۔
چکنی غذا اور مٹھائیاں کھانے سے گریز کریں۔ بیکنگ میں استعمال ہونے والے مصنوعی میٹھے اور کولا ڈرنکس سے گریز کریں۔
ذیابیطس کی تشخیص کیلئے خون میں شوگر کی مقدار
ذیابیطس ما قبل ذیابیطس نارمل
126 یا زیادہ 125-101 100 سے کم خالی پیٹ شوگر
199 سے زیادہ 199-141 140 سے کم کھانے سے دو گھنٹے بعد کی شوگر
شوگر کے مریضوں کو ایک ٹیسٹ HbA1C کروانا چاہیے۔ یہ ٹیسٹ بتاتا ہے کہ ایک انسان کے جسم میں پچھلے تین ماہ شوگر کا لیول کتنا رہا ہے ، نارمل انسان کا رزلٹ 6 فیصد سے کم ہوتا ہے۔ شوگر کے مریض کا رزلٹ 7 فیصد سے کم ہونا چاہئے ۔ اگر 8 فیصد سے رزلٹ زیادہ ہے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔فاسٹنگ شوگر چیک کرنے کے لیئے آٹھ سے بارہ گھنٹے فاقہ ضروری ہے لیکن بہت زیادہ وقت فاسٹنگ میں بھی شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔ c peptide ٹیسٹ بتاتا ہے کہ لبلہ کتنی انسولین بنا رہا ہے۔
ذیابیطس قسم دوم
ذیابیطس کی تمام قسمیں دو طرح کے عوامل یکجا ہونے سے پید اہوتی ہیں
وراثت، ماحولیاتی اثرات
کسی شخص کے والدین بہن بھائیوں یا خون کے رشتہ داروں میں ذیابیطس ہونے سے اس کے لئے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم جنوبی ایشیا کے افراد میں (بشمول پاکستان )ذیابیطس قسم دوم کا خطرہ ویسے ہی ذیادہ ہے۔ یعنی ہمارے لئے ذیابیطس قسم دوم ہونے کا خطرہ دوسری قوموں کی نسبت زیادہ ہے۔
وراثت
عمر 45 برس سے زیادہ ہونا ،بلند فشار خون ،خون کولیسٹرول کی خرابیاں ،وزن کی ذیادتی، خاص طور سے پیٹ پر چربی کا ہونا ،ورزش اور جسمانی مشقت کی کمی خطرناک اشارے ہیں۔
آپ متوازن غذا استعمال کرتے ہیں،جسمانی مشقت یا ورزش کرتے ہیں اور وزن حد کے اندر ہے تو طاقتور موروثی اثرات کے باوجود ذیابطیس قسم دوم ہونے کا خطرہ کم ہےـ ۔ذیابیطس قسم دوم میں ہمارے جسمانی نظام میں مندرجہ ذیل خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
خون میںگلوکوزکا بڑھ جانا ،خون میں کولیسٹرول کی خرابیاں ،خون کی نالیوں کے اندر بہتے ہوئے خون کے جم جانے کا خطرہ، جس سے دل کے دورے، فالج اور پاوں یا پاوں کی انگلیاں کٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ہر مریض کے علاج میں اُس کے حالات کے مطابق تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے، لیکن ذیابیطس کے علاج کے کچھـ بنیادی اصول ہیں جو تقریباً تمام مریضوں کےلئے یکساں ہوتے ہیں۔ـ اپنے وزن کو مطلوبہ حد پر لانے اور قائم رکھنے کی کوشش کیجے۔ خوراک میں اپنے معالج کے مشورے کے مطابق پرہیزکیجئے ۔ روزانہ ورزش کو معمول بنائیےـ ورزش کابہترین وقت کھانے کے 30 منٹ بعد ہوگا ۔ ڈاکٹر صاحب کی تجویز کردہ دوائیں باقاعدگی سے استعمال کریں ۔ خون میں شوگر کی مقدار باقاعدگی سے چیک کریں اور اپنے معالج کے تجویزکردہ ٹیسٹ باقاعدگی سے کرواتے رہیں اور وقفے وقفے سے اپنے معالج سے مشورہ کرتے رہیں۔علاج شروع کرنے سےپہلےدیکھنا چاہیے کہ مریض میں کوئی دائمی پیچیدگی شروع تو نہیں ہو چکی۔ اسکے لئے تفصیلی معائینہ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ پیروں کا معائینہ، آنکھوں کے پردوں کا معائینہ وغیرہ۔،علاج شروع کرنے سے پہلے لیبارٹری سے گردوں، دل اور چکنائی کے ٹیسٹ کروانے چاہییں۔ذیابیطس کا عمر بھر کا ساتھ ہے اسلیئے خود اپنی دیکھ بھال کی تربیت حاصل کرنا چاہئے۔ بلکہ بہتر ہو گا کہ اس تربیت میں آپکے اہل خانہ اور قریبی ساتھی اور دوست بھی شامل ہوں، تاکہ وہ آپکے علاج میں آپکی مدد کر سکیں۔خون میں شوگر چیک کرنے اور اُس کی ریکارڈ رنگ کرنے کا طریقہ سیکھئے ، تاکہ اس ریکارڈ کو دیکھ کر معالج آپکی بہتر مدد کر سکیں۔آپ کو اور آپکے اہل خانہ اور قریبی ساتھی اور دوستوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر خون میں شوگر کم ہو جائے ، تو اُس کی تشخیص کیسے کی جائے، اور علاج کے سلسلے میں فوری طور پر کیا کیا جائے۔
(Gestational Diabetes) پریگنینسی کی ذیابیطیس
اگر کسی ایسی عورت کو پریگنینسی کے دوران ذیابیطیس ہو جائے، جسے پریگنینسی سے پہلے ذیابیطیس نہیں تھی، تو اسے پریگنینسی کی ذیابیطیس كکہا جاتا ہےـ یہ عام طور پر ساتویں مہینے کے آس پاس ظاہر ہوتی ہےـ یہ بات یاد رکھنے کی ہےجس عورت کوپریگنینسی سے پہلے ہی ذیابیطیس كی تشخیص ہو چکی ہو، اس کے مرض کو پریگنینسی کی ذیابیطیس نہیں کہا جائے گاـ ان دونوں صورتوں میں کچھ بنیادی فرق ہوتے ہیں ۔ پریگنینسی كکی ذیابیطیس میں خون میں گلوکوز کی مقدار اُس وقت بڑھنا شروع ہوتی ہے، جب بچے کے کم و بیش تمام اعضا پہلے ہی بن چکے ہوتے ہیںـ اسلئے ان بچوں میں پیدائشی نقائص پیدا ہونے کا کوئی اضافی خطرہ تو نہیں ہوتا(جیسا کہ پہلے سے ذیابیطیس کی مریضہ کے حاملہ ہونےکی صورت میں ہوتا ہے)، لیکن اگر احتیاط نہ برتی جائے تو بچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بہرحال رہتا ہے۔

جب آپ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا استعمال کرتے ہیں تو مریض کے جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جبکہ گلوکوز کی سطح فوری طور پر گرجاتی ہے جس کے نتیجے میں کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ کے اندرمیٹھی غذا کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے

یہ بھی پڑھیں:  غذائی عادات ،آپ کی صحت کے لیے بہت اہم ہیں

پریگنینی کی ذیابیطیس کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بچہ پیدائش سے پہلے پلےسینٹاکے ذریعے ماں کے رحم سے جُڑا ہوتا ہےـ پلےسینٹا کُچھایسے ہارمون پیدا کرتا ہے جو ماں کے خون میں شامل ہو کر اُسکی انسولین کو بےاثر کردیتے ہیںـ اگر ماں کا جسم اس بے اثری پر قابو پانے میں ناکام ہو جائے تو اُسکے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسے ہم پریگننسی کی ذیابیطیس کہتے ہیںـ۔
ماںکے خون میں جب شوگر بڑھ جاتی ہے، تو پلےسینٹاکے ذریعےیہ بچے کے خون میں شا مل ہو کراُس کے خون کی شوگر بڑھا دیتی ہےـ اس فالتوشوگر کواستعمال میںنے کے لیے بچے کا جسم زیادہ انسولین پیدا کرنے لگتا ہےـ ماںکی طرف سے آنے والی اضافی شوگر اس انسولین کے اثر سے بچے کے جسم میں چربی کی صورت میں جمع ہونے لگتی اور بچے کا سائز نارمل سے بڑا ہو جاتا ہےـ بڑی جسامت کی وجہ سے اس بچے کی پیدائش میں مشکل پیش آتی ہے، جس میں ماں اور بچے، دونون کےلئے نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد بچے کے خون میں شوگر انتہائی کم ہو سکتی ہے۔ ان بچوں کے پھیپڑوں میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے سانس کی تکلیف کا خطرہ رہتا ہے، جو کہ کبھی کبھار خطرناک صورت حال بھی اختیار کر سکتا ہے ۔پریگنینسی کی ذیابیطیس ہونے پر ماں کو مستقل ذیابیطیس قسم دوم ہومے کا خطرہ66فیصد تک ہےـ ان خواتین کو اپنا وزن نارمل رکھنا اور باقاعدگی سے اپنے خون کی شوگر چیک کرواتے رہنا چاہئےـ۔پریگنینی کی ذیابیطیس کا خطرہ مندرجہ زیل صورتوں میں بڑھ جاتا ہے۔حاملہ کی عمر 30 سال یا اس سے زیادہ ہے ، حاملہ کاوزن زیادہ ہے ، حاملہ کے خون کے رشتوں میں ذیابیطیس کے مریض موجود ہیں ، حاملہ کو پہلے کسی پریگنینسی کے دوران بھی پریگنینسی کی ذیابیطیس ہو چکی ہے۔
کُچھـ مخصوص نسلوں سے تعلق رکھنے والی عوتوں میںیہ مرض زیادہ ہوتا ہے جس میں ایشیائی نسلیں بھی شامل ہیں ۔پریگننسی کی ذیابیطیس میں ماں اور بچہ ، دونوں کی بہتری کےلئے ضروری ہے کہ ا سکے علاج میںکسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے پائےـ ماں کے خون مین شوگر کی مقدار تقریباً اُتنی ہی رہے، جتنی ذیابیطیس کے بغیر عام حاملہ عورت کی ہوتی ہےـ۔اس مقصد کےلئے خوراک میں تبدیلیوں اور ورزش کا ایک خصوصی لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہوتا ہےـ اگُ ضرورت پڑے تو انسولین کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیےـ۔کُچھ عرصہ پہلے تک حمل کے دوران ذیابیطیس کے لئے انسولین کے علاوہ اور کوئی دوا تجویز نہیں کی جاتی تھی، لیکن اب نئی صورت حال میں کھانے کی دوائیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیںـ۔ایسی عورت جسے پہلے ہی سے ذیابیطیس ہے، وہ اگر بچہ پیدا کرنا چاہے،تو اُسے حمل سے کم از کم چھـ ماہ پہلے سے اپنے ڈاکٹر صاحب کے مشورے سے اس بارے میں منصوبہ بندی کرنا چاہئے ـ۔
انسولین کی بے اثری(Insulin Resistance)
جب خون میں گلوکوز کی مطلوبہ کمی پیدا کرنے کیلئے معمول سے زیادہ انسولین کی ضرور پڑے، تو اسے انسولین کی بے اثری کہا جاتا ہے۔ گویا ہمارا جسم خود اپنی ہی پیدا کی ہوئی انسولین کو مناسب اور مفید انداز میں استعمال نہیں کر پاتا۔ انسولین کی ایسی بے اثری بہت سی بیماریوں کی وجہ سمجھی جاتی ہے مثلاذیابیطس قسم دوم ،حمل کی ذیابیطس ،لڑکیوں کی انڈہ دانیوں میں پٍانی کی تھیلیاں ،جگر میں چربی جمع ہونا ،میٹابولک سنڈروم ،دل کے کئی امراض ۔ یاد رکھیں کہ انسولین کی بے اثری، موٹاپے، بلڈ پریشر میں اضافے اور خون میں کولیسٹرول کی زیادتی سے گہرا تعلق ہےـ ۔انسولین کی بے اثری ذیابطیس دوم کا سبب تو بنتی ہے، لیکن بہت سے لوگوں میں انسولین بے اثرہونے کے باوجود ابھی اُنہیں ذیابطیس کامرض لاحق نہیں ہوتاـ یہ لوگ بر وقت علاج پر توجہ دے کر ذیابطیس سے بچ سکتے ہیں ـ مگر توجہ نہ دینےکی صورت میں انہیں ذیابطیس دوم ہونے کا امکان بڑھـ جاتا ہےـ۔انسولین کی بے اثری کا سب سے موثر اور کم خرچ علاج اپنے طرز زندگی میں صحتمند تبدیلیاں پیدا کرنا ہے۔ یعنی صحتمند غذا لیجئے ۔ وزن کو قابو میں رکھئے ۔باقاعدگی سے ورزش کیجئے ۔اور تمباکو نوشی سے پرہیز کیجئے۔
ذیابطیس میں اعصابی پیچیدگیاں
ذیابطیس کے مریضوں کو کوئی نہ کوئی اعصابی شکایت رہتی ہے۔ اور ایسا اُن مریضوں میں ہوتا ہے جن کامرض کافی پرانا ہو چکا ہوتا ہےـ دماغ تک پیغام پہنچانے کیلئے اعصابی ریشوں کا جال ہمارے جسم میں بچھاہوا ہے ، اعصاب کا یہ نظام نہ صرف لمس، سردی گرمی او درد کےاحساس کی خبر ہمارے دماغ کو دیتا ہے، بلکہ ہمارے پٹھوں کی حرکات اور ہمارے جسم کے اندرونی اعضا کی کارکردگی مثلاً خوراک کو ہضم کرنے کاعمل، دل کی دھڑکن کی رفتار وغیرہ بھی اعصاب کے ذریعے ہی ہمارے دماغ سے منسلک ہوتی ہےـخون میں گلوکوز کی مقدار زیادا ہونے کی وجہ سے خون کی وہ نالیاں متاثرہوتی ہیں جو اعصاب کو خون سپلائی کرتی ہیں۔اس سے اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔ اعصاب کو شوگر کی وجہ سے پہنچنے والا نقصان ڈایابیٹک نیورو پیتھی کہلاتا ہے۔لیکن اگر خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول میں رکھا جاے تو نہ صرف اعصابی نظام کو ہونے والے نقصان سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جو نقصان ہو چکا ہے اس سے بھی بہتر کیا جا سکتا ہے
ڈایا بیٹیک نیوروپیتھی دو طرح کی ہوتی ہے ۔پہلی لمس اور موٹر نیروپیتھی دوسری غیر اختیاری اعصابی نظام كی نیوروپیتھی۔
لمس اور موٹر نیروپیتھی
ذیابیطس میں پیروں اور ہاتھوں کا سُن رہنا عام ہے۔ مریض کو لمس اور سرد گرم کا پتہ نہیں چلتا۔ مثلا پیروں سے جوتا نکل جانا ، کوئی کانٹا وغیرہ چُبھ جانے کا پتہ نہیں چلتا یا ہیٹر سینکتے ہوئے ہاتھوں اور پیروں پر چھالے پڑ جاتے ہیں جس کا مریض کو احساس نہیں ہوتا۔بعض اوقات ہاتھ پیروں میں محسوس کرنے کی صلاحیت کُچھ کم ہو جاتی ہے۔ ان میں سنسناہٹ اور کیڑیاں چلنے کا احساس ہو سکتا ہے۔بعض اوقات ذیابیطس کے مریضوں کی جلد میں جلن اور درد ہونے لگتا ہے۔مریض کے مسلز کمزور ہونے لگتے ہیں۔جیس کی وجہ سے اس کو فٹ ڈراپ ،دوہرا دکھائی دینا،سیڑھیاں چڑھنے اور کرسی وغیرہ سے اٹھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، لیکن ان کیلئے علاج موجود ہیں، اور بہتری کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
غیر اختیاری اعصابی نظام کی خرابی
جسم میں خوراک کی کمی ہو جائےتو دماغ بھوک کا احساس پیدا کر دیتا ہے۔ پھر خوراک کی ضرورت پوری ہونے پر دماغ پیٹ بھر جانے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ہمارے مثانے میں آہستہ آہستہ پیشاب جمع ہوتا رہتا ہے،اور مثانہ جب بھر جاتا ہے، تو ٹوائیلٹ جانے کی حاجت ہوتی ہے۔یہ سب کام اعصاب خاموشی سے کام کرتے رہتے ہیں، اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ ذیابیطس کا کنٹرول اگر خراب رہے، تو ان اعصاب کے عمل میں بھی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جن سے ہمارے اندرونی اعضا کی کارکردگی میں خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ مثلا بد ہضمی کی شکایت رہنا ، معدے میں بوجھـ اور متلی کی کیفیت،قے ہونا، بار بار پیٹ خراب ہونا( اسہال) خاص طور پر رات کے وقت، یا قبض رہنا، بھوک نہ لگنا بلکہ ہر وقت معدہ بھرے رہنے کا احساس ہونا ،مثانے میں خرابی اور پوری طرح پیشاب کا خارج نہ ہونا،دل کا دورہ پڑنے یا انجائیناکے باوجود مریض کو پتہ نہ چلنا ،خون میں خطرناک حد تک شوگر کم ہونے پر بھی مریض کو پتہ نہ چلنا ،پسینہ کی مقدار کمی یا زیادتی ،جنسی معاملات کی خرابیاں،غنودگی طاری رہنا،سر کا چکرانا،دل کا بہت تیز دھڑکنا وغیرہ وغیرہ،اعصابی پیچیدگیوں کی روک تھام اور مزید خرابی سے بچنے کےلئے ان حفاظتی تد بیروںپر عمل کریں ۔اپنے خون میں شوگر کی مقدار کنٹرول میں رکھیں ، جس کےلئے، خوراک میں پرہیز،وزن کو کنٹرول، ورزش، اور باقاعدگی سے شوگر چیک کرنا ہو گاـ ہر تین ماہ بعد اپنے خون میں HBa1c چیک کروائیں،اعصابی پیچیدگیوں سے متعلق کوئیب بھی شکایت ہو تو فورا اپنے معالج سے مشورہ کریں۔ اوران سے پیدا ہونے والے مسائیل کےلئے حفاظتی تدابیر پر فورا عمل شروع کر دیں ۔
(Pre-Diabetes) ما قبل ذیابیطس
اگر کسی شخص کے خون میں شوگر کی مقدار نارمل سے تو زیادہ ہو، لیکن اتنی زیادہ نہ ہو تو ہم اُسے ذیابیطس کہہ سکیں، تو ایسی حالت کو ماقبل ذیابیطیس کہیں گےـ یعنی یہ ذیابیطس ہونے اور نہ ہونےکے درمیان کا ایک درجہ ہےـ لیکن خطرہ ہوتا ہےیہ کہ آہستہ آہستہ ذیابیطس قسم دوم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ آپ اپنے مُعالج کے مشوروں پر عمل کرکے ذیابیطس قسم دوم سے بچ بھی سکتے ہیں
اگر 8 گھنٹے فاقے کے بعد کم از کم تین مختلف موقعوں پر کسی شخص کے خون میں گلوکوز کی مقدار 100 سے لیکر 125 ملی گرام کے درمیان ہو، یا کھانے پینےے دو گھنٹہ بعد مریصض کے خون میں گلوکوز کی مقدار 140 سے 199ملی گرام کے درمیان ہو ، تو ان دونوں صورتوں میں اسے ماقبل ذیابیطیس کہا جائے گا۔ اگرایک انسان کافی عرصے تک ما قبل ذیابیطیس کی حالت میں رہے تو اس کو مکمل ذیابطیس ہونے سے پہلے ہی دِل اور خون کی نالیوں کی پیچیدگیاں پیدا ہونا شروع ہو چکی ہوتی ہیں ـ ما قبل ذیابیطیس ایک سنجیدہ طبی مسئلہ ہے۔ جس علاج کیا جا سکتا ہےـاور ماقبل ذیابیطس کو ذیابیطیس دوم میں بد لنے سے روکا جا سکتا ہےـ ما قبل ذیابیطس سے بچنے کے لیےاپنے وزن کو قابو میں رکھئے، صحتمند اور متوازن خوراک لیجئے اور باقاعدگی سے ورزش کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:  سموگ دنیا بھر کا مسئلہ ہے ،لیکن وہاں اس کے حل بھی تلاش کیے جارہے ہیں،ہمارے ہاں؟
کیٹاگری میں : صحت