بلاول بھٹو زرداری کا پہلا ٹرین مارچ لاڑکانہ پہنچ گیا

EjazNews

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا ٹرین مارچ کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے شروع ہوا،وہاں انہوں نے خطاب کیا اور اس کے بعد یہ کاررواں چل پڑا۔ جس میں کارکنوں کا جوش دیدنی تھا۔بلاول بھٹو زرداری کا ہر سٹیشن پر شاندار استقبال کیا گیا۔ اپنے جوش خطاب میں بلاول کہتے ہیں حکومت سندھ کے 120ارب روپے پرحکومت قبضہ کر کے بیٹھی ہے ،یہ سندھ کی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے ،آپ سوچیں سندھ کا حق سندھ کو مل جائے تو اس سے ہم کتنے ہسپتال اور تعلیمی ادارے بنا سکتے ہیں!،نیب کے بارے میں کہتے ہیں ،نیب وہ ادارہ جو مشرف کی باقیات میں سے ایک ہے۔ یہ مشرف کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جسے سیاسی انجینئرنگ کیلئے بنایا گیا اور آج کل یہ ادارہ کٹھ پتلی حکومت کے سیاسی انتقال کے مشن پر گامزن ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت کو کہتے ہیں، حکومت کیا سمجھتی ہے کہ نیب گردی کے ذریعے ہمیں دبا سکتے ہیں؟ کیا شہید ذوالقار علی بھٹو کا نواسا جھک جائے گا، کیا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹاڈر جائے گا؟ ہم آمریت اور دہشت گردوںسے نہیں ڈرتے، تم تو پھر ایک کٹھ پتلی ہو۔
شہادتوں کے علم جب بلند ہو جائیں
تو جہاں میں رسوا یزید ہوتے ہیں
عظیم باپ کی بیٹی بتا گئی شوکت
حسین والے ہمیشہ شہید ہوتے ہیں
احتساب سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے ہمیں احتساب پر کوئی اعتراض نہیں مگر اگر احتساب کے نام پر سیاسی انجینئرنگ کی جائے، سیاسی انتقامی کارروائیاں کی جائیں تو اس سے جمہوریت کو صرف نقصان پہنچے گا۔عام انتخابات میں ہمارا راستہ روکنے کیلئے کئی ہتھکنڈے آزمائے گئے مگر ان کے باوجود ایک بھٹو 20سال بعد اسمبلی میں پہنچ گیا جو یہ انتخابات سے نہ حاصل کر سکے وہ اب نیب گردی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حکومت سیاسی انتقال کی آڑھ میںقانون اور انصاف کی دھجیاں اڑا چکی ہے۔ یہ انہیں غیر جمہوری قوتوں کے پیروکار ہیں جنہوں نے پنڈی کو ہمیشہ بھٹو خاندان کیلئے کربلا بنایا۔موجودہ حکمران ذوالفقار علی بھٹو کی فکر، فلسفہ ، نظریہ اور ذکر تک سے ڈرتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے کو ان کے نام سے پکارے جانے پر تو ان وزراءکی نیند ہی اڑ جاتی ہے۔ایسا ممکن ہی نہیں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے جیالوں اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جانثاروں کی موجودگی میں عوام کی حق تلفی ہو جائے۔ یہ مرمٹ جانے والے جیالے ہیں اپنے حقوق حاصل کرنا جانتے ہیں۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا
حکومت پرتنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں صوبوں کے حقوق اور وسائل نہیں چھیننے دیں گے۔ یہ آپ کے وسائل ہیں ان پر آپ کا حق ہے اور آپ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ وہ سمجھتے ہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ جھک جائے گا، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا ڈر جائے گا، پی پی پی کے جیالے بھاگ جائیں گے، ہم شہداءکے جانثار سپاہی ہیں ہم اگر آمریت سے نہیں ڈرے تو اس کٹھ پتلی حکومت سے بھی نہیں ڈرتے۔،غیر جمہوری طاقتوں نے پہلے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو تخت دار پر چڑھایا اور پھر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کرنے کے بعد یہ سمجھ لیا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کر دیں گے لیکن ہم سب پارٹی کا پرچم تھامے آج بھی موجود ہیں

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتا،ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے:وزیراعظم
بلاول بھٹو زرداری کا ٹرین مارچ

بلاول بھٹو زرداری کا قافلہ دروڑ پہنچا تو ان کا جیالوں نے شاندار استقبال کیا۔دروڑ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اپنے نظریے پر ڈٹے رہنا، جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنا، دہشت گردوں اور آمروں کو للکارنا، عوام کے ساتھ کھڑے رہنا اور شہادت قبول کرنا بڑے لیڈروں کی نشانیاں ہوتی ہیں، یوٹرن لینا نہیں۔ بلاول کہتے ہیں یہ کوئی ٹرین مارچ نہیں ہے، ہوائی سفر بند ہونے کے باعث میں بذریعہ ٹرین لاڑکانہ جارہا ہوں لیکن وزیراعظم ہاؤس سے چیخیں آرہی ہیں۔ جب پاکستان پیپلزپ ارٹی ٹرین مارچ کرے گی تو انہیں لگ پتہ چل جائے گا۔

40 گھنٹوں پر مشتمل اس سفر میں بلاول بھٹو زرداری نےہر سٹیشن پر تقریر کی۔ اور نے محبت کا اظہار کیا۔ گھر پینچنے پر انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کیا