iran

امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں

EjazNews

امریکہ کے سابق صدر باراک اوبامہ نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ، لیکن آنے والے صدر کو وہ معاہدہ ٹھیک نہیں لگا وہ اس سے نکل گئے ۔ اور اس کے بعد سے ایران پر نت نئے طریقوں سے پابندیوں کا اطلاق کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایران کو دنیا میں تنہا کیا جاسکے۔ اور اس سلسلے کی کڑی یہ پابندیاں بھی لگتی ہیں۔ ایران کو مزید تنہا کرنے کی کوششوں میں امریکہ آگے بڑھ رہا ہے۔امریکہ نے ایسے 25افراد اور کاروباری اداروں کو ان پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے تھے۔ غیر ملکی ادارے کے مطابق پابندیوں کا شکار ہونے والی کاروباری شخصیات اور ادارے ایران سمیت ترکی اور متحدہ عرب امارات میں اپنی معاشی اور تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے جن مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں ان میں انصار بینک، اطلس ایکسچینج اور ایران کی اطلس کمپنی شامل ہیں۔
شنید یہ بھی ہے کہ امریکہ یورپی یونین کے کئی ممالک پر دباﺅ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران پر اپنی جانب سے پابندیاں عائد کریں تاکہ ایران کے ساتھ کسی قسم کا کوئی کاروبار جاری نہ رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بھر میں کرونا وائرس سے 2لاکھ 65ہزار سے زائد اموات