سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور

EjazNews

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی جس کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب مظفر عباسی نے درخواست کی کھل کر مخالفت کی جبکہ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ضمانت کے حق میں دلائل مکمل کیے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ججز نے مشاورت کی اور چیف جسٹس نے فیصلہ تحریر کیا اور کہا کہ کچھ دیر کے بعد دوبارہ آکر فیصلہ سنائیں گے۔
سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وکیل خواجہ حارث کو کہا کہ آپ نواز شریف کے علاج کے لیے ضمانت چاہتے ہیں، ہم پاکستان میں کسی بھی ہسپتال میں ان کے علاج کا حکم جاری کر دیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا ایک امکان ہے کہ نواز شریف کو کچھ ہفتوں کے لیے ضمانت دے دی جائے، بائی پاس بھی تین دن میں ہو جاتا ہے ، دنیا کی بہترین دستیاب مشینیں پاکستان میں موجود ہیں اور ہسپتال بھی موجود ہیں ہم دو سے تین ہفتے دیں گے اس عرصے کے بعد آپ کو واپس جانا ہوگا سوچ لیں۔
خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کہیں نہیں جارہے ان کا پاسپورٹ عدالت میں موجود ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے موکل کا تناﺅ دور ہو ، ٹرائل میں تو ویسے ہی تناﺅ ہوتا ہے ابھی تک جن کی ٹرائل نہیں ہوئے وہب یھ تناﺅ میں ہیںاور 21ویں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ تناﺅ ہے۔
خواجہ حارث نے 8ہفتوں کے لیے ضمانت کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 8ہفتوں کے بعد آپ واپس آجائیں گے۔ 9اپریل کو ہائیکوٹ میں آپ کی اپیل پر بھی سماعت ہے، اگر وہاں سے فیصلہ آپ کے خلاف آجاتا ہے تو کیا کریں گے۔
جس پر سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ سے اتنی جلدی فیصلہ نہیں ہوسکتا، ابھی تک صرف نوٹس ہوئے ہیںجو مجھے موصول بھی نہیں ہوئے، جہاں تک علاج کا تعلق ہے میرے موکل کی زندگی داﺅ پر ہے، علاج مکمل ہونے کے بعد خود کو عدالت کے حوالے کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  آرمی ایکٹ کثرت رائے سے منظور

یاد رہے گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا ‘نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری ہے، آپ نے ان کی ساری رپورٹس لگائی ہیں۔
وکیل نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ 29 جولائی 2018 سے نواز شریف کی مختلف میڈیکل رپورٹس لگائی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمیں تمام میڈیکل رپورٹس پڑھنا ہوں گی۔
دوران سماعت خواجہ حادث نے نواز شریف کی طبی رپورٹ عدالت میں پیش کیں اور اپنے دلائل میں کہا کہ تمام رپورٹس میں ڈاکٹرز نے نواز شریف کی طبیعت خراب بتائی۔ نوازشریف کے طبی معائنے کے لیے 4ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنا جس میں پی آئی اور آر آئی سی کے ڈاکٹرشامل تھے۔16جنوری اور5فروری کی رپورٹس کے مطابق نوازشریف کی صحت درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے لیے 5مختلف میڈیکل بورڈبنائے گئے، پہلا میڈیکل بورڈ 17جنوری کو بنا ، پی آئی سی کے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے رپورٹ دی تھی۔ دوسری میڈیکل ابتدائی رپورٹ جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز کی آئی۔تیسری میڈیکل رپورٹ 30جنوری 2019ءکو آئی، چوتھی رپورٹ سروسز ہسپتال کی 5فروری کو آئی اور پانچویں میڈیکل رپورٹ بھی جناح ہسپتال کی طرف سے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے وکیل نے لندن کے ڈاکٹر کے خط کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ڈیوڈ آرم لارنس ان کا علاج کر رہے تھے۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 15جنوری کو نواز شریف نے بازو اورسینے میں درد کی شکایت کی۔
چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا لندن کی رپورٹس یہاں کے ڈاکٹرز کو نہیں دی گئیں، ہم پمز کی پہلی رپورٹس دیکھنا چاہیں گے، پہلی رپورٹ میں نواز شریف کی عمر 65 اور دوسری میں 69 سال ہے، ڈاکٹر نے نواز شریف کی عمر 4 سال بڑھا دی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا 17 جنوری 2019 کو نواز شریف کی دوسری میڈیکل رپورٹ آئی، دوسری رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا بلڈ پریشر کافی زیادہ ہے، انہیں گردے میں پتھری، ہیپا ٹائٹس، شوگر اور دل کا عارضہ ہے، رپورٹس اس لیے دیکھ رہے ہیں کہ کیا انہیں یہ چاروں پرانی بیماریاں ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا سب کو معلوم ہے کہ نواز شریف مختلف بیماریوں کی ادویات استعمال کرتے ہیں، الیکشن سے قبل نواز شریف جلسے جلوس اور ریلیاں بھی نکالتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی تاکہ ہم کسی انتہاء پسند اور آمر کے غلام نہ بنیں:بلاول بھٹو