mahvish

تنقید مہوش حیات پر ہی کیوں؟

EjazNews

مہوش حیات کا تعلق فنکار گھرانے سے ہے، ان کی والدہ ،بہن ،بھائی سبھی شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ مہوش حیات اس فیملی کی پہلی خاتون ہیں جنہیں قومی ایوارڈ ملا ہے۔ اگر ہم 2010ء سے لے کر 2019ء تک کا جائزہ لیں تو ان کے ڈراموں کی تعداد خاصی ہے ۔ لیکن اگر ہم ان کی فلمی زندگی پر نظر دوڑائیں تو ان کی فلمیں انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔ نامعلوم افراد میں انہوں نے آئٹم سانگ پرفارم کیا تھا۔ اس کے بعد’’ جوانی پھر نہیں آنی‘‘ میں بہت سی دوسری اداکاروں کے ساتھ وہ بھی شامل تھیں۔’’ایکٹر ان لاء ‘‘میں انہوں نے ٹائٹل رول اداکیا۔ ’’پنجاب نہیں جاؤں گی ‘‘میں ان کا ٹائٹل رول تھا۔ اس کے بعد ’’جوانی پھر نہیں آنی پارٹ ٹو ‘‘میں بھی ان کا کوئی خاصہ رول نہیں تھا۔ اس کے بعد’’ لوڈ ویڈنگ ‘‘میں وہ بطور ہیروئین اپنی پرفارمنس دکھا چکی ہیں۔جوانی پھر نہیں آنی ٹو بھی مرد اور خواتین ایکٹروں سے بھری تھیں جن میں سے ایک مہوش حیات بھی تھیں۔ ان کے کیرئیر کی 6فلمیں ہیں اور ان 6 فلموں میں بھی انہوں نے ٹائٹل رول نہیں کیا۔ دوفلمیں ایسی ہیں جن میں ان کے ٹائٹل رول ہیں۔
اگر ہم ان کے ڈراموں کی بات کریں تو ان میں سے بھی کوئی ایک ڈرامہ ایسا نہیں ہے جس نے ڈرامہ انڈسٹری کا رخ بدل دیا ہو۔ فیصل قریشی نے ’’میری ذات ہے ذرہ بے نشان‘‘ اور فواد خان نے ’’ہمسفر ‘‘ سے ایکٹنگ کی دنیا میں ایک نمایاں مقام بنالیا،لیکن اگر ہم مہوش حیات کی طرف دیکھیں تو ہمیں ٹرینڈ سیٹل کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ لیکن مجھے مہوش حیات کے کریڈٹ پر ایسی کوئی چیز اپنی تحقیق میں نظر نہیں آئی جس کو دیکھنے کے لیے لوگ ا س قدر اوتاولے ہوئے ہوں اور ان کا نام زبان زد عام ہوا ہو ۔
لیکن اگر ہم میری ساری باتوں سے ہٹ کر اس بات پر غور کریں کہ حکومت نے کچھ سوچ کر ہی انہیں سول ایوارڈ دیا ہوگا۔ ظاہر ہے یہ ایک لمبا پروسیجر ہوتا ہے جس کے بعد کسی بھی حکومتی تمغے کا حقدار قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جب سے ان کو سول ایوارڈ دیا گیا ہے ،سوشل میڈیا پر تنقید کا ایک آسماں برپا ہو گیا ہے اور یہ تنقید اس حد تک بڑھ گئی ہے جس میں ان کی ذاتیات کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ ایک عجیب سی بات ہے کہ کسی کی ذات کو حرف تنقید بنایا جائے۔ کچھ لوگوں نے تو سوشل میڈیا پر حدود و قیود کا بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ لیکن ان کو ایوارڈ حکومت نے دیا ہے انہوں نے خود نہیں جا کر لیا۔ دوسرا اگر آپ کو اختلاف ہے تو اختلاف ہونا کوئی بری بات نہیں لیکن اختلاف کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ فنکاروں کی ذاتیات پر اترا جائے ۔ فنکار بڑے نازک مزاج اور حساس ہوتے ہیں ۔چھوٹی چھوٹی باتیں ان کو بڑی تکلیف پہنچاتی ہیں۔ اس لیے آپ تنقید کرنا چاہتے ہیں تو کریں لیکن یہ تنقید مثبت ہونی چاہیے نہ کہ ایک ایکٹر کو کسی بازار سے منسلک کیا جائے یا بیہودگی کی انتہائی کر دی جائے۔
اس بات کو بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ تنقید کرنے والوں میں سے کچھ کاکہنا ہے کہ کراچی کی ایک بڑی شخصیت کی سفارش پر ان کو یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہے تو حکومت کو ضروراس پر تحقیق کرنی چاہیے کیونکہ اس سے قومی ایوارڈ کی اہمیت کم ہوتی ہے ۔ کیونکہ تنقید صرف اور صرف مہوش حیات پر ہو رہی ہے باقی کسی پر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک آزادی کشمیر اور دفاع پاکستان