امیر خسروکون تھے؟

EjazNews

ہندوستان کی تاریخ لکھنے والے مستند لوگو ں میں سر فہرست پہلے مورخ عین الدین امیر حسن ہیں جو عام طور پر امیر خسرو کے نام سے مشہور ہیں۔ امیر خسرو نے بلبن کے دور میں پرورش پائی اور خلجی کے دور میں عروج حاصل کیا ۔ انہوں نے دہلی کے چھ بادشاہوں غیاث الدین بلبن، معز الدین کیقبار، جلال الدین خلجی، علاؤالدین خلجی، قطب الدین مبارک شاہ اور غیاث الدین تغلق کا دور دیکھا۔
امیر خسرو فطری شاعر تھے انہوں نے نو سال کی عمر سے شعر کہنے شروع کیے اور یہ سلسلہ ان کے اس فانی دنیا سے جانے تک جاری رہا۔امیر خسرو نے تقریباً اپنے دور میں سارا ہندوستان دیکھاتھا جس سے ان کے مشاہدے میں بہت اضافہ ہوا ۔سلطان جلال الدین فیروزی نے انہیں امیر کا خطاب دیا۔ مصحف بردار کا اعزازی عہدہ دیا ۔
امیر خسرو ترکوں کے ایک قبیلے لاچین سے تعلق رکھتے تھے والد کا نام سیف الدین محمود تھا۔ان کے والد کی ہندوستان میں آمد سے متعلق مختلف تاریخی روایات ہیں۔ کچھ کاکہنا ہے کہ وہ سلطان شمس الدین التمش کے دور میں آئے اور کچھ کے خیال میں وہ سلطان محمد تغلق کے دور میں دربار سے منسلک ہوئے۔امیرخسرو کے دو بھائی اور تھے اعزالدین علی شاہ اور حسام الدین ۔ جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو وہ محض 7سال کے تھے۔

امیر خسرو کی زندگی کے ادوار میں مملکت ہندوستان طوائف الملوکی کا شکار رہی

امیر خسرو عربی ، فارسی ، ترکی ، ہندی چار زبانوں کے فاضل اور نظم ونثر دونوں میں یکساں کمال رکھتے تھے۔ آپ کی کثرت تصنیف و تالیف کا حال ا س سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی ان کتابوں کی تعداد جو سلک نظم میں منسلک کیں 99 اور آ پکے اشعار کی تعداد علاوہ ہندی کے چار پانچ لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ضیاء الدین برنی صاحب تاریخ فیروز شاہی تحریر کرتے ہیں کہ ان کی تصنیف و تالیف اس قدر ہے کہ نظم و نثر میں گویا انہوں نے ایک کتب خانہ تصنیف کر دیا ہے۔ لیکن امیر خسرو کی زندگی کے ادوار میں مملکت ہندوستان طوائف الملوکی کا شکار رہی ۔ قاعدہ ہے کہ علمی قدر دانی اور کتابوں کی حفاظت امن و امان کے زمانہ میں ہوا کرتی ہے۔ ایک اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت کے ہندوستانیوں کی توجہ کبھی اس جانب مبذول نہیں ہوئی کہ نامور شعراء اور مصنفوں کی یادگاریں قائم کر کے ان کی تصنیف و تالیف اور کمالات کی یادگاروں کو حوادث زمانہ سے محفوظ رکھنے کا انتظام کرتے لیکن ملک میں تھی ہی طوائف الملوکی اس جانب توجہ کرتا کون۔ جب ہندوستان میں اکبر ، جہانگیر اور شاہ جہاں کے زمانہ میں پرامن سلطنت ہوئی تو ان کی علمی قدر دانی سے جو ذخیرہ جمع ہوا س میں کچھ تو 1857ء کی جنگ آزادی میں ضائع ہوگیا اور جو کچھ باقی بچا تھا وہ لاپرواہی کی وجہ سے یورپ میں ہجرت کر گیااور وہاں کے لوگو ں کی زیب و زینت کا باعث بنا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی لکھی ہوئی 99کتابوں اور کتب خانے میں سے شاید چند ایک باقی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کامیاب شادی کیلئے آئیے شادی شدہ جوڑوں سے کچھ سیکھتے ہیں

آ پکے اشعار کی تعداد علاوہ ہندی کے چار پانچ لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے

امیر خسرو ادبی دنیا کے آفتاب عالمتاب ہیں۔ اور ان کے بعد برصغیر پاک و ہند میں ان کے اوصاف کمالات کا انسان پیدا نہیں ہوا ،وہ ایک طرف فارسی کے زبردست ناظم و ناثر ہیں دوسری طرف عربی و سنسکرت میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں متعدد امور کی ایجاد انہی کی طرف منسوب ہے ۔ ہندی اور ایرانی موسیقی کی تدوین کر کے اپنی ایجادوں سے اس کو مالا مال کر دیتے ہیں ۔ جہاں فارسی پر ان کے احسان ہیں وہی ہندی بھی ان کے چشمہ فیض سے سیراب ہوئی ہے ۔ ضیاء الدین برنی اپنی مشہور تصنیف تاریخ فیرو ز شاہی میں لکھتے ہیں ’’سلطان علاؤالدین خلجی کے دور میں بہت سے بے مثال شاعر تھے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے اور نہ آج تک پیدا ہوئے ،ان سب میں امیر خسرو اپنے خیالات کی جدت اور شعروں کی کثرت کے اعتبار سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔
اماں میرے باوا کو بھیجو، کہ ساون آیا
بیٹی تیرا باوا تو بڈھاری کہ ساون آیا
اماں میرے بھائی کو بھیجو جی کہ ساون آیا
بیٹی تیرا بھائی تو بالاری کہ ساون آیاں
اماں میرے ماموں کو بھیجو کہ ساون آیا
بیٹی تیرا ماموں تو بانکاری کہ ساون آیا
پڑھئے اور غور کیجئے علم و فضل اور اعلیٰ درجہ خیالات شاعرانہ کے جب جس طرف جھتکے تھے تو ایسے تہہ کر پہنچتے تھے کہ زمین کی ریت تک نکال لاتے تھے ۔ ان الفاظ و خیالات پر نظر کریں کیسے نیچر میں ڈوبے ہوئے ہیں عورتوں اور لڑکیوں کے فطری خیالات اوردلو ں کے ارمانوں کو کیا اصلی طور سے ظاہر کرتے ہیں۔
کسے پڑی ہے جو جا سنا وے پیارے پی کو ں ہمارے بتیاں
نہ نیند نینا، نہ انگ چینا، نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں
سپیت منکے درائے راکھوں جو جائے پاوں پیا کے کھتیاں
ایک غزل قارئین کے لیے فارسی میں سے
کافر عتقم مسلمانی درکار نیست
ہر رگ من تار گشتہ حاجت نزنارنیست
از سر پائیں من بر خیز اے ناداں طبیب
درد مند عشق را دار و بجز دیدار نیست
ابرارا بادیدہ گریان من نسبت مکن
نسبتت با اند کے دار دولے خونبار نیست
شادباش اے دل کہ فردا بر سر بازار عشق
مژدہ ٔ قتل است گرچہ وعدۂ دیدار نیست

یہ بھی پڑھیں:  کراچی کا درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے صرف درخت، درخت اور درختوں سے