chest pain

سینے کا دردضروری نہیں دل کا ہو

EjazNews

عموما دیکھا گیا ہے کہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں لوگ سینے میں درد کی شکایت کے ساتھ آتے ہیں،اور اکثر و بیشتر اس درد کو دل کا درد سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر ضروری نہیں کہ یہ درد، دل ہی کا درد ہو۔ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً30فی صد مریض، جنھیں پہلی بار یا بار بار سینے میں درد ہوتا ہے،جب اُن کی انجیوگرافی کی جاتی ہے، تو ان کی دل کی شریانیں نارمل ہوتی ہیں اور ہارٹ اٹیک کے بھی اثرات نہیں پائے جاتے۔ مختلف ٹیسٹوں کے بعد پتا چلتا ہے کہ سینے کا درد، اصل میں دِل کا نہیں تھا۔عموماً یہ شکایت اعصابی تنائو کی وجہ سے ہوتی ہے۔بسا اوقات سینے کا درد کھانے کی نالی میں سوزش اور ورم کی وجہ سے بھی ہوجاتا ہے۔ کھانے کی نالی کا پھول جانا یا معدے سے غذا کی نالی میں تیزابی مادّے کا Reflux ہونا بھی سینے کا درد کا موجب بن سکتا ہے، جو عموماً انجائنا کے درد سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔ اس درد کا تعلق بعض اوقات محنت، مشقت اور ورزش سے بھی ہوتا ہے، جو گرما گرم اور چٹ پٹے کھانوں، ٹھنڈے، یخ مشروبات کے استعمال سے مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس درد سے متاثرہ مریض اکثر کھانے کے بعد غذا کی نالی میں رکاوٹ کی بھی شکایت کرتے ہیں۔ تاہم ایسا درد جس کا تعلق کھانے سے ہو اور دافع درد اور مانع تیزابیت ادویہ کے استعمال سے ختم ہوجائے، وہ گیس اور تیزابیت کے سبب ہوسکتا ہے۔اسی لیے50فیصد افراد میں کارونری انجیوگرام نارمل ہوتا ہے اور دل کی شریانیں بھی کھلی ہوتی ہیں۔انھیں یہ سینے کا درد، محض کھانے کی نالی میں خرابی کے سبب ہوجاتا ہے، جسے طبّی اصطلاح میں ’’Motility Disorder‘‘کہا جاتا ہے۔
وجوہات:
اصل میں اس کیفیت میں غذا کی نالی کھانے کو نیچے معدے میں پہنچانے میں کچھ سست ہوجاتی ہے اور مریض کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کھانا سینے میں اٹکا ہوا ہے اور یہی وجہ سینے میں درد کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ بعض اوقات ہاضمہ درست نہ ہونے کی صورت میں بھی لقمہ غذا کی نالی میں پھنسا ہوا محسوس ہوتا ہے اور مریض شدید درد میں مبتلا دکھائی دیتا ہے، تاوقتیکہ لقمہ نیچے نہ اتر جائے۔ غذا کی نالی میں رکاوٹ کی تشخیصGastrointestinal Endoscopyکے ذریعےجاتی ہے۔بعض اوقات یہ رکاوٹ کھانے کی نالی میں سرطان کے سبب بھی ہوتی ہے،جس کی حتمی تشخیص کے لیے بائیوآپسی تجویز کی جاتی ہے۔پھرسینے میں درد کی ایک بڑی وجہ بلڈ پریشر بڑھ جانا بھی ہے۔عموماً خون کا دباؤ ،نیند کی کمی، زائد نمک کےاستعمال، چائے، الکوحل کے استعمال، سگریٹ نوشی، نامناسب طرزِ زندگی، تفکرات، ٹینشن اور ڈیپریشن کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
کوشش کریں کہ کھانے پینے کی وہ تمام اشیاء اور عادات، جو خون کا دباؤ بڑھانے کا سبب بنیں،ترک کردی جائیںجبکہ تیزابیت کے شکار مریض تیز مرچ مسالے والے اور بازاری کھانوں سے پرہیز کریں۔کھانا کھانے کے فوراً بعد ہرگز نہ سوئیں، رات کے کھانے سے قریباً آدھے گھنٹے قبل یا کھانے کے دو گھنٹے بعد چہل قدمی ضرور کریں۔گرم کھانے نہ کھائیں، ٹھنڈے مشروبات اور کولڈ ڈرنکس سے اجتناب برتیں۔سینے میں جلن، تیزابیت اور بلڈ پریشر بڑھنے کی صورت میں صرف معالج ہی کے مشورے سے ادویہ استعمال کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آپ کی ہڈیاں بہت قیمتی ہیں ان سے پیار کیجئے
کیٹاگری میں : صحت