mobile-app

حکومت کچھ بھی کرسکتی ہے

EjazNews

کہتے ہیں اگر حکومت کچھ کرنے کا ڈھان لئے تو وہ کر گزرتی ہے۔ چاہے کسی بھی قیمت پر ہو۔ اس کا عملی مظاہرہ ہم نے پاکستان میں بارہا دفعہ دیکھا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ایک ہوا چلتی ہے جس میں سب کو حکم صادر کر دیا جاتا ہے کہ کل سے ہیلمنٹ پہن کر موٹر سائیکل چلانا ورنہ چلان ہی چلان ہیں۔بڑے زوروں شوروں سے مہنگے اور سستے داموں لوگ ہیلمنٹ خریدتے ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ کچھ عرصے بعد وہی قانون نافذ کرنے والے سائیڈ پر کھڑے ہو کرگپیں ہانک رہے ہوتے ہیں اور سر بغیر ہیلمٹوں کے موٹرسائیکلو ں پر سوار ہوتے ہیں۔
اگر حکومت ڈھان لے کہ میٹرو بس یا میٹرو ٹرین چلانی ہے تو میٹروٹرین کا افتتاح اس وقت بھی کر لیتی ہے جب اس کے پورے روٹ پر گاڑی ہی نہیں چل سکتی اور اس کا ایک لمبا چوڑا کام مکمل ہونا باقی ہوتا ہے۔ حکومت کی مرضی ہوتی ہے اگر چاہے تو زیر زمین چلنے والی ٹرینوں کو سیمنٹ کے ڈھیر پر چلا لے حکومت کیلئے کچھ بھی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ بس بیچارے عوام دیکھنے کے سوا شاید کچھ کر پائیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر نشر کی ہے جس کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں پہلے وزیراعظم نے باجوڑ میں جلسے سے خطاب کیا تھا اور اس خطاب کے بعد نوجوانوں نے وزیراعظم سے 3Gسروس کا مطالبہ کیا تھا اس مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت باجوڑ میں تھری جی سروس مہیا کر رہی ہے۔ اور تھری جی سروس کے لیے تمام ٹیکنیکل ورک بھی مکمل کیا جاچکا ہے اور اسے کل یعنی25مارچ 2019ء کو باقاعدہ لانچ کر دیا جائے گا۔ اب باجوڑ کے عوام موبائل تھری جی سروس سے استفادہ کر سکیں گے۔ چلئے اچھی بات ہے ، وزیراعظم کے باقی کیے گئے وعدوں کو بھی اسی پھرتی سے مکمل کیا جائے تو کمال ہو جائے ،پاکستان کی ترقی دن دگنی اور رات چگنی ہو جائے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ محمود خان اسی جذبے سے وزیراعظم کے باقی وعدوں کے لیے بھی کام کریں گے اور ان علاقوں کی ترقی کیلئے دن رات صحیح معنوں میں کام کر کے ان علاقوں کے عوام اور لوگوں کے حالات کو دوسرے صوبوں کے برابر کرنے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  انشاء اللہ 2020ء وہ سال ہو گا جس میں پاکستان ترقی کرے گا:وزیراعظم عمران خان
افتتاح کے بعد جاری کی گئی تصاویر میں سے ایک تصویر

دوسری جانب مردان ریلوے سٹیشن میں ریلوے سروس بحال کر دی گئی ہیں۔ پچھلی دودہائیوں سے نوشہرہ تا درگئی ریل سروس بند تھی۔اس کو بحال کر دیا گیا ہے۔ وزیرریلو ے نے اپنی وزارت سنبھالنے کے بعد سے لے کر اب تک کافی منصوبوں کا افتتاح کر دیا ہے۔ اب کچھ توجہ منصوبے کے ساتھ ساتھ ریلوے سٹیشنوں اور ریلوے پھاٹک اور ان کے آس پاس آبادیوں کی جانب بھی مبذول کی جائے تو بہتر ہوگی کیونکہ ہمارے ریلوے پھاٹک ویسے تو ہماری ریلوے بھی انگریز دور کی ہے لیکن ریلوے پھاٹک کا پورے ملک میں کوئی بندوبست کر لیا جائے تو قیمتی جانوں کے نقصان سے بچایا جاسکتا ہے ۔گزشتہ حکومت نے ایک منصوبے کے تحت جہاں جہاں ریلوے پھاٹک ہیں وہاں ٹریفک کو زیر زمین راستہ دینے کا پروگرام بنایا تھااس پر کچھ عمل درآمد بھی کیا گیا تھا اگر اس منصوبے پر غور کیا جائے تو بہت سی جگہوں پرٹریفک کے بہائو میں بھی آسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں سبسڈی ان لوگوں کو مل رہی ہے جو پہلے ہی طاقتور طبقہ ہے:وزیراعظم