tabdiq

تپ دق سے بچاؤاور احتیاطی تدابیر

EjazNews
dr gulam sidiqe

ہرسال مارچ کی 24 تاریخ کو دنیا بھر میں تپ دق کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد ٹی بی کے خطرے کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ ٹی بی ایک مہلک مگر قابل علاج وبائی جراثیمی بیماری ہے جو پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق مؤثر تشخیص اور علاج کے ذریعے 2000 اور 2016کے درمیانی عرصے میں 50کروڑ 30لاکھ جانیں بچائی گئیں۔ آج ٹی بی سے متعلقہ اموات لگ بھگ 2 فیصد سالانہ کی شرح سے کم ہو رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ٹی بی کا مرض دنیا بھر میں ہر روز 5 ہزار جانیں لے لیتا ہے۔ٹی بی کے خلاف عالمی دن 1882 ءمیں اسی روز ڈاکٹر رابرٹ کوچ کے اعلان کی مناسبت سے منایا جاتا ہے جس میں انہوں نے تپ دق کی وجہ تلاش کرنے کی بابت بتایا تھا۔ ان کی دریافت سے سائنس دانوں کو ٹی بی کی تشخیص اور علاج شروع کرنے میں مدد ملی۔ لیکن سائنس دانوں کی نمایاں کوششوں کے باوجود تاحال ٹی بی دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

زمانہ قدیم میں اس مرض کو دیوی دیوتاؤں کی ناراضگی اور مریض کےگناہوں اور غلطیوں سے تعبیر کیا جاتا تھا

یہ مرض ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں اموات کی بڑی وجہ بھی ہے جنہیں ایچ آئی وی سے محفوظ لوگوں کی نسبت اس اچھوت بیماری کا نشانہ بننے کا خدشہ 20 سے 30 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ ایڈز سے بچاؤ کے لیے امریکی صدر کے ہنگامی منصوبے کے ذریعے امریکہ ایچ آئی وی کے مریضوں میں ٹی بی کا پتا چلا کر اس بیماری کے خلاف کام کر رہا ہے اور 2017 میں دنیا بھر میں 250,000 طبی ماہرین کو تربیت دی گئی۔عالمی ادارہ صحت نے عالمی برادری کے لیے ایک پرعزم ہدف مقرر کیا ہے جس کی رو سے 2015 اور 2035 کے درمیان ٹی بی سے ہونے والی اموات میں 95 فیصد کمی لائی جائے گی اور اسی عرصہ میں اس بیماری کے نئے مریضوں کی تعداد 90 فیصد تک کم کی جائے گی۔
ٹیوبرکلوسس(ٹی بی) ، دقِ یا سل ایک قدیم ترین مرض ہے جو صدیوں تک بنی نوع انسان کے لئے نہ صرف صحت عامہ بلکہ سماجی واقتصادی مسئلہ بھی رہاہے۔ زمانہ قدیم میں اسے دیوی دیوتاؤں کی ناراضگی اور مریض کےگناہوں اور غلطیوں سے تعبیر کیا جاتا تھا۔اس بیماری کی قدیم ترین مثا ل فو سلزمیں ریڑھ کی ہڈی کے مہرہ کی ٹی بی آٹھ ہزار سال قبل پائی گئی۔ وسطی ایشیاء اور مصر میں حنوط شدہ اجسام کے مطالعہ سے پتہ چلاہے کہ ٹی بی نے بنی نوع انسان کو پانچ ہزار سال پہلے اپنی گرفت میں لیا۔ ہندوستانی لٹریچر میں ایک ہزار پانچ سو برس قبل اس بیماری کی شہادت ملتی ہے ۔ معروف سائنس دان رابرٹ کوک نے 1882ء میں پتہ لگایا کہ ٹی بی کی اصل وجہ ایک جراثیم ہے1921ء میں پیرس میں پہلی دفعہ حفاظتی ٹیکہ بی سی جی استعمال کیا گیا ۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرےتپ دق کی ادویات دریافت ہوتی گئیں اور اس پر پوری طرح قابو پایا گیا ۔1950سے 1990ء تک ٹی بی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی مگر ایچ آئی وی/ایڈز پھیلنے کے بعد اس کی شرح میں اچانک تشویشناک حد تک اضافہ ہوا اور چالیس برس کے بعد اس بیماری نے پھر سے سر اٹھایا
تپ دق (ٹی بی) ٹیوبر کلوسس بیکٹیریا مائکوبیکٹیریم ٹیوبر کلوسس کے ذریعہ پیدا ہونے والی ایک بیماری ہے ٹی بی دنیا کے ہر حصے میں موجود ہے۔ تاہم، ٹی بی کے مرٰیضوں کی بڑی تعداد جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں ہے۔ بیماری کے سب سے زیادہ متاثر چھ ممالک ، بھارت،پاکستان، انڈونیشیا، چین، نائیجریا، اور جنوبی افریقہ ہیں۔پاکستان میں تپ دق کے مریضوں میں ہر سال پانچ لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے پاکستان میں ہر سال 70 ہزار افراد ٹی بی کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔دنیا بھر میں تپ دق سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے جبکہ ملک میں ایسے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے جو اگرچہ تپ دق کے جراثیم کا شکار ہیں لیکن وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہیں۔ پاکستانی حکومت نے 2025ء تک ملک میں تپ دق سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں 90 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

تقریبا تمام مریضوں میں یہ مرض سانس کے راستے پہنچتا ہے۔ اسی لئے یہ سب سے پہلے انسان کے پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے

ٹی بی ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگنے والا چھوتی مرض ہے جو نسل انسانی کے لئے ہمیشہ سے ایک مسلہ رہا ہے۔ اس کا جرثومہ جسم کے بہت سے حصوں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں اکثر جراثیم کش ادویات کے خلاف مدافعت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرض مریض کے لئے وبال جان اور معالجین کے لئے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
یوں تو ٹی بی کا جراثیم پھیپھڑوں ، ہڈیوں ، آنتوں اور دماغ کی جھلیوں سمیت کئی دیگر اعضاء کو متاثر کر سکتا ہے مگر تقریبا تمام مریضوں میں یہ مرض سانس کے راستے پہنچتا ہے۔ اسی لئے یہ سب سے پہلے انسان کے پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی ، ٹی بی کی باقی تمام اقسام سے کہیں زیادہ پائی جاتی ہے۔
ٹی بی کی علامات ،دو ہفتے سے زیادہ کھانسی ،بہت زیادہ تھکاوٹ،رات کو پسینہ آنا،بھوک اور وزن کی کمی،کھانسی میں خون آنا،ہلکا بخار جو عموما شام کے وقت ہوتا ہے۔پھیپھڑوں کی ٹی بی میں سب سے نمایاں چیز کئی ہفتوں یا مہینوں تک چلنے والی کھانسی ہے ۔ یہ کھانسی عموما صبح اور شام کے وقت زیادہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ پیلے رنگ کا بلغم خارج ہوتا ہے جس میں بعض اوقات خون کے قطرے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔آنتوں کی ٹی بی میں مریض کو لمبے عرصے کے لئے قبض اور پیٹ میں درد کی شکایات ہوتی ہیں۔ہڈیوں کی ٹی بی عام طور پر کمر کے مہروں کو متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے کمر میں خم آ سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ کمر میں شدید درد کی شکایت بھی پائی جاتی ہے۔
کچھ لوگ علامات کے ظاہر ہوئے بغیر تپ دق سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسے پوشیدہ تپ دق کہا جاتا ہے۔ پوشیدہ تپ دق فعال بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ پوشیدہ تپ دق سے متاثر کچھ لوگ کبھی بیمار نہیں پڑتے ہیں۔ پوشیدہ تپ دق کے انفیکشنز سے متاثر لوگ اپنے آس پاس موجود لوگوں میں تپ دق کے بیکٹیریا نہیں پھیلاتے ہیں۔ پوشیدہ تپ دق سے متاثر لوگوں کا علاج اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اینٹی بایوٹکس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے کہ وہ بعد میں فعال تپ دق سے بیمار نہ پڑیں۔
ٹی بی جراثیم ہوا کے ذ ریعہ ایک شخص سے دوسرے میں سرایت کرتاہے جب ٹی بی کامریض چھینکتا، کھانستا یا تھوکتاہے تو جراثیم آس پاس ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں ایک دفع اگر مریض کھانسے تو جراثیم کئی گھنٹوں تک کمرے کی فضا میں معلق رہ سکتے ہیں جو افراد وہاں سانس لیتے ہیں ان کے بدن میں یہ جراثیم داخل ہوتے ہیں۔ ٹی بی جراثیم سانس کے ذریعہ پھیپھڑوں میں داخل ہوکرپھلتے پھولتے ہیں۔ وہاں سے وہ خون اور لمفاوی محلول کے ذریعہ جسم کے دوسرے حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔کسی کے پھیپھڑوں ، ناک یا گلے میں موجود جراثیم دوسرے فرد میں سرایت کرسکتے ہیں مگر جسم کے باقی حصوں میں موجود ٹی بی جراثیم ایک فرد سے دوسرے فرد میں سرایت نہیں کرتے ہیں ۔ یہ جراثیم اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ عام سرجیکل ماسک کے سوراخوں سے آرام سے گزر جاتے ہیں۔ ان کو ہوامیں پھیلنے سے روکنے کے لئے مریض کو ایک خاص قسم کے ماسکاستعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ٹی بی جراثیم اکثر لوگوں کے جسم میں داخل ہوتےہیں لیکن۔ کسی بھی عضو میں ان کی موجودگی کے رد عمل میں جسم کا مدافعتی نظام تیزی سے حرکت میں آتا ہے اور جراثیم کے ساتھ ساتھ ان انسانی خلیوں کو بھی نشانہ بناتا ہے جن میں یہ جراثیم چھپے ہوتے ہیں۔ جراثیم اور مدافعتی نظام کی یہ رسہ کشی اکثر غیر فیصلہ کن ہوتی ہے۔ جراثیم انفیکشن کے مرکز میں چھپے رہتے ہیں اور مدافعتی نظام ان کے گرد ایک دیوار سی بنا لیتا ہے۔ اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر انسان کی کمزوری کافائدہ اٹھاکر اس پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسےبیمارکرتے ہیں
تپ دق کا کامیابی سے علاج کیا جا سکتا ہے۔ فعال تپ دق سے متاثر لوگوں کا علاج اینٹی بایوٹکس اور دیگر ادویات کے ساتھ کیا جاتا ہے جو تپ دق کے بیکٹیریا کو ہلاک یا کنٹرول کرتے ہیں۔ علاج عام طور پر کئی ماہ تک جاری رہتا ہے۔ علاج کے دوران ایک ماہ میں ٹی بی کے جراثیم عام طور پر مر جاتے ہیں اور پھر یہ کھانسنے اور چھنیکنے سے منہ سے خارج نہیں ہوتے اور ایسے مریض مکمل علاج کے بعد اپنی اچھی زندگی گزار سکتے۔ ٹی بی کا علاج مکمل طور پر کروانا ضروری ہے کیونکہ اگر ٹی بی کا علاج نامکمل رہ جائے تو ٹی بی کی ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔حالیہ برسوں میں، تپ دق کے کچھ جراثیم اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعتی بن گئے ہیں۔ اسے ملٹی-ڈرگ-ریززٹینٹ ٹی بی کہا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی سبب مناسب علاج کی کمی،ادویات کا غلط استعمال،یا ناقص معیارکی ادویات کا استعمال ہے جن کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ ان مریضوں کا علاج مزید مشکل اور مہنگا ہوتا ہے، اور علاج کے سنگین ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں۔ چونکہ ڈرگ-ریززٹینٹ ٹیوبر کلوسس کا علاج انتہائی مشکل ہے، لہٰذا صورت حال کی روک تھام اہم ہے۔ 2014 میں، تقریبا 480,000 لوگوں میں MDR-TB پائی گئی تھی۔ روک تھام کے اقدامات میں یہ یقینی بنانا کہ تپ دق سے متاثر لوگ تجویز کردہ تمام ادویات لیں اور انہیں درست ادویات کے ساتھ علاج مہیا کیا جانا شامل ہے۔ٹی بی ڈاٹس ایک طریقہ علاج ہے جس میں مختلف ادویات کو ملا کر گولیوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے اور یہ ادویات 6-8 ماہ تک کسی کی زیرنگرانی دی جاتی ہے۔ ادویات کا باقاعدہ اندراج کر کے نتائج اخز کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ذہنی تنائو سے کیسے بچیں؟

جن گھروں میں تپ دق کے مریض ہوں انہیں الگ کمرے میں رکھنا ضروری ہے

BCGویکسین بہت سے ممالک میں قومی ویکسینیشن پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے۔ ویکسین پلمونری بیماری سے بچوں کی نہ صرف حفاظت کرتا ہے بلکے یہ بچوں میں کچھ سنگین پیچیدگیوں کی روک تھام بھی کرتا ہے ۔ ویکسین کو عام طور پر بالغوں میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ویکسین کو 1921 سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہت سے محققین ایک زیادہ مؤثر تپ دق ویکسین تیار کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ امید اس ویکسین کو تیار کرنے کی ہے جو کہ تپ دق سے ہونے والے انفیکشن کی روک تھام کر سکے، جس سے عالمی سطح پر بیماری کا بوجھ کم ہو جائے اور بیکٹیریا کی ترسیل بھی کم ہو جائے۔جن گھروں میں تپ دق کے مریض ہوں انہیں الگ کمرے میں رکھنا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا علاج شروع کروانا ضروری ہے ۔اگرچہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ایک چیلنج ہے تاہم ملک بھر میں تپ دق کے مرض کی تشخیص لیے کے 25 لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں جب تپ دق کے علاج کے سیکڑوں مراکز بھی کام کررہے ہیں ۔اس مرض کا علاج مہنگا ہے لیکن حکومت نیشل ٹی بی کنڑول پروگرام کے تحت عالمی ادارہ صحت اور گلوبل فنڈ کے تعاون سے تپ دق کے مریضوں کے لیے ادوایات بھی فراہم کر رہی ہیں۔
نیدر لینڈ کے تحقیقاتی ماہرین نے تپ دق (ٹی بی) کی تشخیص کا آسان طریقہ دریافت کرلیا جس کی مدد سے ہر سال ہزاروں بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جاسکتا ہے۔جو طریقہ دریافت کیاگیا ہے اس کے تحت مریضوں کو اپنے بلغم کا ٹیسٹ کروانا ہوگا، تھوک کے نمونے کو مشین میں ڈالا جائے گا تو تپ دق کی نوعیت اور حساسیت سامنے آجائے گی’اس ٹیسٹ کے ساتھ جہاں بیماری کا معلوم ہوگا وہیں ٹی بی کو روکنے میں بھی مدد مدد ملے گی، ایک وقت میں ہزاروں افراد کا آسانی سے ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے‘۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غربت، غذائی کمی، گندے گھروں میں رہنا اور صفائی کا انتظام نہ ہونا ٹی بی سمیت بہت سی بیماریوں کا آسان شکار بنا دیتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ایک تہائی ٹی بی کے مریضوں میں مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی، یا وہ علاج کی سہولیات سے محروم ہیں۔پہلے سے مختلف امراض جیسے ایڈز یا ذیابیطس کا شکار ہونا، اور طویل عرصے تک تمباکو نوشی اور شراب نوشی کا استعمال بھی اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ٹی بی کے مرض کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ متاثرہ اعضاء کو ناکارہ کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کے باقی حصوں میں بھی پھیل سکتا ہے جس سے اس کاعلاج بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پھیپھڑوں میں جگہ جگہ زخم بننے سے مریض کو باقی زندگی کے لیے سانس کی تکلیف لاحق ہو سکتی ہے۔
ٹی بی یا تپِ دق کی متعدد اقسام ایسی ہیں جن سے بیشتر دنیا ناواقف ہے- اور اسی لاعلمی کے باعث اکثر افراد ٹی بی مختلف اقسام کا نہ صرف شکار بن رہے ہیں بلکہ موت کے منہ میں بھی جارہے ہیں۔
دماغ کی ٹی بی سب سے خطرناک ٹی بی ہوتی ہے جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے- بی سی جی کے ٹیکے پھیپھڑوں کی ٹی بی سے تو 100 فیصد بچاتے ہیں لیکن دماغ کی ٹی بی سے یہ صرف 80 فیصد بچاتے ہیں“
دماغ کی ٹی بی بھی کھانسی نزلے اور ٹی بی کے مریض کے برتن استعمال کرنے سے پھیلتی ہے- چونکہ بچوں میں قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے اس لیے یہ ٹی بی بچوں میں عام ہے- اس ٹی بی میں بچے کو بخار رہتا ہےوہ کمزور ہونے لگتا ہے اور اگر اس ٹی بی کو کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ اس کے جراثیم دماغ میں داخل ہوجاتے ہیں“-اور پھر نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ بچہ سوتا رہتا ہے جاگتا ہی نہیں- اس کے بعد بچے کو جھٹکے لگنے لگتے ہیں اور وہ کومے میں چلا جاتا ہے- اگر بچے کا صحیح علاج نہ کیا جائے تو اس کا جسم اکڑ جاتا ہے“- اس ٹی بی تشخیص بھی خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کے ذریعے ہوتی ہے- لیکن لمبر پنکچر سے دماغ کی ٹی بی کی تشخیص میں کافی مدد ملتی ہے- لمبر پنکچر میں بچے کی ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالا جاتا ہے- دماغ کی ٹی بی کا علاج جلد از جلد کروانا چاہیے ورنہ موت واقع ہوسکتی ہے یا پھر معذوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے“-
آنتوں کی ٹی بی بھی ہوتی ہے- اس میں بھی مریض کمزور ہوتا جاتا ہے اور اسے یا تو ڈائیریا رہتا ہے یا پھر قبض- اگرچہ اس ٹی بی میں کھانسی نہیں ہوتی لیکن اسے بھوک بھی نہیں لگتی اور پیٹ میں درد رہتا ہے“-
اس ٹی بی کی تشخیص خون کے ٹیسٹ الٹرا ساؤنڈ یا ایکسرے کی مدد سے ہوتی ہے- اور اس ٹی بی کا علاج 1 سال تک جاری رہتا ہے“-
“ٹی بی ہڈیوں یا جوڑوں کی بھی ہوتی ہے- ہڈیوں کی ٹی بی میں مریض کے پیروں میں چلتے چلتے درد ہوتا ہے اور ایک پھوڑا بھی نکلتا ہے جس میں سے مواد خارج ہوتا رہتا ہے اور وہاں بھی درد ہوتا ہے“-اس ٹی بی کی علامات میں بھی بخارکمزوریوزن میں کمی بھوک کا نہ لگنا اور ٹھنڈے پسینے آنا شامل ہے- اس ٹی بی کی تشخیص ایکسرے اور پھوڑے سے نکلنے والے مواد کے ٹیسٹ سے ہوتی ہے- اس کا علاج طویل ہوتا ہے جو کہ 12 ماہ کا بھی ہوسکتا ہے اور 18 ماہ کا بھی- کبھی کبھی اس ٹی بی کی سرجری کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے“-ہڈیوں کی ٹی بی کے ساتھ جوڑوں کی ٹی بی بھی لاحق ہوجاتی ہے- اس ٹی بی کی علامات تو دوسری ٹی بی والی ہی ہوتی ہیں لیکن اس میں جوڑوں میں درد شروع ہوجاتا ہے اور ان میں سوجن آجاتی ہے“- اگر اس کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ سوجن بڑھ جاتی ہے اور جوڑ پر ایک پھوڑا سا بن جاتا ہے اور اس میں سے بھی مواد نکلتا ہے- اس ٹی بی کا علاج اگر صحیح طریقے سے نہ ہو تو جوڑ سخت ہوتے جاتے ہیں اور جُڑ جاتے ہیں اور پھر اس کا علاج صرف آپریشن کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے“-
جسم کے تمام غدودکی ٹی بی بھی ہوتی ہے جس میں جسم کے تمام غدود بڑھ جاتے ہیں- اس ٹی بی کی تشخیص کے لیے biopsy کی جاتی ہے- اس ٹی بی کا علاج 12 ماہ پر مشتمل ہوتا ہے

یہ بھی پڑھیں:  غذائیت کا مفہوم

ایک متوازن ومناسب غذالینے کی عادت ڈالیں۔باقاعدہ ورزش کریں۔کسی مریض کے ساتھ رہنا ضروری ہو تو ڈبل ماسک استعمال کریں۔

“ٹی بی گردوں کی بھی ہوتی ہے اور اس کی دیگر علامات تو ٹی بی کی دوسری اقسام کی مانند ہوتی ہیں لیکن اس میں اضافی چیز یہ ہوتی ہے کہ پیشاب کے ساتھ خون آتا ہے اور گردوں میں درد رہتا ہے“
۔ٹی بی کی بیماری اور اسکی ادویات دونوں ہی حمل کیلئے نقصان دہ نہیں ہیں۔ ٹی بی کیلئے مخصوص انجکشن کے علاوہ تمام ادویات لی جا سکتی ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دوران حمل علاج نہ کروانا، علاج لیٹ شروع کروانا یا پھر حمل کے خوف سے علاج ادھورا چھوڑ دینا زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے،ٹی بی کی مریضہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں۔ ٹی بی کے جراثیم ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کو نہیں پہنچتے۔ اس لیے دودھ پلانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ماں کا دودھ تو جسم میں قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ البتہ ضروری ہے کہ دودھ پلاتے وقت وہ اپنا منہ دوپٹے سے ڈھانپ لے۔ تاکہ سانس کے ذریعے یہ جراثیم بچے میں منتقل نہ ہوں۔
احتیاطی تدابیر
اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکہ بی سی جی ضرور لگوائیں۔صحت عامہ کے بنیادی اصولوں پر عمل کریں۔دو ہفتے سے زیادہ کھانسی ہو تو ماہر معالج سے مشورہ کریں۔پنی غذا میں تازہ سبزیاں اور میوہ جات شامل کریں۔
ایک متوازن ومناسب غذالینے کی عادت ڈالیں۔باقاعدہ ورزش کریں۔کسی مریض کے ساتھ رہنا ضروری ہو تو ڈبل ماسک استعمال کریں۔اپنے شوگر کو کنٹرول میں رکھیں۔ٹی بی بیماری کی تشخیص کے بعد ادویات کا پورا ڈوز لے لیں۔سگریٹ نوشی ، تمباکو نوشی اور شراب نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔نشہ آور ادویات کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ایک منظم ،مرتب اور پاکیزہ طرزِ زندگی اختیار کریں۔تشخیص کے بعد مریض کا علاج فوراً شروع کر دینا چاہیے تاکہ جراثیموں کے پھیلائو کو فوراً روکا جا سکے۔ یہی طریقہ ہے جو دوسروں کو بیماری لگانے سے روک سکتا ہے۔ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ کو رومال یا ٹشو سے ڈھانپ لیا جائے۔ جگہ جگہ تھوکنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مریض کے کپڑے، بستر، چادر اور رومال وغیرہ کو گرم پانی سے دھو کر دھوپ میں خشک کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  فیٹی لیور ڈیزیز
کیٹاگری میں : صحت