23مارچ 1940ء ایک عہد کی تکمیل

EjazNews

یوم پاکستان ہمیں پھر اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہم نے تہیہ کیا تھا کہ ہم اپنے لئے ایک الگ وطن بنائیں گے جس میں ہمیں آزادی حاصل ہوگی اور جس میں ہم اپنی مرضی و خواہش کے مطابق زندگی بسر کرتے ہوئے اپنی تہذیب و ثقافت کو فروغ دیں گے یہ اسی عزم محکم کا نتیجہ تھا کہ ہم بالآخر آزادی حاصل کر کے رہے۔پاکستان جدو جہد، ہمت و استقلال اور قربانیوں کا عظیم شاہکار ہے اور جس قدر کوئی قوم قربانی پیش کرتی ہے اتنی وہ زیادہ سرخرو اور کامران ہوتی ہے۔
1885ء میں انگریز لارڈ ہیوم نے ایک سیاسی جماعت آل انڈیا نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی ۔ ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر سب اس کے ممبر بن گئے اور مسلم قائدین بھی اس میں شریک ہوگئے تاکہ مسلمانوں کے حقوق کی نگہداشت کر سکیں۔1905ء میں لارڈ کرزن نے انتظامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس وقت کی اس کی آبادی ساڑھے سات کروڑ تھی اس ایک صوبے میں آسام، بنگال، اڑیسہ، پٹنہ اور بہار کے علاقے شامل تھے۔ لیکن یہ تقسیم کچھ ایسے وجود میں آئی کہ مسلمانوں کی اکثریت کا صوبہ وجود میں آگیا ۔ ہندو قائدین نے اس کے خلاف بہت بڑا طوفان سرپہ اٹھایا تو انگریز نے ہندوؤں کی خوشنوی حاصل کرنے کیلئے تقسیم بنگال کو منسوخ کر دیا۔ تقسیم تو منسوخ ہو گئی لیکن ہندوؤں نے اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ ہندوستان میں ایک قوم نہیں ہے اور کانگریس تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ ’’مسلمان کو مسلمان کر دیا ہندو چیرہ دستی نے‘‘۔
اس لئے مسلم قائدین نے 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ یہ مسلمانوں کا الگ پلیٹ فارم تھا جس میں رفتہ رفتہ مسلمان قائدین شامل ہونے لگے۔ یہ امر مسلمہ تھا کہ انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کے لئے ہندو مشترکہ جدوجہد کی ضرورت تھی۔ لیکن ہندو اپنی اکثریت کے نشے میں مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کو تیار نہ تھا جب تک کانگریس اعتدال پسند رہنما چھائے رہے۔تو انہوںنے صرف مسلم رہنمائوں کے ساتھ معقول رویہ اختیار کئے رکھا بلکہ قائداعظم کی خواہش پر دونوں کے اجلاس بھی ایک جگہ ہونے لگے اور دونوں جماعتوں کے رہنما باہمی صلاح مشورے میں شریک ہونے لگے۔ یہ اعتدال پسندی کا نتیجہ تھا کہ معاہدہ لکھنو وجود میں آیا۔ جس میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو مرکز میں 1/3 حصہ نمائندگی دینے اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تسلیم کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:  زراعت صرف توجہ کی طلبگار ہے

1929ء میں نہرو رپورٹ پیش کی گئی وہ ہندو تعصب کی منہ بولتی تصویر تھی

مسلمانوں نے اس اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے بڑی محنت و کاوش کی۔ یہاں تک کہ ہندوؤں کو اپنی مسجدوں میں بھی آنے کی اجازت دے دی اور گاندھی جیسے کٹر ہندو کو علی برادران کندھوں پہ اٹھا کے مسجد میں لے آئے۔ 1929ء میں نہرو رپورٹ پیش کی گئی وہ ہندو تعصب کی منہ بولتی تصویر تھی۔ یہی وہ رپورٹ ہے جس نے مسلمانوں اور ہندووں کو دو راہوں پر ڈال دیا۔ مولانا محمد علی جوہر نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اب ہندوؤں کے ساتھ ہمارا مل کر چلنا محال ہے ‘‘ اس کے جواب میں قائداعظم نے ہندو مسلم اتحاد کی آخری کوشش کے طورپر اپنے چودہ نکات پیش کئے لیکن ہندوؤں نے اپنی اکثریت کی بنا پر ان کو نہ مانا جب ہندوؤں نے ان نکات کو تسلیم نہ کیا تو قدرتی طور پر مسلمانوں کے لئے علیحدگی کے سوا اور کوئی راستہ نہ رہا۔ یہی وہ دور ہے کہ جب مسلمانوں نے حقیقی طور پر علیحدگی کے بارے میں سوچنا شروع کیا اس علیحدگی کی سوچ کا سب سے پہلے باقاعدہ اظہار حضرت علامہ اقبالؒ نے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس الہ آباد کےجلسے میں 1930ء میں کیا۔ جو تاریخ میں خطبہ الہ آبادکے نام سے مشہور ہوا، اسی خطبے کی روشنی میں برطانیہ میں زیر تعلیم طالب علم رحمت علی نے پاکستان کا نام تجویز کیا ۔ 1937ء میں جب کانگریسی وزارتیں قائم ہوئیں اور مسلمانوں کیخلاف ہندوستان میں فسادات شروع ہو گئے تو جو مسلمان ان میں شامل تھے وہ بھی مسلمانوں کے قتل عام کو نہ رکوا سکے بلکہ بھیگی بلی بنے دفتروں میں بیٹھے رہے۔ یاد رہے یہ دور مولانا ابوالکلام آزاد کی کانگریس صدارت کا دور تھا، مسلمانوں کے اس قتل پر اگر کوئی آواز بلند کرتی رہی تو وہ مسلم لیگ تھی۔
ایک مرتبہ پنڈت جواہر لال نہرو نے علامہ اقبال سے ملاقات کے دوران شکایت کی کہ مسٹر جناح بہت سخت آدمی ہیں ان سے مذاکرات کرنا سر پھوڑنے کے برابر ہے کیوں نہ ہم دونوں ہندو مسلم مسائل حل کرنے کے لئے آپس میں مذاکرات کریں اور پھر کوئی معاہدہ کر لیں ؟ اقبال نے یہ کہہ کر پنڈت نہر و کی امیدوں پرپانی پھیر دیا کہ ’’مسٹرجناح پوری قوم کے جرنیل ہیں اور میں ان کا ایک سپاہی ہوں۔‘‘
قائداعظم میدان سیاست کے جرنیل تھے۔ 1937ء میں مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنادیا، رکنیت فیس صرف دو آنے کر دی تاکہ غریب عوام جن کی بہت بڑی اکثریت تھی وہ بھی اس جدوجہد آزادی میں حصہ لے سکیں۔ 31جنوری 1938 ء کو دہلی میں مسلم لیگ نے اپنا خاص اجلاس طلب کیا اور اس کی اپیل پر 18فروری کو ملک گیر پیمانے پر مسجد شہید گنج منایا گیا جس سے مسلم لیگ کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا۔
اس دور کے دو واقعات ایسے ہیں جنہوں نے جدوجہد آزادی میں دور رس نتائج مرتب کئے ،ان میں سے ایک علامہ اقبالؒ کا خطبہ الٰہ آباد اور دوسرا چوہدری رحمت علی کا شمال مغربی علاقے کو پاکستان کا نام دینا۔ انگریزوں نے ہندوستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔دسمبر 1930ء میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد میں ہوا جس کی صدارت علامہ اقبال نے کی۔ علامہ اقبال نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا:
’’میری یہ خواہش ہے کہ پنجاب، شمال مغربی سرحد، صوبہ سندھ اور بلوچستان کے حق خود ارادیت کے تحت ایک مسلم ریاست بنا دیا جائے۔ یہ ریاست خواہ تاج برطانیہ کے تحت ہو یا آزاد اسے اندرونی خود مختاری حاصل ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  قطب مینارکس کی ملکیت ہے ؟، پہلے بھی سوال اٹھ چکے ہیں ؟

قومیت کی تعریف چاہے جس طرح کی جائے مسلمان اس تعریف کی روسے ایک الگ قوم کی حیثیت رکھت

ان خیالات نے مسلمانو ں کو جو اب تک آئینی تحفظات کی بات کرتے تھے انہیں ہندوستان کے مسئلے کا ایک اور حل دے دیا جس پر غور وفکر ہونے لگی ،اسی زمانے میں چوہدری رحمت علی کیمرج میں زیر تعلیم تھے انہوں نے ایک پمفلٹ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘ شائع کیا۔ جس میں تمام ہندوستان کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا اور اس شمال مغربی ہندوستان کو ’’پاکستان‘‘کا نام دیا گیا۔ گو اس وقت سیاسی قائدین نے اول الذکر کو ’’شاعرانہ خیال‘‘ اور آخر الذکر کو ’’طالب علم کی تجویز‘‘ قرار دیا۔ لیکن جب کانگریسی وزارتوں کی بنا پر یہاں کے مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہو گئی تو انہوں نے انہی لائنوں پر سوچنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ 23مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لاہور میںقرار داد لاہور پاس کی گئی جس کا مقصد مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا حصول تھا۔ اگر ہم تاریخ عالم کا بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام دنیا کے سیاسی و معاشرتی حالات ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں ،مثال کے طور پر اگر مغرب میں ابتدامیں شہری ریاستیں تھیں تو ہندوستان میں بھی ہمیں شہری ریاستوں کا وجود ملتا ہے اور یہ ریاستیں ہندو راجائوں کی تھیں۔ سولہویں صدی عیسوی میں مغرب میں حکومت کا حق ربانی عروج پر تھا تو ہندوستان میں اکبر بادشاہ ’’ظل سبحانی‘‘ بنا ہواتھا اس طرح جب یورپ جے ایس مل کے نظریہ حق خود ارادیت کے تحت تقسیم ہوا تو اس کا اثر ہندوستان پر پڑنا ضروری تھا۔ قائداعظم جو مغرب کے تعلیم یافتہ تھے انہوں نے اس نظریے کو اپناتے ہوئے انگریزوں اور ہندوئوں سےسیاسی جنگ لڑی۔ اب ضروری یہ تھا کہ ہندی مسلمانوں کو ایک قوم ثابت کیا جائے یہی وجہ ہے کہ آپ کا آئندہ کا تمام زور بیان اسی چیز کو ثابت کرنے پر ہے اور ہندو قائدین اپنا تمام زور اس حقیقت کو رد کرنے پر لگا رہے ہیں چنانچہ ہم قائداعظم کی آئندہ تمام تقریروں کو یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے پاتے ہیں کہ مسلمانان ہند ایک قوم ہیں ہم یہاں پر ان کی تقریر سے چند جملے پیش کرتے ہیں جن میں وہ اس حقیقت پر زور دیتے ہیں ،آپؒ نے فرمایا:
’’قومیت کی تعریف چاہے جس طرح کی جائے مسلمان اس تعریف کی روسے ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں ان کی الگ مملکت اور اپنی جداگانہ خود مختار ریاست ہو ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر ہم ایک آزاد قوم بن کر اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہم آہنگی ، امن و امان کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ ‘‘(23مارچ 1940ء)
3جون 1947ء کو تقسیم ہند کے منصوبے کااعلان ہوا۔ قائداعظم نے بساط سیاست پر چومکھی لڑائی لڑی، برطانیہ اور کانگریس کے بہترین دماغوں کو شکست دی اور پاکستان حاصل کیا۔ 14اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پروفیسر فواد سزگین، ترکی میں2019ء کا سال ان کا ہے