وزیراعظم عمران خان اور مہاتیر محمد کی بزنس کانفرنس میں تقاریر

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا دورئہ پاکستان باعث مسرت ہے۔ پاکستان کا ہرشہری ڈاکٹر مہاتیر محمد کے قائدانہ کردار کا معترف ہے، ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنے ملک میں بڑی تبدیلی لائے، انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی ترقی اسلامی دنیا کے لئے روشن مثال ہے، مہاتیر محمد کی قیادت میں ملائیشیا نے ود کفالت حاصل کی مجھے یقین ہے کہ آپ کی تقریر سن کر آپ کے لئے ہمارے دل میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ پاکستان اور ملائیشیا تجارتی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے پاکستان برادر اسلامی ملک کے تجربے سے استفادے کا خواہاں ہے۔
بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ بڑے کاروباری وفد کے ہمراہ آنے کا مقصد دونوں ممالک میں بزنس پارٹنر شپ بڑھانا ہے۔ آزادی کے وقت ملائیشیا وسائل کے باوجود ایک غریب ملک تھا، ابتدائی طور پر ہم نے زرعی اصلاحات کے ذریعے کامیابیاں حاصل کیں، ترقی کے لئے صرف زراعت نہیں بلکہ انڈسٹریز کی ترقی لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کاری کے ذریعے ملازمت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ، کامیابی کے لئے سرمایہ کاروں کو ترجیحی بنیادپر سہولتیں دی گئیں۔ ملائیشیا کی کامیابی کا بڑا سبب غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری ہے۔
مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ دورے کا مقصد بہتر تعلقات صرف نہیںبلکہ کاروباری روابط بڑھانا ہے، بزنس کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، تاجروں کے لئے اشتراک کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہیں، اس طرح کی کانفرنسز ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے امن و امان میں استحکام ضرور ی ہے، امن و استحکام نہیں ہوگا تو کوئی بھی سرمایہ کاری نہیں کرےگا ، عوام کے پاس روزگار ہو گا تو وہ حکومت کوٹیکس ادا کر سکیں گے، تعلیم اور کفایت شعاری کے ذریعے قومیں ترقی کرتی ہیں، پیسہ حکومت نہیں عوام اور سرمایہ کار کے ذریعے بنایا جاتا ہے، سرمایہ کاروں اور عوام کیلئے بہتر ماحول کی فراہمی حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہودیوں کے خلاف نہیں مگر اسرائیل کو ملائیشیا نے تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیلی نے کسی اور کی زمین پر قبضہ کیا ہے اس لئے اس کے خلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر-2020 چوتھے جینیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے:وزیراعظم عمران خان