mofti

مفتی تقی عثمانی خیریت سے ہیں

EjazNews

27اکتوبر 1943ء کو اتر پردیشن کے ضلع سہارنپور کے قصبہ دیو بند میں پیدا ہونے والے مفتی محمد تقی عثمانی مشہور عالم دین اور پاکستان میں چوٹی کے علماء میں سے ایک ہیں۔ ان کا شمار عالم اسلام کے جید علماء میں سے ہوتا ہے۔ بطور جج خدمات دے چکے ہیں۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم ہیں۔ آٹھ اسلامی بینکوں میں بحیثیت مشیر کام کررہے ہیں۔ بینکو ں کے پاس اسلامی بینکنگ کے لیے زیادہ تر فتوے تقی عثمانی کے ہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹرز اور جامعہ کراچی سے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ آپ کے والد مفتی محمد شفیع عثمانی بھی ملک کے جید علماء میں سے ایک تھے۔
کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر نماز جمعہ سے کچھ دیر قبل 2موٹر سائیکلوں پر سوار 4ملزمان نے گاڑیوں پراندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ایک گاڑی میں مفتی تقی عثمانی اپنی اہلیہ اور دو پوتوں کے ہمراہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جارہے تھے ۔جبکہ دوسری گاڑی میں مولانا عامر شہاب اللہ موجود تھے ۔
سانحہ میں مفتی شہاب کے بیٹے مولانا عامر شہاب اللہ شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ موجود سی ٹی ڈی گارڈ صنوبر خان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیاتھا۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چاروں طرف سے اندھا دھند فائرنگ ہو رہی تھی اللہ کو ان کی زندگی منظور تھی سو وہ محفوظ رہے۔ مولانا تقی عثمانی کا ڈرائیور بھی شدید زخمی ہوا۔ پولیس نے گولیوں کے خول جمع کر لیے ہیں۔
اس سے پہلے مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تھا، اب مولانا مفتی پر حملہ بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کیا کر رہی ہیں۔ مولانا سمیع الحق جیسے جید عالم کے قاتلوں کو ہم آج تک گرفتار نہیں کر سکے قاتل زمین سے اُ گ کر زمین میں دھنس نہیں گیا وہ کہیں نہ کہیں پر ہے جس کا سراغ اگر لگا لیا جاتا تو شاید اگلے واقعات کو روکا جاسکتا تھا اب یہ کیس بھی ایسا ہی جب ہمارے ملک میں غیر ملکی مہمان آرہے ہیں ، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں حالات کو سنبھالا دیا جائے اور بہتری کی طرف بڑھا جائے لیکن کیا ایسے واقعات سے بہتری کی طرف جایا جاسکتا ہے۔ کیا ملائیشیا کے وزیراعظم نے یہ خبرسنی یا پڑھی نہیں ہوگی کیا ان کے وفد سمیت پوری دنیا میں یہ خبر پھیلی نہیں ہوگی۔
اس کیس کو اگر ٹیسٹ کیس بنا لیا جائے اور تندھی سے اس کیس پر محنت کر کے مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے تو آنے والی مشکلات سے بچا جاسکتا ہے، مجرم کوئی بھی ہو ، کہیں سے بھی اس کا تعلق نکلے اگر سزا مل جائے تو جرم رک سکتے ہیں، ان میں کمی آسکتی ہے۔ لیکن مجرموں کو پکڑیں تو سہی ۔
اس واقع پر صدر پاکستان، وزیراعظم، وزیر اطلاعات ،وزیراعلیٰ سندھ سمیت اور بہت سی حکومت شخصیات نے اظہار افسوس کیا ہے اور ایسا ہی افسو س کا اظہار مولانا سمیع الحق کی شہادت کے موقع پر بھی کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان کے مسائل پر بلایا گیا تھا :مریم نواز\ ایک نہیں 2 ملاقاتیں ہوئی ہیں:شیخ رشید